مسجدکی شرعی حیثیت اوراسکی حفاظت

(بابری مسجدکی شہادت ،ملک کے حالات اورعدلیہ سے حق وانصاف کے یقین کے تناظر میں )

ہندوستان ایک سیکولرملک ہے، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں،یہ ملک پہلے انگریزوں کے زیراقتدارتھا،یہاں کے باشندے مسلم ،ہندو،سکھ عیسائی وغیرہ سب انگریزوں کی غلامی سے چھٹکارہ چاہتے تھے،اسکے لئے تمام اقوام نے ملکر متحدہ جدوجہدکی ،مسلمانوں نے آزادی کی لڑائی میں بھرپورحصہ لیا،ملک کی آزادی میں مسلمانوں کا جان ومال کی قربانی دینے سے مقصود یہی تھا کہ مسلمان اس ملک میں عزت واحترام کے ساتھ زندگی گزاریں گے اوراپنی صلاحیتوں سے ملک وقوم کو نفع پہنچائیں گے۔ملک کا بٹوارہ ہواتومسلمان اس سے خوش نہیں تھے ،کسی قیمت پر وہ تقسیم کے بعدپاکستان جانے پرراضی نہیں ہوئے بلکہ ہندوستان میں جینے اورمرنے کو ترجیح دی،اپنے ملک کے سیکولرکردارکی حفاظت اورملک وقوم کی ترقی میں نمایاں رول اداکیا اوراداکررہے ہیں،اپنے ملک کی سرحدوں کا آج بھی مسلمان محافظ ہے،ملک کی حفاظت کا جب بھی سوال آتاہے مسلمان ہمیشہ ملک دشمنوں سے نبردآزمارہے ہیں۔ہندوستان چونکہ جمہوری ملک ہے اسلئے اس کا دستوراورآئین سارے مذاہب کے ماننے والے انسانوں کے احترام اوران کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتاہے۔لیکن بڑے افسوس کی بات ہے آئین ودستورکے مطابق مسلمانوں کوملک میں وہ مقام نہیں مل سکا جس کا دستورتقاضہ کرتاہے،ملک کی آزادی سے مسلمانوں کو جو توقعات وابستہ تھیں اس پر پانی پھرگیا،مسلمانو ں کومعاشی ،تعلیمی اورسماجی بچھڑے پن کے علاوہ کئی اورمسائل سے دوچارہونا پڑا۔ان مسائل میں سب سے زیادہ سنگین مسائل مسلمانوں کے دین وشریعت اوران کے مذہبی تشخص اوران کی عبادت گاہوں سے جڑے ہوئے ہیں۔آزادی کے بعدملک بھر میں وقفہ وقفہ سے فسادات کا سلسلہ جاری رہا،مسلمانوں کی جان ومال ،عزت وآبروسے کھلواڑہوتارہا،مسلمانوں کو ملک کے شہری ہونے کی وجہ جو انصاف ملنا چاہیئے تھا وہ نہیں مل سکا۔ملک دشمن طاقتیں مسلمانوں اوردلت قوم کے ساتھ غیر آئینی بلکہ غیر انسانی سلوک روارکھتی رہیں جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے،اس میں کوئی شک نہیں سیکولرغیر مسلم بھائی ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ رہے، اورملک کی عدالتوں کے اکثرفیصلے مسلم اقلیت کے حق میں رہے ہیں،فسطائی طاقتوں کو مسلم اورغیرمسلم شہریوں کا اتحادایک آنکھ نہیں بھاتا،وہ ہمیشہ نفرت کا زہرگھولنے میں مصروف ر ہیں،جسکے نتائج بدسامنے آتے رہے،وہ ملک جو کبھی مسلم ، ہندواتحاد ویکتا کا گہوارہ مانا جاتاتھا بتدریج انتشاروافتراق کی راہ پر چل پڑا۔فسطائی طاقتیں اقتدارپر قبضہ جمانا چاہتی تھیں اوران کی یہ چاہت مسلم اور غیر مسلم اقوام کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑے کئے بغیرپوری ہونا ممکن نہیں تھا اسلئے انہوں نے مذہب کی آڑمیں ایسی سازشیں رچائیں جس سے ان کو اپنے مقاصدمیں کامیابی ملتی رہی۔بابری مسجدکی شہادت کیلئے ملک کے پر امن ماحول کونراج کا شکاربنانے کیلئے رتھ یاترا نکالی گئی ،پھر بد قسمتی سے ہندوستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن آگیا جس میں آئین ودستورکو پس پشت ڈال کر نفرت وعداوت کے پروردہ بے قابو ہجوم نے حکومت کے کارپردازوں اورنفرت کے سوداگروں کی سرپرستی میں ۶؍دسمبر ۱۹۹۲؁ء بابری مسجد کو شہید کردیا ۔ مسلمانوں نے دستوروآئین کے چوکھٹے میں رہتے ہوئے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اوراپنے جذبات کے اظہار کے لئے پرامن احتجاج کیا،اپنے مذہبی جذبات واحساسات سے حکومت کے ذمہ داروں اورقانون کے اداروں کو واقف کروایا، یہ ایک حقیقت ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں اپنے منفی کردارسے سیکولرملک کے تاروپودبکھیر رہی ہیں،اورانکی جانب سے مسلسل عدلیہ اورآئین کی قولی وعملی مخالفت کا سلسلہ جاری ہے جو عدلیہ وآئین کی توہین کے مترادف ہے۔ بابری مسجد کی جگہ رام کی جائے پیدائش ہونے کا بے بنیاد دعوی کرکے اللہ کے گھر کو نشانہ بنایا گیا،جبکہ دعویداروں کے ہاں کوئی ٹھوس اورمضبوط ثبوت وشواہد موجود ہی نہیں ہیں،البتہ خود ایودھیا میں رام للا کی جائے پیدائش کو لیکر کئی ایک مقامات پر اسکے ہونے کے کئی دعویدارموجود ہیں،چنانچہ سوامی اگنی ویش لکھتے ہیں’’مجھے اس بات پر سخت حیرت ہوتی ہے کہ کوئی یہ کہے کہ اس جگہ یا اُس جگہ ہزاروں سال پہلے بھگوان رام کا جنم ہواتھا،رام للا کوقانونی یا غیر قانونی طورپراستھاپت کرنے کی بات اس وقت پیش آسکتی ہے جب کہ ان کی جنم بھومی کی نشاندہی پورے طورپر سامنے آئے یا کسی کو معلوم ہو،ایودھیا میں سولہ ایسے حریف اوردعویدارہیں جو اپنے اپنے طورپر رام جنم بھومی کا تعین کرتے ہیں‘‘آگے لکھتے ہیں ’’جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے تھے میں نے اس معاملہ میں عرق ریزی سے تحقیق کی ہے اورشواہد جمع کئے ہیں ،اسکی روشنی میں اچھی طرح سے کہہ سکتاہوں کہ آرایس ایس اور ۔وی ایچ پی کا دعوی صحیح (Justified )نہیں ہے۔میں نے صاف ذہنیت کے ساتھ اسکی چھان بین کی ہے،تلسی داس اس وقت کے سب بڑے رام بھگت تھے جس کے زمانہ (۱۵۲۸ئ) میں میر باقی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رام مندرکو گراکر بابری مسجدتعمیر کی۔تلسی داس نے بھی اپنی کسی کتاب میں اسکا تذکرہ نہیں کیاہے،نہ ہی گروگوبندسنگھ،سوامی ویویکانند،شیواجی نے اسکا کہیں ذکرکیاہے کہ سرجوندی کے کنارہ رام پیدا ہوئے جہاں ان کے نام پر مندربنا ہواتھا۔کسی بھی کتاب یا اسکرپٹ (مخطوطہ)میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے یہ جارحیت کی تحریک کا کوئی ثبوت ہو،یہ کہنا کہ ایک عقیدہ (Faith )بات ہے کسی طرح بھی حق پسندی نہیں ہے نہ کوئی دلیل اورانصاف کی بات ہے ‘‘ پھر آگے لکھتے ہیں ’’جب ہم یہ کہتے ہیں کہ رام بھگوان تھے اوربھگوان نرادھاریعنی جس کی کوئی شکل (Formless )نہیں ہوتی تو آخر جو نرادھارہو اسکی جائے پیدائش یا جنم بھومی کی نشاندہی کیسے کی جاسکتی ہے۔یہ انسان کی عقل ودانش کی سراسرتوہین ہے کہ خداکی شکل وصورت کو کوئی اپنے اندازسے تعین کرے‘‘گاندھی جی کے حوالہ سے آگے لکھاہے’’گاندھی جی ایک راسخ العقیدہ ہندوتھے ،جب وہ قتل کئے گئے تو ان کی زبان پر رام کا نام تھا ،ان کی عقیدت مندی شک وشبہ سے بالا تر ہے،انہوں نے کبھی رام مندرکا مسئلہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ خدا صرف مندرمیں نہیں رہتا بلکہ ہر جگہ رہتاہے، وہ ایک سچے مذہبی انسان کی حیثیت سے کہتے تھے کہ خداکسی مسجد،مندریا مسجد میں مقید نہیں‘‘ اسکے برعکس ایودھیا کی وہ جگہ جوپانچ سوسالہ قدیم بابری مسجدکے نام سے موسوم ہے اسکی ملکیت کے ثبوت وشواہددستاویزکی صورت میں آج بھی موجود ہیں،بابری مسجدکا قضیہ عقیدہ اورآستھا کا ہر گز نہیں بلکہ یہ ملکیت کا مسئلہ ہے جو اس وقت ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیر دورا ںہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ۲۶؍ویں اجلاس منعقدہ حیدرآباد میں عدلیہ سے انصاف کی توقعات وابستہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بابری مسجدملکیت مقدمہ میں مکمل یقین ہے کہ عدالت عظمی اس معاملہ میں دستاویزات اورحقائق کی بنیادپر انصاف کریگی۔مسجدکو بیت اللہ یعنی اللہ سبحانہ کا گھرکہتے ہیں ، اسلئے مساجد کی نسبت اللہ سبحانہ وتعالی کی طرف ہوتی ہے،مساجد کی تعمیراللہ سبحانہ وتعالی کی عبادت کیلئے کی جاتی ہے،روئے زمین پر مساجدکا وجودشعائراسلام سے ہے۔مساجد کو آبادرکھنا ایمان کی علامت ہے، اللہ سبحانہ کی ذات جیسے ساری مخلوقات میں اعلی وارفع ہے اسی طرح اسکی نسبت سے قائم مساجد کی جگہ دیگرمقامات کی نسبت ارفع واعلی ہوتی ہیں۔اسلامی نقطئہ نظر سے جب کوئی اراضی مسجد کیلئے وقف کردی جاتی ہے خواہ مالک زمین اپنی زمین اس مقصد کیلئے وقف کرے اوراس کو ممیزکرکے مسجد کیلئے مختص کردے اورمسلمانوں کواذان وجماعت کی اجازت دیدے، یا اس مقصد کیلئے مسلمان اراضی خریدیں اورتعاون کرنے والوں نے اسی مقصد کیلئے تعاون کیا ہو،خواہ اس پرمسجدکی عمارت تعمیرہوئی ہو کہ نہ ہوئی ہو تو وہ تاقیامت مسجدہے ۔الغرض جواراضی مسجدکیلئے وقف کردی گئی ہووہ ہمیشہ کیلئے مسجدہوجاتی ہے،اس میں نمازوعبادت،ذکرواذکار،تلاوت قرآن،کتاب وسنت کی تعلیم وتدریس اوردیگرامورمہمہ جیسے امت مسلمہ اورعوام الناس کے نزاعات کا حل وغیرہ انجام دئیے جاسکتے ہیں، مقاصد دینیہ اوراصلاح بین الناس کے علاوہ اس کو کسی اورمقصد کیلئے استعمال کرنا اسلامی نقطئہ نظرسے درست وجائزنہیں۔مساجد کی خاص شرعی حیثیت کی وجہ نہ ان کو فروخت کیا جاسکتاہے نہ اُس کا ہبہ جائزہے،مسجدویران ہوجائے تب بھی اسکی منتقلی شرعاً جائزنہیں نہ اس جگہ کو ملی مقاصد ہی کیلئے کیوں نہ ہوکرایہ پردیا جاسکتا ہے،منصوصات کی روشنی میں مسجد کی حرمت پرتمام فقہاء ومحققین اسلامی کا اتفاق ہے،امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کے حوالہ سے منتقلی کی جو بات کی جارہی ہے علماء کی تحقیق یہ ہے کہ یہ انکا غیر مفتی بہ قول ہے۔یعنی اس پر انہوں نے فتوی نہیں دیا،خاص حالات میں اگرکوئی کسی فقیہ کے حوالے سے کوئی بات کہتاہوتو اول اس پراسکا ثابت کرنا لازم ہے،لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مسجد کی زمین کسی بت خانہ کی تعمیر کیلئے رضامندی سے حوالے کی جاسکتی ہے ؟کتاب وسنت کے منصوصات ،حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورائمہ کرام رحمہم اللہ کے حوالے سے ایسی کوئی بات پیش ہی نہیں کی جاسکتی جس سے کسی مسجدکوبت خانہ میں تبدیل کرنے کا جواز ثابت ہوتاہو۔ ایسے نازک وقت میں جبکہ مسلم طبقات میں اتحادکی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ایسے میں ایک مؤقرعالم دین اورمسلم پرسنل لا کی عاملہ کے رکن کا اسکے موقف بلکہ اسلامی نقطئہ نظر کے خلاف ایسا بیان جوفسطائی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرتا ہودانشمندانہ نہیں کہا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT