Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / مسجد اقصیٰ کو آباد رکھنے فلسطینی عوام کو تلقین

مسجد اقصیٰ کو آباد رکھنے فلسطینی عوام کو تلقین

بیت المقدس۔ 6 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) فلسطین کے سرکردہ عالم دین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ یوسف اسلیم نے کہا ہے کہ بیت المقدس ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے، اس پر سیاست بازی اور کوئی سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ الشیخ اسلیم نے مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کو آبا

بیت المقدس۔ 6 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) فلسطین کے سرکردہ عالم دین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ یوسف اسلیم نے کہا ہے کہ بیت المقدس ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے، اس پر سیاست بازی اور کوئی سمجھوتہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ الشیخ اسلیم نے مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کو آباد رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور اندرون فلسطین کے جس جس فلسطینی پر نماز فرض ہے ، اس پر جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنا واجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنے دن رات کے اوقات میں سے کچھ وقت قبلہ اول کے دفاع کیلئے ضرور نکالیں تاکہ ہمارے اس مقدس مقام کو ناپاک صیہونیوں کے ہاتھوں لاحق خطرات کا تدارک کیا جاسکے۔ الشیخ اسلیم کا کہنا تھا کہ تمام آسمانی مذاہب اور معاصر عالمی قوانین مقدس مقامات کے دفاع اور تحفظ کی حمایت کرتے ہیں۔ فلسطین میں مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام اس وقت ناپاک یہودیوں کے قدموں تلے روندا جا رہا ہے۔ حالانہ 1999 ء میں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی واضح قرارداد منظور کرچکی ہے جس میں بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات کی حفاظت کو یقینی بنانے کی حمایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے مقدس مقامات کی مسلسل بے حرمتی علاقائی اورعالمی امن کی سلامتی کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے۔

عالمی برادری کو اس خطرے کا اندازہ کرنا چاہیے۔ مسجد اقصیٰ کے خطیب نے کہا کہ 1967 ء میں امریکہ بھی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد میں نہ صرف بیت المقدس کی تاریخی اہمیت کو تسلیم کرچکا ہے بلکہ اس کے تاریخی، اسلامی تقافتی اور تہذیبی آثار ومقامات میں تبدیلی کی کھلے عام مخالفت بھی کرچکا ہے۔ اس کے باوجود بیت المقدس کی شناخت کی تبدیلی کی صہیونی سازشوں پر امریکہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ مشرق ومغرب کے مسلمانوں کا مرجع اور ایمان کا جزو ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ بیت المقدس پر سمجھوتہ مسجد اقصیٰ سے دستبرداری کے مترادف ہوگا اور مسلمان ایسا نہیں کرسکتے۔ انھوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کا تحفظ اور اسے آباد رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ اس ضمن میں تمام ہی گوشوں کو عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

TOPPOPULARRECENT