Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / مسجد حرام میں 81 ہزار مربع میٹر پر نماز ادا نہیں کی جاسکے گی

مسجد حرام میں 81 ہزار مربع میٹر پر نماز ادا نہیں کی جاسکے گی

مکہ مکرمہ ۔30اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پر شروع کردہ مسجد حرام کا توسیعی منصوبہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے تعمیراتی کام کے دوران اگلے ایک سال تک مسجد حرام میں 81 ہزار 567 مربع میٹر کی جگہ پر نماز کی ادائی اور زائرین کی آمدورفت نہیں ہو سکے گی۔ یہ جگہ صرف تعمیر

مکہ مکرمہ ۔30اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) خادم الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پر شروع کردہ مسجد حرام کا توسیعی منصوبہ اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ دوسرے مرحلے کے تعمیراتی کام کے دوران اگلے ایک سال تک مسجد حرام میں 81 ہزار 567 مربع میٹر کی جگہ پر نماز کی ادائی اور زائرین کی آمدورفت نہیں ہو سکے گی۔ یہ جگہ صرف تعمیراتی میٹریل، مشینری اور منصوبے پر کام کرنے والے کارکنوں کے لئے مختص ہو گی۔’العربیہ ‘ کے مطابق جب سے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے نگراں ادارے کی جانب سے تعمیراتی منصوبے کے تسلسل اور اس کی تکمیل کے بعد بیت اللہ میں زیادہ سے زیادہ زائرین کی گنجائش کا مژدہ سنایا گیا ہے سماجی رابطے پر اسے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔سماجی کارکنوں نے زائرین کی سہولت اور دلچسپی کے لئے مسجد حرام کا تین رنگوں سبز، زرد اور سرخ پر مشتمل ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے جس میں رنگوں کی مدد سے بتایا گیا ہے کہ مسجد کے کس حصے میں نماز کی اجازت ہے؟ کہاں جزوی آمد ورفت ہو سکتی ہے

اور کس مقام پر جانے سے منع کیا گیا ہے۔مسجد حرام کی فضاء سے لی گئی تصویر کے مطابق اس کے تین حصے تین رنگوں میں نمایاں کئے گئے ہیں۔ فی الوقت سبز رنگ والے حصے میں نماز ہو رہی ہے اور زائرین کو کھلے عام چلنے پھرنے کی اجازت ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جسے سابق سعودی فرمانروا شاہ فہد کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور کچھ حصہ شاہ عبداللہ توسیعی پروجیکٹ کے دوران بھی بنایا گیا۔زرد رنگ والے حصے میں زائرین کو گذرنے کی اجازت تو ہے مگر یہ جگہ بھی ابھی تک نماز کے لئے مکمل طور پر تیار نہیں ہوئی ہے۔ البتہ یہاں زیادہ خطرات نہیں ہیں۔ یہ حصہ مسجد کا کل 20 فیصد ہے۔ یہاں معمولی تعمیر اور مرمت کا کام جاری ہے۔ سرخ رنگ میں دکھائے گئے مسجد کے حصے میں کسی غیر متعلقہ شخص کا داخلہ قطعی ممنوع ہے کیونکہ یہاں بھاری مشینری کی مدد سے تعمیراتی کام ہو رہا ہے۔ توقع ہے کہ توسیع حرم کا یہ حصہ آئندہ سال موسم حج سے قبل پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT