Wednesday , September 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / مساجد کو اسلام میں اہمیت و عظمت حاصل

مساجد کو اسلام میں اہمیت و عظمت حاصل

اللہ تعالیٰ نے انسا نوں اور جنوں کو اپنی عبا دت کے لئے پیدا فر ما یا ،ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور میں نے جنات اور انسا نوں کوصرف اسی لیے پیدا کیاکہ وہ میری بندگی کریں‘‘(قرآن) عبادت کے طریقے بھی بتا ئے اور عبادت خا نہ کی جگہ بتا ئی گر چہ امت محمدی میں ہر پاک وصاف جگہ میںنماز ادا کی جاسکتی ہے پھر بھی اللہ نے عبادت کیلئے مسجد کو بہتر فر مایا۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فر مایا۔ اللہ تعالیٰ کو سب جگہ سے زیادہ محبوب مسجدیں ہیں اور سب سے مبغوض(قابل نفرت) بازار ہیں(صحیح مسلم)اور اس محبوب جگہ کو کون آباد کرے گا اسکی بھی نشاندہی فرمائی: مسجدیں وہی آباد کر تے ہیں، جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور نماز قا ئم کی اور ز کوٰۃ دی اور خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرے، بے شک وہ راہ پانے والوں میں سے ہوں گے،(سورۂ توبہ)
قرآن واحا دیث میں مسجد کی فضیلت و اہمیت اور احکام بہت تفصیل سے بیان ہو ئے ہیں۔ مشہور مفسر قرآن حضرت امام رازی رحمۃاللہ علیہ نے سورہ تو بہ۹،کی آیت ۱۱۸ کی تفسیر میں فر ما تے ہیں کہ تعمیر کے خواہاں وذمہ دار کمیٹی والوںکے لیے کم ازکم ان خو بیوں کا ہونا ضروری قرار دیا ہے: (۱)اللہ اور آخرت پرایمان (۲)نماز کا اہتمام یعنی نماز کی پا بندی کرنا( ۳)ادائیگی زکوٰۃ کا اہتمام کرنا (۴)صرٖف اور صرف اللہ کا خوف رکھنا۔ نماز کے اہتمام سے مسجد کی رونق بڑھتی ہے ۔ متولی،اور صدر و سکریٹری کا عالم با عمل ہو نا ضرو ری ہے،اگر میسر نہ ہو سکے تو کم از کم صوم وصلوٰۃ کاپا بند ہونا، بااخلاق اوراہل علم کی تعظیم کر نے والا ہو نا چا ہیے۔ اللہ کی عبا دت کیلئے مسلما نوں کیلئے جو جگہ بنا ئی جاتی ہے اس کو مسجد کہتے ہیں، مسجد کا لغوی مطلب ہے سجدہ کرنے کی جگہ ار دو سمیت مسلمانوں کی اکثر زبانوں میںیہی لفظ استعمال ہو تا ہے انگر یزی اور یور پی زبانوں میں اس کیلئے MOSQUE کا لفظ استعمال کر تے ہیں مساجد مسلما نوں کے مذہبی مرا کزہیں اللہ رب ا لعزت کے یہاں بھی مسجد کو دوسرے مقامات کی بنسبت بر تری حاصل ہے جو عام جگہوں کو حاصل نہیں اوپر حدیث گزرچکی ہے۔ اسی لئے اسلام میں مسا جد کو بہت زیادہ اہمیت اور عظمت حاصل ہے۔مسجد میں جانے ، عبادت کر نے اور مسجد سے واپس لوٹنے پر شریعت نے آداب معین کئے ہیں جن کا ہمیں خاص خیال رکھنا چاہیے ۔ حافظ محمد ہاشم قادری

TOPPOPULARRECENT