مساجد کی حفاظت تمام مسلمانوں پر فرض ، بابری مسجد شہادت کا غم برقرار

متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی خواتین کا جلسہ احتجاج ، سرکردہ خواتین کا خطاب

متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی خواتین کا جلسہ احتجاج ، سرکردہ خواتین کا خطاب
حیدرآباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( پریس نوٹ ) : متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی برائے خواتین کی جانب سے خواتین و طالبات کے لیے ایک جلسہ احتجاج بعنوان ’ یوم شہادت بابری مسجد ‘ 6 دسمبر کو 11 بجے دن خواجہ منشن فنکشن ہال مانصاحب ٹینک پر منعقد ہوا ۔ محترمہ شمیم فاطمہ رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی کے درس قرآن سے جلسہ احتجاج کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے سورہ توبہ کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسجدیں اللہ کی نشانیاں ہیں ۔ اس کی حفاظت تمام مسلمانوں پر فرض ہے اور مسجد کی رکھوالی کرنے والے ایمان والے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے مسجد کو آباد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب مسجدیں آباد ہوں گی تو دشمن کی کیا مجال ہے کہ اس کو نقصان پہنچا سکیں ۔ ڈاکٹر تسنیم احمد رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے مسجد کی اہمیت پر کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے فوراً بعد سب سے پہلا کام جو کیا وہ مسجد کی تعمیر تھا ۔ مسجدیں صرف نماز کے لیے نہیں بلکہ یہ ایک مجلس ، ایک یونیورسٹی ، ایک اسمبلی تھی جہاں مجلس شوریٰ اور انتظامیہ کے اجلاس منعقد ہوتے تھے ۔ محترمہ میمونہ سلطانہ رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے مسجد کے تقدس پر جلسہ احتجاج میں کہا کہ مساجد صرف اللہ کی عبادت کے لیے ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان صرف اور صرف اپنی کاہلی ، سستی اور بے حسی کی وجہ سے بابری مسجد کے متعلق اپنے بچوں میں شعور کو نہ بلند کرسکے ۔ محترمہ روحی خاں رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے کہا کہ آج کے دن بابری مسجد کی شہادت کے ساتھ ساتھ ہمیں ان عظیم اور معصوم ہستیوں کی شہادت کو بھی یاد کرنا ہے جنہوں نے ایسے نازک وقت میں بے خوف و خطر ملت کی بقاء کے لیے اپنا خون بہایا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مائیں اس وقت تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں جب تک کہ بابری مسجد دوبارہ ہمیں حاصل نہ ہوجائے ۔ محترمہ رقیہ فرزانہ نائب صدر جمعیت النساء اسلامی نے کہا کہ شہید بابری مسجد کا غم آج 22 سال بعد بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہے ۔ آج کے اس غم و ملال کے دن ہم پھر ایک بار پختہ عزم کریں کہ اپنی زندگی کی بھر پور توانائیوں و صلاحیتوں کو اللہ کی رضا اور ملت اسلامیہ ہند کی بقا کے لیے لگادیں ۔ پروفیسر جمیل النساء نے اپنے صدارتی کلمات میں تاریخ بابری مسجد پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے بابری مسجد کا سانحہ رستا ہوا زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہوسکتا ۔ بابری مسجد کی شہادت کوئی مجنونانہ حرکت نہیں بلکہ باضابطہ دشمنان اسلام نے کافی منصوبہ بند اور منظم طریقہ سے اسے ڈھایا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی نسلوں کو تاریخ بابری مسجد سے واقف کروائیں ۔ ڈاکٹر اسماء زہرا رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جلسہ احتجاج میں کہا کہ جو کوشش تقویٰ کی بنیاد پرنہ ہو وہ جہنم کی طرف لے جانے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت ایک ظلم ہے ۔ بابری مسجد گرا کر ایک قوم کو اپنی فتح کا احساس دلانا ہی دشمنان اسلام کا مقصد تھا ۔ ڈاکٹر عائشہ جبین رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت نے ملت اسلامیہ ہند کی بنیادیں 22 سال قبل ہلادیں ۔ اور سیکولرازم و جمہوریت کا خون کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ مائیں صرف دنیاوی معاملات میں مردوں کے قدم سے قدم نہ ملائیں بلکہ دینی و ملی امور میں بھی مردوں کے قدم سے قدم ملا کر اپنی نسلوں کو اسلامی تربیت و اخلاق سے آراستہ کریں ، اپنے بچوں کو انبیاء صدیقین ، شہدا اور اسلاف کے تعلیمات سے واقف کروائیں اور صبر و استقامت کے ساتھ انہیں ایثار و قربانی کی راہ پر گامزن ہونے کی تلقین کریں سینکڑوں خواتین و طالبات نے اس جلسہ میں شرکت کیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT