Tuesday , December 18 2018

مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ کیلئے بات چیت کے بعد عمرکی حدختم

یروشلم۔ 15 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں گذشتہ کئی مہینوں کے بعد پہلی مرتبہ تمام عمر کے مسلمان مردوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اپنے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی ہے۔اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ٹیمپ

یروشلم۔ 15 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں گذشتہ کئی مہینوں کے بعد پہلی مرتبہ تمام عمر کے مسلمان مردوں کو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے جس کے بعد فلسطینی مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اپنے قبلہ اول میں نماز جمعہ ادا کی ہے۔اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ٹیمپل ماؤنٹ (مسجد الاقصیٰ) میں عبادت کے لیے آنے والوں پرآج عمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ چیزیں پرامن رہیں گی‘‘۔واضح رہے کہ یہود مسجد الاقصیٰ کیلئے ٹیمپل ماؤنٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں اور اس کے آس پاس کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے آج صبح پولیس کے اضافی یونٹ تعینات کردیئے گئے ہیں۔روزنفیلڈ نے مسجد الاقصیٰ میں مسلمانوں پر عاید پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کو جمعرات کو اردن میں مذاکرات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کو مسجد الاقصیٰ میں صرف خواتین اور 35سال سے زائد عمر کے مسلمانوں کو نماز جمعہ کیلئے داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ایک ماہ سے انتہا پسند یہودیوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور وہ بار بار مسجد الاقصیٰ میں دراندازی کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کے انتہا پسند یہود مسجد الاقصیٰ میں عبادت کے نام پر دراندازی کیلئے ایک عرصے سے مہم چلا رہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہناہے کہ ان کی حکومت مسجد الاقصیٰ کے کمپاؤنڈ کے موقف میں ایسی کسی تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے جس سے یہود کو مسجد کے اندر جانے کی اجازت مل جائے۔

TOPPOPULARRECENT