Wednesday , September 19 2018
Home / مضامین / مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں

مولانا سید احمد ومیض ندوی
بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونی چیرہ دستیوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، حالیہ عرصہ میں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے القدس کو اسرائیلی راجدھانی قرار دینے کا فیصلہ در اصل انہی چیرہ دستیوں کا تسلسل ہے، صہیونی کار پردازوں کو عجلت ہے، وہ اس سلسلہ کی کارروائیوں کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتے ہیں، عجلت اس لیے ہے کہ یہودی ہدایات پر مشتمل ان کی کتاب ’’تلمود‘‘ کے مطابق اس کائنات کے اب زیادہ دن باقی نہیں رہے،یہودی سال ستمبر سے شروع ہوتا ہے، ’’تلمود‘‘ کے مطابق دنیا کی کل عمر چھ ہزار سال ہے، ۲۰۱۷ء کے ۲۱؍ ستمبر کو یہودی کیلنڈر نے ۵۷۷۸ مکمل کر لیے ہیں، اب صرف ۲۲۲ سال باقی رہ گئے ہیں، یہودی کیلنڈر کے مطابق یہ دنیا ۲۲۲ سال بعد فنا ہوجائے گی، اس سے قبل دنیا بھر میں یہودیوں کے غلبہ کے لیے یہودی مسیحا کی آمد ضروری ہے، مسلمان جسے دجال کہتے ہیں وہ یہودیوں کا مسیحا ہے، جس کی آمد کے وہ منتظر ہیں، صہیونی عقائد کے مطابق ان کا مسیحا (دجال) اس وقت تک نہیں آئے گا، جب تک وہ دو کاموں سے فارغ نہ ہوجائیں: (۱) تابوت سکینہ کی تلاش(۲) ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں، جب کنعان کے علاقہ میں قحط سالی عام ہوگئی تو یہ مصر منتقل ہوئے، پھر فرعون کی غلامی میں جکڑ دئے گئے، سیکڑوں برس کی ذلت وخواری سے گزر کر ۳۳ سو سال پہلے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فلسطین واپس آئے، بنی اسرائیل کے ایک عظیم پیغمبر حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک ہزار سال قبل مسیح القدس (یروشلم) کو فتح کیا تھا، اور اسے اپنی مملکت کا جسے یہودی کنگڈم آف ڈیوڈ کہتے ہیں دار السلطنت بنایا، حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیادوں پر عظیم معبد بنانا شروع کیا، اور ان کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس معبد کے تعمیری سلسلہ کو جاری رکھا، کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کا ایک تابوت تھا،جس میں پتھر کی وہ تختیاں بھی تھیں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کوہ ِ طور پر نازل فرمائی تھیں،اورجن پر اللہ کے دس احکام درج تھے،نیز اس تابوت میں حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا اور وہ برتن بھی تھا، جس سے مَن وسلویٰ نکلتا تھا، یہودیوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس تابوت کو جس میں یہ ساری اشیاء تھیں معبد کی بنیادوں میں چھپا دیا ہے،اسی طرح سحروجادو کے کچھ نسخوں کو بھی صندوقوں میں بند کرکے معبد کے نیچے غاروں میں چھپا دیا ہے،یہودی سلیمان علیہ السلام کے اس معبد کوہیکل سلیمانی کہتے ہیں، اس ہیکل کو ۵۸۶ قبل مسیح بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تباہ کردیا تھا؛ لیکن اس کی بیرونی دیوار کو اس نے چھوڑ دیا تھا،یہی وہ دیوار گریہ ہے جو یہودیوں کے یہاں تقدس کی حامل ہے، یہودیوں کا ماننا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تابوت سکینہ اور جادو کے نسخے بیت المقدس کے نیچے غاروں میں رکھا ہے، چنانچہ یہودی طویل عرصہ سے ان غاروں کی تلاش میں بیت المقدس کے نیچے کھدائی کررہے ہیں، انھیں تابوت سکینہ کو بھی ڈھونڈ نکالنا ہے، اور مسجد اقصیٰ سمیت پورے علاقہ کو منہدم کرنا بھی ہے، پھر اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنی ہے، آج آٹھ سو سال قبل سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے مسجد اقصیٰ کی توسیع کی تھی، یہ توسیع اقصیٰ جدید کہلاتی ہے، یہودیوں کا ماننا ہے کہ نام نہاد ہیکل سلیمانی بیت المقدس اور اقصیٰ جدید تک وسیع ہوگا ،یہودی پوری دنیامیں عالمگیر صہیونی مملکت کے قیام کا خواب عرصہ سے دیکھ رہے ہیں،اور یہ ان کے مسیحا (دجال)کے خروج کے بغیر ممکن نہیں،چوں کہ یہودی عقائد کے مطابق جب تک مسجد اقصیٰ کو منہدم کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں ہوگا دجال آنہیں سکتا؛ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ آگے کے مراحل جلد از جلد طے ہوں، یروشلم کو اسرائیلی راجدھانی قرار دینا در اصل اسی صہیونی منصوبے کی سمت پیش رفت ہے۔

مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے لیے یہودی مختلف منصوبوں پر کام کرتے آئے ہیں، ان کا ایک منصوبہ مسجد اقصیٰ کو نظر آتش کرنا ہے، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی مرتبہ عملی اقدام کیا گیا ہے، ۲۱؍ اگست ۱۹۶۹ء کو ڈینس مائیکل نے مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کا اقدام کیا تھا، جس کے نتیجہ میں مسجد کے فرش، دیوار اور سلطان نور الدین زنگی کا بنایا ہوا منبر آگ کی زد میں آگیا تھا،مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کے لیے کئی مرتبہ دھماکوں کی بھی کوشش کی گئی،اس سلسلے کادوسرامنصوبہ مسجد اقصیٰ کے نیچے مسلسل کھدائی اولا سرنگیں بنانے کا ہے،یہ سلسلہ ۱۹۶۷ء سے جاری ہے، قدیم القدس شہر کے باشندوں کی بڑی تعداد کو جلا وطن کردیا گیا ہے، کھدائی کے ذریعہ مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کے نیچے مٹی اور پتھروں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے، حتی کہ مسجد کی دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں بھی پڑ چکی ہیں، جنوبی دیوار میں صحابہ اور تابعین کی سو سے زائد قبروں کو مسمار کیا جاچکاہے،صہیونی کاسب سے بنیادی منصوبہ ہیکل سلیمانی کی تیاری ہے، اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے وقفہ وقفہ سے مسجد اقصیٰ میں مراسم کی ادائیگی کے لیے در اندازی کی کوششیں کی جاتی رہتی ہیں، ۳۰؍ جنوری ۱۹۷۶ء کو ایک اسرائیلی عدالت کی جانب سے فیصلہ سنایا گیا کہ یہودی مذہبی مراسم کی ادائیگی کے لیے جب چاہیں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوسکتے ہیں، اس کے بعد ۱۵؍ اگست ۱۹۷۶ء میں اسرائیل کا سب سے بڑا حاخام شلومو تمورین فوجی لباس پہن کر مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، اس کے ساتھ بیس فوجی افسران بھی تھے، اسی طرح ۷؍اگست ۱۹۹۴ء میں یہودی تنظیم ’’کاخ‘‘ کے لیڈر نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی کوشش کی، اتنا ہی نہیں بلکہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لیے یہودی انتہا پسند ہمیشہ یہودیوں کے مذہبی جذبات بھڑکاتے رہتے ہیں، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے خواب کو جلد از جلد شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ کے مرکزی گیٹ کے قریب تیسرے ہیکل کی سنگ بنیاد کے طور پر ایک پتھر بھی گاڑ دیا گیا ہے، اس وقت ۲۰ ؍ایسی یہودی تنظیمیں ہیں جو مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اب جب کہ حالیہ امریکی فیصلہ کے بعد ایک بار پھر مسجد اقصیٰ کا مسئلہ منظر عام پر آیا ہے، مسلم امہ کو سوچنا چاہیے کہ آخر کب تک قبلۂ اول صہیونی جارحیت کا شکار رہے گا؟ آخر ہم مسلمان کب تک مسجد اقصیٰ کی مظلومی کا نوحہ پڑھتے رہیں گے؟مسجد اقصیٰ کی بازیابی پوری امت ِمسلمہ کا فریضہ ہے، یہ صرف عربوں یا فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے،صہیونی ہمیشہ اسے عربوں کا مسئلہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مسجد اقصیٰ کی بازیابی کے لیے امت ِمسلمہ کے ہرفرد کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہے، صرف امیدوں اور آرزوؤں سے قبلۂ اول کی آزادی ممکن نہیں، اس کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا، اقصیٰ سے متعلق مسلمانوں پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اس پر ایک ندوی فاضل مولانا عنایت اللہ وانی ندوی نے بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے، ذیل میں اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے:

فرد کی حیثیت سے:
٭ فلسطینی مسلمانوں کی جان ومال کے ذریعہ نصرت ومدد کرنے کی سچی نیت اور ہر وقت اس کا استحضار رکھا جائے۔
٭ روزانہ قبولیت ِ دعا کے اوقات میں خاص طور پر مسجد اقصیٰ اور ا ہل فلسطین کے لیے دعا کا اہتمام کیا جائے۔
٭ اگر تقریر وخطابت کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ہر تقریر میں اس مسئلہ کا ضرور تذکر کریں، اگر قلمکار ہیں تو اس مسئلہ پر مسلسل لکھیں، اگر معلم واستاذ ہیں تو طلباء میں اس مسئلہ کا شعور پیدا کریں، اس مسئلہ پر اس موضوع سے متعلق طلباء میں تقریری، تحریری پروگرام کرایا جائے۔
٭ اسرائیل اور اس کے ہمنواؤں کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں؛ اس لیے کہ بائیکاٹ نہ کرنے کی صورت میں ہم اہل فلسطین کا خون کرنے اور اسرائیل کو مضبوط کرنے میں معاون بنتے رہیں۔
٭ اہل فلسطین کے ساتھ محبت وشفقت کا اظہار کریں، ہر ممکن طریقے سے ان کے حالات سے دوسروں کو واقف کرانے کی کوشش کریں۔
٭ مالی تعاون کے سلسلے میں مسئلہ فلسطین کے لیے بجٹ متعین کریں، اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو، گھر میں روزانہ ایک ایک دو روپئے گھر کے تمام افراد جمع کرتے رہیں۔
٭ گھر والوں اور متعلقین کو اس بات پر آمادہ کریں کہ کسی فلسطینی شہید کے گھروالوں کی کفالت میں، یا کسی یتیم کی کفالت میں حصہ لیں، اس بات کا استحضار رہے کہ خیر کی جانب رہنمائی کرنے والا خیر کا کام کرنے والے کی طرح ہے۔
٭ بیت المقدس اور فلسطین کی تاریخ کے سلسلے میں خود بھی مطالعہ کریں، دوسروں کو بھی مطالعہ پر آمادہ کریں، کسی کو اس سے متعلق کتاب ہدیہ کریں، قرآن میں یہود کے حوالے سے تفصیلات پڑھیں اور یہود سے اچھی طرح واقف ہونے کی کوشش کریں۔
٭ ایک مسلمان اس فکر وتصور کے ساتھ ہر لمحہ بسر کرے کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کا اہم ترین اور مقدس ترین مسئلہ ہے اور بیت المقدس کو یہودیوں سے آزاد کرانا ہر مسلمان پر ضروری ہے۔
٭ اہل فلسطین کے کارناموں اور ان کی بہادری کے واقعات اپنے گھر والوں اور متعلقین کو سنائیں۔
٭ اس نیت سے روزہ رکھیں یا قیام اللیل کریں کہ اس حالت میں اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعا کا اہتمام کریں گے۔
٭ مندرجہ ذیل امور سے خاص طور سے واقف ہونے کی کوشش کریں:
٭ مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور اہل فلسطین کی مدد کا شرعی حکم۔
٭ اسرائیل کے ساتھ صلح یا موالات ودوستی کا حکم۔
٭ فلسطین کو آزاد نہ کرنے اور یہود کے حوالے کرنے کے خطرناک نتائج۔
٭ عالمی سطح پر اس مسئلہ کی وجہ سے سیاسی، ثقافتی، اقتصادی، معاشرتی اور عسکری اثرات۔
گھر اور خاندان کی حیثیت سے:
٭ کسی تفسیر کی مدد سے سورۂ بنی اسرائیل (الاسراء) اور سورۂ حشرت کا اجتماعی مطالعہ۔
٭ پورے گھر کی طرف سے مالی تعاون کی کوئی شکل۔
٭ بچوں کو فلسطین کی سرزمین کی اہمیت وتقدس سے واقف کرانے کی ہر ممکن کوشش۔
٭ مائیں بہنیں اپنے بچوں میں مسجد اقصیٰ کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کریں، اس کے لیے سیرت، تاریخ،ترانوں اور دیگر چیزوں کو ذریعہ بنائیں۔
٭ گھر میں اہم پروگراموں کے مواقع پر اس مسئلہ پر ضرور یاد رکھنے کی کوشش کریں۔
٭ فلسطین سے متعلق پروگراموں میں گھر کے تمام افراد کو شریک کرنے کی کوشش کریں۔
٭ فلسطینی مصنوعات کو خرید کر فلسطینی شہداء کے اہل خانہ اور ضرورت مندوں کا تعاون کریں۔
٭ گھر میں اپنی لائبریری میں ایک گوشہ خاص کریں جس میں فلسطین سے متعلق کتابیں، کیسٹ، پمفلٹ اوررسالے موجود ہوں۔
٭ گھر میں فلسطین سے متعلق مختلف تصاویر،تحریریں آویزاں رکھیں۔
امت اور جماعت کی حیثیت سے:
٭ گاہے گاہے مختلف پروگراموں کا انعقاد کریں، جن کے ذریعہ امت میں بیداری پیدا ہو اور باطل کو یہ معلوم ہو کہ امت اس مسئلہ سے غافل نہیں ہے۔
٭ اپنے اداروں، کمپنیوں یہاں تک کہ بعض مصنوعات کا نام فلسطینی شہروں، مقدسات اور شخصیات کے نام پر رکھیں؛ اس لیے کہ صہیونی اس ے متعلق ہر قسم کی علامتوں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
٭ فلسطین کے بے یارومددگار زخمیوں، یتیموں، بیواؤں، بے گھروں، جیل کی کال کوٹھریوں میں تعذیب اور درندگی کا نشانہ بننے والوں کے لیے مالی، قانونی اور سیاسی ذرائع کا استعمال کریں۔
٭ ایسے اداروں کا تعاون کریں جو اہل فلسطین کی مدد کے لیے خاص ہیں۔
٭ بے گھر فلسطینیوں کو اپنے ممالک میں آنے کی سہولیات فراہم کریں، ان کے قیام، تعلیم اور ملازمت کے انتظام کی اجتماعی کوشش کریں۔
٭ فلسطین، لبنان، اردن میں فلسطینی مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کریں تاکہ ان کے حالات سے واقفیت ہو۔
٭ لائبریریوں میں اور خاص طور پر مساجد کی لائبریریوں میں فلسطین سے متعلق مخصوص گوشے میں فلسطین سے متعلق لٹریچر فراہم کریں۔
٭ مساجد میں قنوت اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔
٭ تعارفی بینرز، پمفلٹس، کتابوں کی طباعت کا اہتمام کریں۔
٭ انٹرنیٹ کے ذریعہ ویب سائٹس، بلاگز، پیجز، بنا کر سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کو اجاگر کرنے کی منصوبہ بند مہم چلائیں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT