Sunday , December 17 2017
Home / آپ کے سوال / مسجد میں بلند آواز سے تلاوت

مسجد میں بلند آواز سے تلاوت

سوال :  بعض ضعیف حضرات فجر کی نماز کے بعد مسجد میں بلند آواز سے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ۔ کیا مسجد میں بلند سے قرآن کی تلاوت جائز ہے یا نہیں ؟
محمد برہان الدین، مستعد پورہ
جواب :   مساجد اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے ہے اور مسجد میں قرآن مجید کی تلاوت آہستہ و بلند آواز سے درست ہے۔ البتہ گرد وپیش میں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو آہستہ تلاوت کرنی چاہئے تاکہ نمازیوں کو خلل نہ ہو
مذکورہ درسوال صورت میں بعض ضعیف العمر بعد نماز فجر بلند آواز سے تلاوت کرتے ہیں تو شرعاً اس میں ممانعت نہیں۔ اگر دیگر ذکر و شغل میں مصروف حضرات کو خلل کا اندیشہ ہو تو حکم یہی ہے کہ آہستہ پڑھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ایک دن آپ مسجد میں تشریف لائے ، آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے ہیں اور کچھ بلند آواز سے تلاوت کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشیاں کر رہا ہے لہذا ایک دوسرے کو تکلیف نہ دو ‘‘۔

ایک حدیث کی تحقیق
سوال :  حال ہی میں میرے ایک دوست سے گفتگو ہوئی وہ ائمہ اربو کی تقلید کو ضروری نہیں سمجھتے، گفتگو کے دو ران میں نے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بنی آدم کا سردار ہوں، اس پر مجھے کوئی فخر نہیں، یہ حدیث شریف ہے تو میرے دوست نے فوری کہہ دیا اس قسم کی کوئی حدیث نہیں۔ آپ سے دریافت کرنا یہ ہے کہ یہ حدیث ہے یا نہیں اور کس کتاب میں ہے ؟
محمد سہیل قادری، حسینی علم
جواب :  سوال میں جس حدیث کا آپ نے ذکر کیا ہے اس کے الفاظ اس طرح ہیں۔ ’’ انا سید ولد آدم ولد فخر ‘‘ میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور کوئی فخر نہیں۔ امام مسلم نے صحیح مسلم جلد 2 ص : 245 کتاب الفضائل باب تفضیل بنینا صلی اللہ علیہ وسلم علی  جمیع الخلائق میں اور امام ترمذی نے جامع ترمذی جلد 2 ص : 201 ابواب المتاقب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں امام ابن ماجہ نے اپنی سنن ابن ماجہ جلد 2 ابواب الزھد باب ذکر الشفاعۃ میں اور امام حاکم نے مستدرک جلد 2 ص 605 کتاب التارے خ ذکر اسماء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں ۔ علامہ ابن حبان کتاب الثقات جلد اول ص : 21 میں امام بیھقی نے شعب الایمان جلد 2 ص : 181 باب حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں متن میں معمولی اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۔

میت کو کاندھا دینا مسنون ہے
سوال :  نماز جنازہ پڑھنا اور قبرستان کو جانا اور تدفین تک قبرستان میں رہنا باعث اجر و ثواب ہے، لیکن بعض لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ بڑے جوش و خروش سے جنازہ کو کاندھا دینے کے لئے دوڑتے ہیں اور اس کے لئے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔
شرعی نقطہ نظر سے میت کو کاندھا دینا بھی کیا نیکی ہے ؟ اس کے متعلق شرعی احکام سے واقف کرائیں تو مہربانی ہوگی ؟
محمد کلیم الدین، نارائن گوڑہ
جواب :  شرعاً میت کو کاندھا دینا عبادت ہے، اس لئے ہر ایک کے لئے مناسب ہے کہ وہ کاندھا دینے کے لئے سبقت کرے کیونکہ کاندھا دینا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے ۔ چنانچہ زرقانی شرح مواھب لدنیہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادۃؓ کے جنازہ کا کاندھا دیا ہے ۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص : 399 میں ہے : و حمل الجنازۃ عبادۃ فینبغی لکل أحد ان یبادرالیھا فقد حمل الجنازۃ سیدالمرسلین فانہ حمل جنازۃ سعد بن عبادۃ نقلہ السید عن الجوھرۃ۔

اہلسنت والجماعت کی وجہ تسمیہ
سوال :   اہل سنت والجماعت سے مراد کیا ہے، اس کی تشریح اور تحقیق بیان کریں تو مہربانی ہوگی ۔ مجھے اہلسنت والجماعت کے عقائد معلوم ہیں لیکن میں اس کی تاریخ جاننا چاہتا ہوں، کب سے یہ اہل سنت والجماعت کا  لفظ مسلمانوں میں عام ہو، اس مذہب کی تائید و حمایت کرنے والے کون رہے۔ براہ کرم مستند کتابوں کے حوالے سے بیان کیا جائے تو عین نوازش ۔
حافظ عبدالاحد، فلک نما
جواب :  اہل السنت کے لغوی معنی ہیں : سنت والے لوگ ۔ سنۃ لغوی اعتبار سے راستہ ، عادات ، رسم اور شریعت کو کہتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ باتیں ہیں جن کے کرنے کا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قولاً و فعلاً دیا یا ان سے منع فرمایا (تاج ، بذیل مادہ سنۃ) ۔ امام راغب فرماتے ہیں کہ ’’ سنۃ النبی‘‘ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وہ  طریق ہے جس پر آپ عملی زندگی میں کاربند رہے۔ سنت کی ضد بدعت ہے۔ سنت میں خلفائے راشدین کی سنت بھی شامل ہے  (ابو داؤد، 4 : 281 )۔ حدیث کے الفاظ ہیں: علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین (احمد : المسند ، 4 : 126 ، ابو داؤد ، کتاب السنۃ، باب 5 ) ۔
اہل السنت والجماعت کی ترکیب کے بارے میں علماء نے صراحت کی ہے کہ’’ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی طرز زندگی اور طریق عمل کو سنت کہتے ہیں۔ جماعت کے لغوی معنے تو گروہ کے ہیں، لیکن یہاں جماعت سے مراد جماعت صحابہ ہے‘‘۔ اس لفظی تحقیق سے اہل السنت والجماعت کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے، یعنی یہ کہ اس فرقے کا اطلاق ان اشخاص پر ہوتا ہے جن کے اعتقادات ، اعمال اور مسائل کا محور پیغمبر علیہ السلام کی سنت صحیحہ اور صحابۂ کرام کے آثار ہیں ۔  البغدادی نے ایک حدیث کی بناء پر اہل السنت کی ایک صفت یہ لکھی ہے : الذین ھم ما علیہ ھو و اصحابہ ، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو آنحضرتؐ کے طریقے (سنت) اور آپ ؐ کے اصحاب کے مسلک پر ہیں۔ البغدادی نے اہل السنۃ والجماعۃ ہی کو ’’ فرقۂ ناجیہ‘‘ ۔ قرار دیا ہے۔
مصلحین امت  نے ہر دور میں ملت اسلامیہ کو افتراق سے بچانے کی کوشش کی ہے ۔ ایسی ہی ایک کوشش اہل السنۃ والجماعۃ کی جامع اصطلاح ہے، جس کے دائرے میں زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو لانے کی کوشش کی گئی۔ اہل السنۃ والجماعۃ کی اصطلاح لفظی اعتبار سے اگرچہ دیر کے بعد ظہور میں آئی مگر عملی طور پر ملت کی غالب اکثریت آغاز ہی سے اس پر کار بند تھی اور ایسے مصلحین کی بھی کمی نہیں رہی جو ملت کی وحدت کے لئے ہمہ تن سرگرم رہے، مثلاً الاشعری سے پہلے المحاسبی (م 243 ھ / 857 ء) نے اہل سنت کے عقائد کی تا ئید کی اور اس کے لئے علم کلام کو استعمال کیا ۔ ہر کلمہ گو کو تکفیر سے محفوظ رکھنے کا خیال بھی  ہمیشہ موجود رہا (الشہرستانی : الملل والنحل ، ص 105)
تیسری / چوتھی صدی ہجری میں اہل السنت والجماعت کی تائید و حمایت کے لئے اور معتزلہ کے ردعمل کے طور پر دو طاقتور تحریکیں اٹھیں۔ ان میں سے ایک تو اشاعرہ کی تحریک تھی، جس کے بانی ابوالحسن الاشعری تھے۔ دوسری تحریک ماتریدیہ کی ہے، جس کے بانی ابو منصور الماتریدی (م 333 ھ / 944 ء) تھے ۔ دونوں تحریکوں کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی اہل السنت والجماعت کے عقیدے کی حمایت ۔ الاشعری اور الماتریدی بہت سے بنیادی مسائل میں مکمل اتفاق رکھتے تھے، صرف چند ایک فروع میں اختلاف تھا، مگر یہ معمولی نوعیت کا تھا (ظہر الاسلام ، 4 : 92 ) ۔ الماتریدی کے کلامیہ مسلک کی تائید و حمایت جن ممتاز حنفی علماء نے کی ان میں علی بن محمد البزدوی (م 413 ھ) ، علامہ تفتازانی (م 793 ھ ) ، علامہ نسفی (م 537 ھ) اور علامہ ابن الھمام (م 861 ھ) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح امام اشعری کے کلامیہ مسلک کی تائید میں بھی علماء کی ایک بڑی جماعت میدان میں آئی۔ ان میں امام ابوبکر الباقلانی (م 403 ھ) ، عبدالقاہر البغدادی (م 429 ھ) ، علامہ ابن عساکر (م 492 ھ) ، امام غزالی (م 505 ھ) اور امام فخرالدین الرازی (م 606 ھ) کے نام بڑی اہم اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں (ظہر الاسلام ، 4 : 73 )
اہل السنت والجماعت کے عقائد کو خلفا و سلاطین کی حمایت و سرپرستی بھی حاصل رہی۔ عباسی خلفاء میں سے خلیفہ المتوکل علی اللہ کے دور میں اہل سنت کے مسلک کا حکومتی سطح پر فروغ ہوا اور اس مسلک کو سرکاری سرپرستی اور حمایت حاصل ہوئی۔ اسی لئے المتوکل کو محی السنۃ (سنت کو زندہ کرنے والے) کا خطاب ملا (مُرُوج الذھب ، 2 : 369 ) ۔ مصر اور شام میں سلطان صلاح الدین ایوبی (م 589 ھ / 1193ء) اور ان کے وزیر القاضی الفاضل نے مسلک اہل السنت والجماعۃ کو سرکاری مذہب کی حیثیت دی۔ بدعات کو ختم کرنے کے لئے فرمان جاری کئے گئے اور مدارس میں مالکی و شافعی فقہ کی تدریس کا سلسلہ شروع ہوا۔ (ظہرالاسلام ، 4 : 97 ) ۔ اسی طرح مغربی افریقہ اور اندلس میں بھی مسلک اہل السنت والجماعت کو سرکاری حمایت حاصل ہوئی۔ محمد بن تومرت (522 ھ / 1128 ء) الموحدون کا سربراہ تھا اور اس نے امام غزالی کی خدمت میں زانوے تلمذتہ کیا تھا ۔ جب خدا نے اسے اقتدار بخشا تو اس نے جو کچھ اپنے استاد سے سیکھا تھا اسے عملی طور پر نافذ کیا (ظہر الاسلام ، 4 : 98 )۔ دولت غزنویہ کے سربراہ سلطان محمود غزنوی نے بھی مسلک اہل السنۃ والجماعت کی پر زور حمایت کی اور اسے سرکاری مسلک کی حیثیت دے کر تقویت و تائید بخشی (ظہرالاسلام ، 4 : 99 )

امام کی لکنت اور اس کی اقتداء
سوال :   زید شہر کی سب سے بڑی مسجد کا امام ہے۔ اس کی زبان میں لکنت ہے جس کی وجہ سے اس کی قرات قرآن مجید تجویدی قوانین پر نہیں اترتی ایسے امام کی نماز اور اس کی امامت اور اس کی مطلق قرات کلام پاک کا کیا حکم ہے۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں تو عین نوازش ہوگی ؟
محمدعلاء الدین،چارمینار،حیدرآباد
جواب :  صورت مسئول عنہا میں لکنت تھوڑی ہو اور الفاظ کی ادائی سے معنیٰ نہیں بدلتے ہوں تو ا مامت درست ہے ۔ ورنہ صاف طور پر الفاظ ادا کرنے والے کی امامت ، واضح لکنت والا نہ کرے ۔ کیونکہ نماز میں فساد ہوتا ہے ۔ البتہ وہ خود معذور ہونے کی وجہ انفرادی طور پر اپنی نماز پڑھ سکتا ہے ۔

سجدۂ تلاوت کا طریقہ
سوال :  آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد قرآن بازو رکھ کر بیٹھ کر ہی سجدہ کیا جاسکتا ہے ۔ یا پہلے کھڑا ہونا پھر سجدہ کرنا سجدے کے بعد پھر کھڑا ہونا ہے ۔ آیت سجدہ کا سجدہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے ۔ ایک ہی آیت سجدہ بار بار دہرانے پر ایک ہی سجدہ کافی ہے یا جتنے بار آیت کو دہرایا جائے اتنے سجدے کرنا ہے ؟
نام مخفی
جواب :   ایک مجلس میں متعدد مرتبہ آیت سجدہ پڑھی جائے تو ایک ہی سجدہ کرنا کافی ہے ۔ متعدد مجلس میں آیت سجدہ متعدد بار پڑھی جائے تو ہر بار علحدہ سجدہ کرنا ہوگا ۔ سجدۂ تلاوت میں دو قیام مستحب اور دو تکبریں مسنون ہیں۔ سجدہ تلاوت کا  طریقہ یہ ہے کہ کھڑے ہوکر اللہ ا کبر کہے اور سجدہ میں جائیں ۔ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہوجائیں۔سجدۂ تلاوت دو تکبیروں کے درمیان نماز کے شرائط سے کیا جاتا ہے مگر اس کے لئے ہاتھ اٹھانے اور تشھد و سلام کی ضرورت نہیں، سجدۂ تلاوت میں وہی تسبیح ہے جو نماز کے سجدوں میں پڑھی جاتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT