Saturday , April 21 2018
Home / سیاسیات / مستقبل میں قوم کی تعمیر میں ٹی ایم سی کا اہم رول

مستقبل میں قوم کی تعمیر میں ٹی ایم سی کا اہم رول

کولکتہ ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج کہا کہ آئندہ دنوں میں ایک بہتر ہندوستان بنانے کیلئے ترنمول کانگریس کو کلیدی رول ادا کرنا ہوگا۔ انکے اس بیان کو اس اشارہ کے طور پر دیکھا جارہا ہیکہ انکی پارٹی قومی سیاست میں نمایاں حصہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ ممتابنرجی نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری، کسانوں کی خودکشیوں اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جیسے مسائل پر مرکز کی بی جے پی حکومت کی مذمت کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے قائدین پر زور دیا کہ ان مسائل کیخلاف وہ ہر ہفتہ احتجاجی مہم چلائیں۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتابنرجی نے کہا کہ ’’ٹی ایم سی نہ صرف بنگال کو دوبارہ بنانے میں اہم رول ادا کریگی بلکہ ہماری پارٹی ملک کی تعمیر میں بھی اہم رول ادا کریگی۔ ترنمول کانگریس کے ورکروں کو چاہئے کہ وہ ایک بہتر سماج اور وسیع تر قوم کی تعمیر کیلئے کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں نوجوانوں میں اور بیداری اور کردارسازی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا‘‘۔ ممتابنرجی نے کہاکہ ’’بی جے پی کو ایف آر ڈی آئی بل، کسانوں کی پریشانیوں، مہنگائی، ریلوے پراجکٹوں سے دستبرداری جیسے مسائل پر بی جے پی کو چاہئے کہ عوام کو جواب دے۔ بی جے پی کی عدم رواداری کی حدوں کو کوئی نہیں جانتا۔ اب وہ (بی جے پی) یہ فیصلہ کررہی ہیکہ کوئی کیا کھائے یا کیا نہ کھائے۔ اس کا فیصلہ کرنے والے وہ کون ہیں‘‘۔ ممتابنرجی نے کہاکہ ’’بی جے پی ملک کی سب سے زیادہ دولتمند جماعت ہے، جسکے بعد کانگریس اور سی پی آئی (ایم) دولتمند جماعتیں ہیں‘‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی غریب ترین جماعت ہے۔

بی جے پی کے سابق وزیر کی کانگریس میں شمولیت
بنگلورو ۔ 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک کے سابق وزیر بی ایس آنند سنگھ جو حال ہی میں بی جے پی چھوڑنے کے بعد ریاستی قانون ساز اسمبلی سے مستعفی ہوگئے تھے، اس سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ آنند سنگھ نے اپنے حامیوں کے ساتھ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر پہنچ کر چیف منسٹر سدارامیا، صدر پردیش کانگریس کمیٹی جی پرمیشور، انتخابی مہم کمیٹی کے سربراہ اور ریاستی وزیر ڈی کے شیوا کمار کی موجودگی میں کانگرسی میں شمولیت اختیار کی۔ آنند سنگھ نے بی جے پی چھوڑنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اس پارٹی میں داخلی جھگڑوں سے بیزار ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT