Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسجد عامرہ سے متصل اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کا جائزہ ، عہدیداروں کا دورہ

مسجد عامرہ سے متصل اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کا جائزہ ، عہدیداروں کا دورہ

دستاویزات کی جانچ ، وقف اراضی کے ثبوت پر تعمیرات سے دستبردار ہونے تاجر کا پیشکش

دستاویزات کی جانچ ، وقف اراضی کے ثبوت پر تعمیرات سے دستبردار ہونے تاجر کا پیشکش
حیدرآباد 9 فبروری (سیاست نیوز) مسجد عامرہ عابڈس سے متصل اراضی پر تعمیری سرگرمیوں کی شکایت پر وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ٹیم نے معائنہ کیا ۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر سلطان محی الدین اور وقف بورڈ کی کرایہ سے متعلق کمیٹی کے صدر نشین ریٹائرڈ سیشن جج جناب ای اسمعیل اور ریٹائرڈ ڈی ایس پی جناب عظمت اللہ نے ماتحت عہدیداروں کے ساتھ مسجد کا معائنہ کیا ۔ انہوں نے مسجد سے متصل ملگی کے مالک کو طلب کرتے ہوئے اراضی سے متعلق ریکارڈ طلب کیا۔ وقف ریکارڈ کا جائزہ لینے پر انکشاف ہوا کہ تاجر کی جانب سے جو تعمیری سرگرمی جاری ہے وہ مسجد سے متصل علاقہ میں ہے تاہم اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا یہ اراضی وقف ہے یا نہیں۔ عہدیداروں نے تاجر کو تعمیری سرگرمی روکنے کی ہدایت دی اور اس سے دستاویزات معہ لنک ڈاکومنٹس طلب کئے۔ مذکورہ تاجر نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کے روبرو کل تمام دستاویزات پیش کرنے سے اتفاق کرلیا ۔ جناب ای اسمعیل نے بتایا کہ مسجد کی اراضی پر کوئی تعمیر نہیں کی گئی اس کے باوجود وقف بورڈ سارے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قطعی فیصلہ کرے گا ۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر نے کمیٹی کو علاقہ کے دورہ کی ہدایت دی تا کہ مسجد کی اراضی کا تحفظ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ تاجر کی جانب سے کسی بھی غیر قانونی تعمیر کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کے روبرو پیش ہوتے ہوئے مذکورہ تاجر نے ریکارڈ کی بنیاد پر وقف اراضی ثابت ہونے کی صورت میں دستبرداری کا پیشکش کیا ہے۔ وقف بورڈ کی فوری کارروائی پر مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کیا تاہم مصلیوں کا مطالبہ ہے کہ یہ مسجد کی کمیٹی کے قیام کے سلسلہ میں ہائی کورٹ نے جو احکامات جاری کئے ان پر عمل کیا جائے ۔ کمیٹی کی تحقیقات پر بورڈ کے کسی بھی عہدیدار کی ملی بھگت ثابت نہیں ہوئی ہے۔جناب جلال الدین اکبر نے واضح کیا کہ مسجد کی اراضی کا بہر صورت تحفظ کیا جائے گا ۔ وقف بورڈ کے متعلقہ انسپکٹر اور دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اراضی کے بارے میں حقائق سے اعلی عہدیداروں کو واقف کرادیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT