Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / مسافر کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں، ریلوے ٹیرف اتھاریٹی کا قیام

مسافر کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں، ریلوے ٹیرف اتھاریٹی کا قیام

v مال برداری کی موجودہ شرحیں برقرار v 17 نئی اے سی ’جئے ہند‘ ، 39 ایکسپریس اور 10 پاسنجر ٹرینوں کا آغاز v ریلوے میں خانگی اور غیرملکی راست سرمایہ کاری کی تجویز v تیز رفتار ٹرینس متعارف v وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے کی جانب سے عبوری ریلوے بجٹ پیش v بجٹ تقریر کے دوران آندھراپردیش ارکان پارلیمنٹ کا نامناسب طرز عمل

v مال برداری کی موجودہ شرحیں برقرار
v 17 نئی اے سی ’جئے ہند‘ ، 39 ایکسپریس اور 10 پاسنجر ٹرینوں کا آغاز
v ریلوے میں خانگی اور غیرملکی راست سرمایہ کاری کی تجویز
v تیز رفتار ٹرینس متعارف
v وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے کی جانب سے عبوری ریلوے بجٹ پیش
v بجٹ تقریر کے دوران آندھراپردیش ارکان پارلیمنٹ کا نامناسب طرز عمل
v چار وزراء تلنگانہ مسئلہ پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے
نئی دہلی ۔ 12 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) یو پی اے
II حکومت کا آج آخری عبوری ریلوے بجٹ لوک سبھا میں پیش کیا گیا۔ وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے نے راغب کرنے والے اعلانات اور قدیم فارمولے سے گریز کرتے ہوئے مسافرین پر کوئی نیا بوجھ عائد نہیں کیا۔ انہوں نے مسافرین کے کرایوں میں کمی بھی نہیں کی اور کئی نئے پراجکٹس کا اعلان کیا۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اس وقت ریلوے کی آمدنی کم ہوتی جارہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ بڑھتے مصارف اور مسافرین سے ہونے والی آمدنی میں کمی ہے۔ توقع کے مطابق کھرگے نے اپنی تقریر کے دوران یو پی اے II کے 5 سال کے دوران ریلوے کی ترقی کا احاطہ کیا۔ انہوں نے مزید تیز رفتار ٹرینس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس کے علاوہ ویٹنگ مسافرین کو آٹومیٹک ایس ایم ایس سرویس فراہم کی جائے گی۔ مسافرین آن لائن کھانے کی بکنگ بھی کراسکتے ہیں۔ ملکارجن کھرگے نے 4 ماہ کیلئے یہ عبوری بجٹ پیش کیا، جس میں انہوں نے آزادانہ ریل ٹیرف اتھاریٹی کے قیام کا اعلان کیا جس کا مقصد کرایوں کو معقولیت پسند بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایرلائنس کی طرز پر ڈائنمک پرائزنگ آف ٹکٹس کو وسعت دینے کی بھی تجویز ہے۔ 17 نئی پریمیم ٹرینس، 39 ایکسپریس ٹرینس اور 10 پاسنجر ٹرینس آئندہ سال شروع کی جائیں گی۔ دہلی اور ممبئی کے مابین پریمیئم اے سی اسپیشل ٹرین کی کامیابی سے حوصلہ پاکر ریلویز نے مصروف راستوں پر اسی طرح کی 17 ٹرینس ’’جئے ہند‘‘ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کی رفتار راجدھانی سے زیادہ ہوگی اور یہ چند اسٹیشن پر توقف کرے گی۔ سفر کے وقت کو کم کرتے ہوئے پیشہ ور افراد اور ضرورتمندوں کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ان ٹرینوں کے ٹکٹس ایئرلائنس کی طرز پر ڈائنمک فیر میکانزم اسکیم کے تحت بک کئے جائیں گے۔ اڈوانسڈ ریزرویشن کی میعاد ابتداء میں صرف 15 دن ہوگی۔ مسافرین نے اس میکانزم کی کافی سراہنا کی تھی۔ وزیر ریلوے ملکارجن کھرگے نے عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرینس ہفتہ میں ایک یا دو بار چلائی جائیں گی اور ہوڑہ ۔ پونے، ممبئی ۔ پٹنہ ۔ نظام الدین ۔ مڈگاؤں، احمد ۔ دہلی روٹس کا احاطہ کیا جائے گا۔اس کے علاوہ مزید تیز رفتار ٹرینیں شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ منتخبہ روٹس پر 160 تا 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرینس چلانے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے شرح مال برداری کو بھی جوں کا توں برقرار رکھا اور کہا کہ اس میں اضافہ کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ سالانہ ریل منصوبہ 64,305 کروڑ روپئے کا ہے جس میں 30,223 کروڑ روپئے موازناتی مدد حاصل رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ رقم کی قلت کا شکار ریلوے کیلئے وسائل متحرک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے میں خانگی شعبہ کی شراکت داری کے ذریعہ سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ خانگی سرمایہ کاری اور اندرون ملک سرمایہ کاری کے علاوہ حکومت راست غیرملکی سرمایہ کاری کے امکانات پر بھی غور کررہی ہے۔ کھرگے نے کہا کہ خانگی شراکت داری اور سرکاری ۔ خانگی شراکت داری کے منصوبے بھی عنقریب متعارف کروائے جائیں گے۔ پیداواری شعبوں، ریلوے اسٹیشنوں کی جدیدکاری، کثیر جہتی عمارتوں کی تعمیر، باغات کا قیام، خانگی مال برداری ٹرمنلس کا قیام، مال گاڑیوں کی کارکردگی، ویگنوں میں فراخدلانہ سرمایہ کاری کی اسکیمیں اور مال برداری کی خصوصی راہداریوں پر بھی حکومت غور کررہی ہے۔ ریل لینڈ ترقیاتی اتھاریٹی کا نشانہ ایک ہزار کروڑ روپئے چیلنج سے بھرپور ہے اور 937 کروڑ روپئے پہلے ہی حاصل کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کرناٹک، جھارکھنڈ، آندھراپردیش اور ہریانہ کی حکومتوں نے کئی ریل پراجکٹس کی لاگت میں شراکت داری سے اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے دیگر ریاستی حکومتوں نے بھی اپیل کی کہ ان کے متعلقہ علاقوں میں ریل خدمات کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے سلسلہ میں مذکورہ ریاستوں کی تقلید کریں۔علاوہ ازیں محکمہ ریلوے کم قیمتی متبادل طریقوں پر بھی غور کررہا ہے تاکہ 160 تا 200 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتخبہ راستوں پر جیسے دہلی تا آگرہ اور دہلی تا چندی گڑھ ٹرینیں چلائی جاسکے۔ بعدازاں وزیر ریلوے نے راجیہ سبھا میں نعرہ بازی اور نظم و ضبط شکنی کے دوران عبوری بجٹ پیش کیا۔ یہ نظم و ضبط شکنی اور نعرہ بازی تلنگانہ اور دیگر مسائل پر کی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ریل ٹیرف اتھاریٹی حکومت کو کرایوں اور مال برداری کی شرحوں کے تعین کے سلسلہ میں سفارشات پیش کرے گی۔ کھرگے نے کہاکہ اب کرایوں کا تعین پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا۔ ریلوے اور مسافر دونوں اس سے اچھی طرح واقف ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتھاریٹی ریلوے کی ضروریات کو پیش نظر رکھے گی اور دلچسپی رکھنے والے تمام افراد کو کرایوں کے تعین میں شامل کرے گی۔ وزیر ریلوے نے کئی اقدامات کا اعلان کیا جن میں ایس ایم ایس کے ذریعہ مسافرین کو خبردار کرنا، موبائیل فونس پر ٹکٹوں کی فروخت اور آن لائن بکنگ پر ٹرینوں میں کھانے کا انتظام وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سال کے دوران چند انقلابی اقدامات کئے گئے ہیں اور یہ عمل جاری رہے گا۔ وزیر ریلوے کی لوک سبھا میں بجٹ تقریر تلنگانہ مسئلہ کا شکار رہی اور ایسا لگتا تھا کہ ملکارجن کھرگے پہلے سے تیاری کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران بجٹ کے اہم خدوخال تیزی سے پڑھے۔ اس دوران آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے ارکان ایوان میں ہنگامہ آرائی کررہے تھے یہاں تک کے چار وزراء ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اس کے باوجود ملک ارجن کھرگے نے اپنی بجٹ تقریر پوری کرلی۔ انہوں نے جیسے ہی اپنی تقریر ختم کی کیرالا کے سی پی آئی ایم رکن ایم بی راجیش، ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی اور انا ڈی ایم کے کے چند ارکان کھرگے کی سمت بڑھے اور ان پر ان کی ریاستوں کے ساتھ دغا بازی کا الزام عائد کیا۔ پارلیمنٹ کا توسیعی سیشن 5 فبروری کو شروع ہوا اور اس کے بعد سے تلنگانہ و دیگر مسائل پر مسلسل کارروائی متاثر ہوتی آرہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT