Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فورسیس کی وحشیانہ فائرنگ، امام اور 14 مصلیان زخمی

مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فورسیس کی وحشیانہ فائرنگ، امام اور 14 مصلیان زخمی

باب الداخلہ پر خفیہ کیمروں اور میٹل ڈکٹیٹرس کی تنصیب کے خلاف فلسطینیوں کا کئی مقامات پر احتجاج

مقبوضہ بیت المقدس ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مسجد الاقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری گذشتہ روز منگل کو اس مسجد کے باب الداخلہ پر نماز کی ادائیگی کے دوران اسرائیلی فورسیس کی فائرنگ کے سبب پلاسٹک گولی لگنے سے زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ عکرمہ نے گذشتہ شب نماز عشاء کی امامت ختم ہی کی تھی کہ اسرائیلی پولیس نے مصلیوں کو طاقت کے استعمال کے ذریعہ باہر نکالنے کی کوش ش کی، جس کے نتیجہ میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ صبر کو مشرقی یروشلم کے دواخانہ میں شریک کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔ جمعہ کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں پانچ افراد کی ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی حکومت مسجد الاقصیٰ کے باب الداخلہ پر میٹل ڈیکٹیٹرس اور خفیہ کیمرے نصب کی تھی جس کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارہ میں احتجاج کے دوران ایک 30 سالہ فلسطینی رفعت الحربوں ہلاک ہوگیا تھا۔ فلسطینی اعداد کے مطابق اکٹوبر 2015ء سے اسرائیلی فورسیس سے تصادم یا اسرائیلیوں پر حملوں کے نتیجہ میں تاحال 300 فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہیکہ اس مدت کے دوران فلسطینیوں کے حملوں میں تقریباً 50 اسرائیل ہلاک ہوئے ہیں۔ اسلام میں مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے بعد مسجد الاقصیٰ تیسری مقدس ترین عبادت گاہ ہے۔

مسجد الاقصیٰ پر حملہ، اسرائیل پر ترکی کی تنقید
مسجد الاقصیٰ میں گذشتہ شب نمازعشاء ادا کرنے والوں پر اسرائیلی فورسیس کی ربر بلٹ فائرنگ اور اس واقعہ میں بشمول امام عکرمہ صبری 14 مصلیان کے زخمی ہوجانے پر اسرائیلی حکومت کی سخت مذمت کی ہے۔ ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان کرطولمس نے اسرائیل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کو بندکرنا انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’اسرائیل کی طرف سے مسجد الاقصیٰ کو بند کردینا ناقابل قبول ہے۔ یہ عبادت کے حق اور آزادی کے مغائر ہے‘‘۔ ترکی کے وزیر مذہبی امور محمد گورمیز نے بھی مسجد الاقصیٰ کے امام اور مصلیان پر اسرائیلی فورسیس کی فائرنگ کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک ایسے وقت جب ہماری جغرافیہ درد و ابتلا کا سامنا کررہی ہے اس دوران مسجد الاقصیٰ اور اس کے اطراف رونما ہونے والے واقعات کسی بھی سمجھدار شخص کیلئے باعث تشویش ہیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ وہ (اسرائیل) مسجد الاقصیٰ کا حشر بھی مسجد الخلیل جیسا نہیں کریں گے۔ مسجد خلیل پیغمبران دین امن حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسحاق ؑ، حضرت یعقوبؑ و حضرت یوسف ؑ سے وابستہ مقدس مقام ہے‘‘۔ ترک وزیر مذہبی امور دراصل 1994ء میں حبرون کی مسجد ابراہیمی میں ہوئے قتل عام کا حوالہ دے رہے تھے جس میں امریکی نژاد یہودی دہشت گرد نے 30 مصلیان کو ہلاک کردیا تھا۔

یروشلم میں اسرائیلی پولیس کے
ساتھ تصادم میں فلسطینی نمازی زخمی
یروشلم، 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یروشلم میں حرم القدسی کے نزدیک عشا کی نماز کے بعد پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کئی فلسطینی زخمی ہوگئے ان میں سے کم از کم ایک کی حالت تشویشناک ہے ۔ یہ اطلاع فلسطینی میڈیکل افسران نے دی ہے ۔اسپتال کے ایک افسر نے بتایا ہے کہ ایک شخص قریب سے ماری گئی ربڑ کی گولی سے بری طرح زخمی ہوگیا ہے مگر اسرائیلی پولیس ترجمان نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ربڑ کی گولیاں استعمال کی گئی تھیں قبلہ اوہل کے امام و خطیب شیخ اکرمہ صبری بھی زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ مقام مسلماوں اور یہودیوں دونوں کے لئے مقدس ہے ۔جمعہ کو عرب افسرائیلی بندوق بردار نے دو اسرائیلی پولیس والوں کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا۔ حملہ آوروں کو اسرائلی فورسز نے مار ڈالا تھا تب سے اس احاطہ کے پاس کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT