Friday , November 16 2018
Home / شہر کی خبریں / مستقبل قریب میں حیدرآباد شہر پانی کی شدید قلت کا شکار ہوگا

مستقبل قریب میں حیدرآباد شہر پانی کی شدید قلت کا شکار ہوگا

سری پدیلم پلی پراجکٹ کے سطح آب میں کمی واقع ہورہی ہے
حیدرآباد۔12مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے والے پراجکٹ سری پد یلم پلی پراجکٹ میں پانی کی ہو رہی قلت کے سبب شہر حیدرآباد میں پانی کی قلت پیدا ہونے کے قوی خدشات پیدا ہوتے جا رہے ہیں اور شہر میں پینے کے پانی کے علاوہ شہر کے اطراف موجود صنعتی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے پانی کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ سری پد یلم پلی پراجکٹ جو کہ گوداوری پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی گنجائش 63ٹی ایم سی ہے اور اس میں کریم نگر اور عاد ل آباد ضلع کی زرعی ضروریات کو بھی تکمیل کیا جارہا ہے ۔ دوسرے مرحلہ میں سری پد یلم پلی پراجکٹ میں 49.5ٹی ایم سی پانی کی مزید گنجائش پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن ذخیرہ آب میں فی الحال 141.5 فیٹ پانی موجود ہے جبکہ ذخیرہ آب کے ایف ٹی ایل کا جائزہ لیا جائے تو اس میں 148ایف آر ایل ہے۔ ذخیرہ آب میں موجود سطح آب 6.4ٹی ایم سی باقی ہے جبکہ سال گذشتہ ان دنوں میں ذخیرہ آب کی سطح 10ٹی ایم سی تھی۔ پراجکٹ کے عہدیداروں کے مطابق اس پراجکٹ کے ذریعہ 248کیوزک پانی حیدرآباد کو سربراہ کیا جارہا ہے جو کہ 190 کیلو میٹر آبی پائپ لائن کے ذریعہ سربراہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پراجکٹ کے ذریعہ 400 کیوزک پانی سنگارینی اور جئے پور پاؤر پلانٹ کو سربراہ کیا جا رہاہے اور این ٹی پی سی کے حصہ کے طور پر راما گنڈم کیلئے 121 کیوزک پانی یومیہ جاری کیا جا رہاہے۔ سری پد یلم پلی پراجکٹ کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 40ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت کی صورت میں یومیہ 155 کیوزک پانی کا نقصان ہو رہا ہے جو بھانپ بن کر اڑ رہا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ تمام سربراہی کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 10 دن میں ایک ٹی ایم سی پانی درکار ہے اور پراجکٹ سے سربراہی 138 میٹر پر روک دی جائے گی کیونکہ اس سطح پر سربراہی کرنا ممکن نہیں ہے۔ عہدیداروں کے مطابق ذخیرہ آب میں اب جو پانی ہے اسے احتیاط سے استعمال کرنے کے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کیونکہ جولائی سے قبل ذخیرہ آب میں پانی جمع ہونے کے امکانات موہوم ہوتے جا رہے ہیں اسی لئے موجودہ پانی کو ہی احتیاط سے استعمال کیا جانا ناگزیر ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکام نے کئی پراجکٹس کے لئے پانی کی سربراہی کو محدود کردیا ہے اور منچریال میونسپلٹی کو سربراہ کئے جانے والے اسی ذخیرہ آب کے پانی کو روزانہ کے اساس پر سربراہی بند کردی گئی ہے اور روزانہ کی جگہ اب دودن میں ایک مرتبہ پانی سربراہ کیا جا رہاہے۔ حکام کا کہناہے کہ اگر ذخیرہ آب کی موجودہ سطح میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں حیدرآباد کے بھی کئی علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT