Monday , November 20 2017
Home / عرب دنیا / مسجد الحرام حادثے میں شہید ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد 11 ہوگئی

مسجد الحرام حادثے میں شہید ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد 11 ہوگئی

مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زائد مسلمانوں کی آمد متوقع، ہندوستانی سفارتخانہ کا مکمل تعاون
مکہ مکرمہ ۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے شہر مکہ کی مسجد الحرام میں کرین گرنے سے شہید ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ جمعہ کو ہوئے حادثے میں شہید ہونے والے ہندوستانیوں کی تعداد پہلے دو بتائی گئی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ مجموعی طور پر شہید ہونے والے 107 افراد میں مزید نو بھارتی شہری شامل ہیں۔ کرین گرنے کا یہ واقعہ جمعے کی شام دنیا کی سب سے بڑی مسجد کے صحن میں اس وقت پیش آیا تھا جب شدید طوفانِ بادوباراں کے دوران ایک کرین مسجد کی تیسری منزل کی چھت توڑتی ہوئی نیچے آ گری تھی۔حادثے کے وقت مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ خیال رہے کہ یہ واقعہ فریضۂ حج سے دو ہفتے قبل پیش آیا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹویٹ میں بتایا کہ ’اتوار کو مردہ خانہ کھولے جانے کے بعد ہندوستان کے عازمین حج کے رشتہ داروں کے ساتھ کام کرنے والے اہلکاروں نے مزید نو ہندوستانی شہریوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی سفارت خانہ ہلاک ہونے والے تمام 11 ہندوستانی عازمین حج کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہا ہے۔‘ اس حادثے میں 230 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں کتنے لوگوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں انڈونیشیا، ایران، ترکی، افغانستان، مصر، ہندوستان اور پاکستان کے شہری شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور بارش کے سبب یہ حادثہ پیش آیا جبکہ اخباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے سعودی عرب کے تعمیری مقامات پر موجود حفاظتی انتظامات پر خدشات رہے ہیں۔ ابھی تک تقریبا 10 لاکھ افراد حج کے لیے مکہ پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سال حج کے لیے مجموعی طور پر 30 لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی سعودی عرب آمد متوقع ہے۔ خیال رہے کہ حج کے موقعے پر مسجد الحرام میں تعمیراتی کام جاری ہے اور اس کی وجہ مسجد میں مزید عازمین کے لیے گنجائش پیدا کرنا ہے۔ مکہ میں عازمینِ جج اور زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پرانی عمارتوں کے انہدام اور ان کی جگہ بلند و بالا ہوٹلوں اور دیگر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT