مسجد سرائے شیخ پیٹ کی سرکاری خرچ پر تزئین نو

پولیس ایکشن کے بعد پہلی مرتبہ عظیم تاریخی مسجد کی عظمت رفتہ بحال، سیاست کی رپورٹ کا اثر

پولیس ایکشن کے بعد پہلی مرتبہ عظیم تاریخی مسجد کی عظمت رفتہ بحال، سیاست کی رپورٹ کا اثر

حیدرآباد 20 اپریل (نمائندہ خصوصی) حیدرآباد شہر جنوب ایشیاء میں اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز، دینی مدارس، مسجدوں اور خانقاہوں کا شہر، اولیاء اللہ کی سرزمین، امن و محبت کا گہوارہ اور موقوفہ جائیدادوں کے لحاظ سے ملک میں سرفہرست ہونے کے باوجود ہمارے شہر میں کئی ایسی غیر آباد مساجد، لاپرواہی کا شکار درگاہیں اور سرائے و قبرستان ہیں جن کی بے حرمتی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن روزنامہ سیاست نے اپنی ایمانی حرارت کی روشنی میں کئی مساجد، درگاہوں، قبرستانوں اور اوقافی جائیدادوں کی حفاظت اور بازآبادکاری کا ایک بیڑا اٹھا رکھا ہے اور جو کام نیک نیتی اور آخرت کے بہتر توشے کی نیت سے کیا جاتا ہے اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی بھی غیبی مدد شامل ہوجاتی ہے اور اس کا ایک بہترین نمونہ گزشتہ روز شیخ پیٹ کی ایک تاریخی مسجد اور درگاہ کی داغ دوزی کرتے ہوئے عوام کے لئے نہ صرف کھول دیا گیا ہے بلکہ عوام نے اس میں نماز بھی ادا کی ہے۔ 400 سالہ قدیم مسجد شیخ پیٹ کو محکمہ آثار قدیمہ نے 50 لاکھ روپئے سے اس کی داغ دوزی اور آہک پاشی کرتے ہوئے کل ’’ورلڈ ہیرٹیج ڈے‘‘ کے موقع پر سرکاری طور پر افتتاح عمل میں لایا اور اس طرح روزنامہ سیاست کی گزشتہ کئی برسوں کی ان تھک کوششوں کے بعد بروز جمعہ بعد مغرب سرکاری طور پر مسجد شیخ پیٹ کا افتتاح عمل میں آگیا ہے۔

یہاں روزنامہ سیاست کی کوشش کا تذکرہ بھی ہم ہے کہ اس نے مسلسل کئی برسوں سے نہ صرف اس مسجد شیخ پیٹ، سرائے اور درگاہ کے متعلق عوام، وقف بورڈ، محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت کی لاپرواہی اور کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے جانے کے متعلق عوام کو مسلسل آگاہ کرتا رہا ہے جس پر محکمہ آثار قدیمہ نے 3 برس قبل اس سرائے مسجد اور درگاہ کی بازآبادکاری کے کام کا آغاز کیا تھا اور کل ’’ورلڈ ہیرٹیج ڈے‘‘ کے موقع پر سرکاری طور پر مسجد شیخ پیٹ کا افتتاح اور درگاہ کو بہتر حالت میں دیکھ کر دل کو سکون ملا ہے۔ راقم الحروف نے اس تقریب میں شرکت کی تو مسجد کی داغ دوزی اور رنگ و روغن کے بعد اس کی دلکشی کو دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ گئیں کیونکہ شاندار حالت میں اس مسجد کو دیکھنے کے بعد فن تعمیر کا شاہکار یہ عمارت بس دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ چند برس قبل ہم نے شیخ پیٹ کے سرائے، مسجد، درگاہ کی تفصیلات اور وقف بورڈ کے ریکارڈ سے واقف کروایا تھا۔ شیخ پیٹ کی تاریخی مسجد، سرائے خانہ چوکھنڈی اور قبرستان کا مکمل ریکارڈ وقف گزٹ میں باقاعدہ طور پر درج ہے۔ وقف گزٹ نمبر 260 مورخہ 01-07-1982 صفحہ نمبر 37 ، سیریل نمبر 192 میں اس کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس کا وقف آئی ڈی نمبر حیدرآباد 492 اور وارڈ نمبر 8 ہے اور اس اراضی کا مکمل رقبہ 9815 مربع گز ہے جبکہ یہ مسجد، درگاہ اور سرائے مکمل غیر مسلم آبادی میں موجود ہے۔ تقریباً 450 برس قبل ابراہیم قطب شاہ نے گولکنڈہ ۔ بیدر شاہراہ پر اس سرائے اور مسجد کو تعمیر کروایا تھا اور اس سرائے میں 30 کمرے ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ٹورازم اینڈ ہاسپٹل مینجمنٹ گچی باؤلی کی جانب سے اس سرائے اور مسجد کا کام کروایا جارہا ہے اور ورلڈ ہیرٹیج ڈے کے موقع پر مسجد کا سرکاری افتتاح عمل میں آگیا لیکن سرائے کی داغ دوزی اور آہک پاشی کا کام ہنوز جاری ہے اور آئندہ چند ماہ میں سرائے کی بازآبادکاری کا کام بھی مل ہوجائے گی۔ الحمدللہ روزنامہ سیاست کی کئی برسوں کی انتھک کوششوں کے بعد مسجد سرائے شیخ پیٹ دوبارہ آباد ہوگی ہے لیکن ملت اسلامیہ کا کام یہیں ختم نہیں ہوا چونکہ یہ مسجد مکمل غیر مسلم آبادی میں موجود ہے لہذا یہاں نمازوں کی ادائیگی اور دیگر دینی اُمور کے سلسلہ کو جاری رکھنا ہمارا فرض ہے۔ مسجد سرائے شیخ پیٹ جوکہ تقریباً 10 ہزار مربع گز پر محیط ہے۔ یہ آندھراپردیش ٹورازم ڈپارٹمنٹ کی زیرنگرانی ہے اور اس علاقہ پر اس ڈپارٹمنٹ کی سکیورٹی ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT