Thursday , December 13 2018

مسجدوں میں خون خرابہ کرنے والے کیامسلمان ہیں؟

ظفر آغا

ظفر آغا
اللہ توبہ ! مسجدوں میں قتل و خون ؟ یہ کیسا اسلام ہے ، یہ کہاں کے مسلمان ہیں جو مسجدوں میں بھی خون خرابے سے باز نہیں آرہے ہیں ؟ اور غور فرمائیں کہ کون یہ کررہا ہے ؟ مسجد کے اندر بم دھماکے کا تازہ ترین واقعہ یمن کے دارالخلافہ صنعا میں پیش آیا جس میں عین نماز جمعہ کے دوران تقریباً ڈیڑھ سو بے گناہ افراد مار دئے گئے اور اس دل دہلادینے والے واقعے کی ذمہ داری کسی اور نے نہیں بلکہ ابوبکر البغدادی کی اسلامی ریاست ، بلکہ خلافت نے لی ۔ یہ کیسی اسلامی ریاست اور خلافت ہے ؟ کیا ابوبکر البغدادی یہ بھول گئے کہ اسلامی احکام میں یہ بات فرض ہے کہ مسجد میں کوئی کسی کاقتل نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اللہ کا گھر ہے جہاں ہر ایک کو امان ہے ۔ مسجدیں اس کعبہ کی شکل ہیں ۔ اس اعتبار سے مساجد بھی اللہ تعالی کا گھر ہوتی ہیں جہاں اسلامی اصول کے مطابق کوئی کسی کو نقصان نہیں پہونچا سکتا ہے چہ جائے کہ وہاں بے گناہوں کو بم دھماکوں میں مار دیا جائے ۔ یہ نہ تو کسی اسلامی اصول اور نہ ہی کسی انسانی اصول کے موافق ہے ۔ کوئی بھی عبادت گاہ ہو وہ محترم اور مقدس سمجھی جاتی ہے ۔ وہ عقیدت کا مقام ہوتی ہے ۔ ایسی جگہ پر قتل و خون کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن عراق اور شام کی سرزمین سے ایک نیا اسلام پیدا ہوا ہے جو مسجدوں میں بھی قتل و غارت گری سے باز نہیں آرہا ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ صنعا کی مسجدوں میں مسلمانوں کا قتل خود کو مسلمان کہنے والوں کے ہاتھوں سے کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کہ اس قسم کی دہشت گردی جس میں خود مسجدوں کو دہشت کا نشانہ بنایا جائے ۔ اس فعل کی شروعات عرب سے نہیں بلکہ ہمارے پڑوسی پاکستان سے ہوئی ۔ دراصل پاکستان دنیا میں ’’مسلم انتہا پسندی‘‘ کا بانی ہے ۔ یہ کوئی بہت پرانی تاریخ نہیں بلکہ کوئی 30 ,35 برس قبل کا ذکر ہے جب کہ اس وقت کی سوویت یونین کی فوجیں اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں در آئیں ۔ بس یکایک اس اسلامی ملک میں سوویت یونین کے خلاف ’’جہاد‘‘ کا نعرہ گونج اٹھا ۔ وہ افغانی گروہ جو سوویت یونین کے خلاف اپنی جنگ آزادی لڑرہے تھے ، ان کو امریکہ اور پاکستانیوں نے مجاہدین کا لقب دیا ۔ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان دوسری جنگ عظیم کے وقت سے جو سرد جنگ چل رہی تھی اس جنگ میں امریکہ کو افغانستان میں روسی فوج کی موجودگی ایک ایسا موقع نظر آیا جس میں وہ سوویت یونین سے ویٹنام کا بدلہ لے سکتا تھا ۔ کیونکہ جب امریکی فوجیں ویٹنام میں داخل ہوئی تھیں تو اس وقت سوویت یونین نے ویٹنام کو فوجی مدد دے کر امریکہ کو رسوا کیا تھا ، وہاں آخر امریکہ کی ہار ہوئی تھی ، اب امریکہ کی باری تھی کہ وہ افغانستان میں سوویت یونین سے ویٹنام کا بدلا لے لے ۔
لیکن امریکہ کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ وہ افغانستان کے مجاہدین تک فوجی امداد کیسے پہونچائے ؟ اس کام کے لئے اس وقت کے پاکستانی صدر جنرل ضیا الحق نے اپنی یعنی پاکستان کی خدمات پیش کردیں ۔ جنرل ضیاء الحق اس وقت دنیا بھر میں ایک سفاک فوجی آمر کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ انہوں نے سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو جھوٹے قتل کے الزام میں پھانسی پر چڑھایا تھا ۔ پھر پاکستان میں فوج کے خلاف عوامی بغاوت کو کچلنے کے لئے انہوں نے ’نظام مصطفی‘ کا ڈھونگ رچایا تھا جس کا مقصد اسلام کے نام پر اپنے مخالفین کو کوڑے لگانا ، ہاتھ کٹوانا اور ان کو کفر کے الزام میں جیل بھیجنا تھا ۔ یعنی افغانستان پر روسی حملے کے وقت اپنا اقتدار بچانے کو جنرل ضیا اسلام کے ٹھیکیدار پہلے ہی قرار دے چکے تھے ۔ چنانچہ وہ اپنے پڑوس میں جہاد کے بھی فطری ٹھیکیدار ہوسکتے تھے ۔ اس لئے امریکہ نے روس کے خلاف جنرل ضیا الحق کی خدمات کرائے پر لی ۔ ضیا الحق کے لئے یہ ایک بہترین موقع تھا کیونکہ اس طرح وہ ’جہاد‘ کی پیٹھ پر سوار ہو کر خود پر سے دنیا بھر میں بھٹو کی پھانسی کا داغ مٹانے کا موقع پاگئے اور امریکہ نے پاکستان کے لئے اپنا خزانہ کھول دیا ۔ بس اس خاموش امریکہ اور پاکستانی اتحاد نے 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمے کے لئے اس ’اسلامی جہاد‘ کا ڈنکا بجادیا ، جس کے اس وقت سب سے بڑے نقیب ابوبکر البغدادی ہیں ۔ چونکہ معاملہ جہاد کا تھا اس لئے مساجد کا استعمال لازمی تھا ۔ ساری دنیا کی مسجدوں اور بالخصوص عرب ممالک کی مساجد میں کم و بیش ہر خطیب نے خطبہ جمعہ میں مسلمانوں کو افغانستان میں جہاد کے لئے شریک ہونے کے فتوے جاری کرنے شروع کردئے جسکے نتیجہ میں اسامہ بن لادن جیسے ہزارہا افراد پہلے پاکستان آئے جہاں کیمپوں میں ’جہادی مجاہدین‘ کو فوجی ٹریننگ دی گئی پھر یہی مجاہد پاکستان اورآئی ایس آئی کی ٹریننگ لے کر افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے جس میں سوویت یونین کو آخر افغانستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ اور یہ جنگ سوویت یونین کو اس قدر مہنگی پڑی کہ آخر سوویت یونین ہی بکھر گیا

الغرض دنیا میں جس جہاد کا ڈنکا ان دنوں بج رہا ہے اس کی شروعات امریکہ اور پاکستان کی ملی جلی سازش سے ہوئی تھی ۔ اس کا بنیادی مقصد امریکہ کے لئے سوویت یونین کو سبق سکھانا تھا اور جنرل ضیا الحق کو اپنا ذاتی مفاد حاصل کرنا تھا ۔ اس جہاد کا اسلام یا مسلم مفاد سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔ ہاں بہت سے مسلمان اس کو جہاد سمجھ کر امریکہ اور جنرل ضیا الحق کی لگائی اس آگ میں کود پڑے جو آج بھی بھڑک رہی ہے ۔ چونکہ معاملہ اور نعرہ جہاد کا تھا اس وجہ سے مسجدوں کا استعمال لازمی تھا ۔ بس تب ہی سے مسجدوں میں جہاد کا نعرہ گونج اٹھا ۔ اب نوبت یہ آگئی ہے کہ مسجد کے اندر مسلمان خود مسلم نمازی کو مار رہا ہے ۔ اس شرمناک غیر اسلامی فعل کی شروعات بھی پاکستان میں ہی ہوئی جہاں سپاہ صحابہ نامی ایک دہشت گرد تنظیم نے آئی ایس آئی کی ایما پر شیعہ مساجد میں شیعوں کو مارنا شروع کیا جو رسم اب ابوبکر البغدادی کے ماننے والے عرب ممالک میں لے پہونچے ۔ اسی وحشیانہ سفاکی کا ایک ثبوت پچھلے ہفتے یمن میں نظر آیا ۔
لب لباب یہ ہے کہ کوئی جہاد نہیں ،یہ کوئی اسلام نہیں اس کا پرچم ابوبکر البغدادی اور انکے ہمنواؤں نے اسلامی خلافت کے نام پر بلند کررکھا ہے ۔ اس سے اسلام یا مسلمان کو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

اس جہاد کا بنیادی مقصد مسلم عوام کا دھیان ان کے بنیادی مسائل سے ہٹا کر ان کو ایک جذباتی مذہبی مسئلہ پر مرکوز کردینا ہے ۔ جس میں خود مسلمان مسلمان کا قتل و غارت کرتا رہے اور مسلم ممالک کے تیل پر امریکی کمپنیوں کا قبضہ برقرار رہے ۔ ابوبکر البغدادی پاکستان کے مرحوم جنرل ضیاء الحق کی طرح امریکی مفادات کا ایک آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ کیا پتہ جس طرح اس وقت سی آئی اے خاموشی سے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ’افغان مجاہدین‘ کی حمایت کے لئے خفیہ مدد کررہی تھی ، ویسے ہی اس وقت بھی ابوبکر البغدادی کو اب امریکہ کی خفیہ مدد مل رہی ہو ۔ اس سازش کی طرف عالمی میڈیا میں کچھ اشارے ملے ہیں ۔ بہرحال اب بات طے ہے کہ 1980 کی دہائی سے اب تک جس جہاد کا نعرہ مسلم جہادیوں نے بلند کیا ہے اس میں نقصان امریکہ کا نہیں بلکہ خود مسلمانوںکا ہورہا ہے ۔ پہلے مسلم ممالک خانہ جنگی کا شکار ہوئے اب یہ نوبت آچکی ہے کہ ہماری مسجدیں خانہ جنگی کا مرکز بنتی جارہی ہیں ۔ اللہ کی پناہ ، اب ضرورت اس بات کی ہیکہ جیسے پہلے مسجدوں سے جہاد کے حق میں خطبہ دیا جارہا تھا ویسے ہی اب ہر مسجد سے آج کے جہاد کے خلاف فتوے جاری ہوں ۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو ہماری مسجدیں عبادت گاہوں سے مقتل میں تبدیل ہوجائیں گی اور خدا وہ دن نہ لائے ۔

TOPPOPULARRECENT