Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد عالمگیر خانم پیٹ اور اس کی اراضی تحفظ پر مقامی افراد کی مخالفت

مسجد عالمگیر خانم پیٹ اور اس کی اراضی تحفظ پر مقامی افراد کی مخالفت

حکومت سے شکایت ، مسجد آباد کرنے کی مساعی پر مقامی افراد چراغ پا
حیدرآباد ۔ 18۔ اکتوبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ کی جانب سے مسجد عالمگیر خانم میٹ اور اس کی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کی گئی کارروائی مقامی افراد کی مخالفت کا سبب بن گئی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ بعض مقامی عوامی نمائندوں نے حکومت سے شکایت کی ہے کہ وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے حکم ا لتواء کے باوجود اراضی کی حد بندی کی ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے وضاحت طلب کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ خانم میٹ میں مسجد عالمگیر کے تحت ایک ایکر 15 گنٹے اراضی وقف ریکارڈ میں موجود ہے اور طویل جدوجہد کے بعد صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے شخصی دلچسپی لیتے ہوئے پولیس کی مدد سے اراضی کا تحفظ کیا ۔ ایک ایکر 14 گنٹے اراضی کی حدبندی کی گئی اور مسجد کو آباد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ حد بندی کے تکمیل کے ساتھ ہی بعض مقامی افراد پولیس سے رجوع ہوئے اور ہائی کورٹ کے حکم التواء کا حوالہ دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی پولیس نے بھی وقف بورڈ کے عہدیداروں کو حصار بندی کا کام روکنے کی ہدایت دی ۔ تاہم بورڈ نے اس کام کو جاری رکھا اور اس قیمتی اراضی کا تحفظ کیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ علاقہ میں موجود تقریباً 700 ایکر اراضی سے متعلق سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر دوران ہیں اور عدالت نے حکم التواء جاری کیا ہے۔ حکم التواء کے باوجود علاقہ میں ہمہ منزلہ عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے لیکن کسی نے ان کاموں پر اعتراض نہیں کیا۔ جیسے ہی تاریخی مسجد عالمگیر کو آباد کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقامی افراد بورڈ کے خلاف حکومت سے رجوع ہوئے۔ مسجد سے متصل ایک خاتون آئی اے ایس عہدیدار کی جانب سے تعمیری کاموں پر کسی نے اعتراض نہیں کیا لیکن مسجد کا معاملہ آتے ہی کئی افراد پولیس اور حکومت سے رجوع ہوکر اس کام کو روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی ، ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہ دعویٰ کیا کہ انہیں یہ اراضی پٹہ جات کے طور پر الاٹ کی گئی ہے ، لہذا وقف بورڈ کو حصار بندی کا اختیار نہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم التواء میں اگرچہ مسجد کی اراضی سے متعلق سروے نمبر 65 شامل ہیں۔ لیکن اطراف میں جاری تعمیرات پر کسی کو اعتراض نہیں۔ وقف ریکارڈ کے مطابق مسجد اور اس کے تحت ایک ایکر 15 گنٹے اراضی ہے اور اس کا تحفظ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے تحت نہیں آئے گا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے تیقن دیا کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت کو رپورٹ روانہ کردیں گے ۔ انہوں نے اراضی کے تحفظ اور مسجد کو آباد کرنے کیلئے وقف بورڈ کے اقدامات کی ستائش کی۔ مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے مسجد کے خلاف سرگرمیوں پر مقامی مسلمانوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT