Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد میں نماز کے لئے کب کھڑے ہونا؟ مولاناغوثوی شاہ کا بیان

مسجد میں نماز کے لئے کب کھڑے ہونا؟ مولاناغوثوی شاہ کا بیان

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( راست ) : صدر آل انڈیا مسلم کانفرنس مولانا غوثوی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مسئلہ اختلافی ہے کہ مسجد میں امام کے ساتھ کب کھڑے ہونا؟بعض لوگ جو بیٹھے ہوتے ہیںوہ اقامت کے موقعہ پر حیَّ علی الفلاح کہتے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ اقامت کہتے وقت ابتداء کھڑے ہوجاتے ہیں۔ واضح بادکہ دونوں کا عمل بھی اپنی جگہ درست ہے ۔اِس میں شدّت نہیں ہونی چاہیئے = ویسے کسی بھی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ صحابہؓ حیَّ علی الفلاح کہتے وقت اٹھ جایا کرتے ۔ مسجد میں امام کے ساتھ کب کھڑے ہونا ؟اِس تعلق سے بیہقیؔ کی حدیث میں حضورؐنے فرمایا اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلٰوْۃُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰی تَرُوْنِی۔جب نماز کی اقامت (تکبیر) ہو تو اس وقت تک کھڑے نہ ہوجب تک مجھے دیکھ نہ لو یعنی حضورؐ کودیکھنے کے بعد کھڑے رہیں اور دوسری حدیث صحیح مسلم کی ہے جس میں یہ وارد ہے اُقِیْمَتِ الصَّلٰوْۃ فَقُمْنَافَعُدْلَنَا الصُّفُوْفْ قَبْلَ اَنْ یَخْرُجَ اِلَیْنَا رَسُوْ لُ اللّٰہِ صَلَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ وَہُمْ حَتّٰی اِذَا قَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں نماز کے لئے اقامت کہی گئی اور ہم نے حضورؐ کے تشریف لانے سے پہلے کھڑے ہوکر صفیں برابر کرنی شروع کردیں حضورؐ تشریف لائے اور اپنے مصلّی پر کھڑے ہوگئے (اور نماز شروع کی)حضور ؐ نے کسی کو بھی ایسا کرنے سے منع نہیں کیا۔قارئین کے سامنے دو واضح دلائل ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ صحیحہ کے ہوتے اگر کوئی فتویٰ دے تو وہ قابل قبول نہیں ۔حضرت اِمام اعظم ابو حنیفہؒ کا بھی یہی قول ہے ۔الحاصل مقتدی موذن کی اقامت کے ساتھ ہی ٹہریں یا حیَّ علی الفلاحکہنے کے وقت ٹہریں دو بھی جائز ہے = اس پر جھگڑا نہ کریں اور شدّتنہ برتیں مساجد امن وامان کی جگہ ہے فتنہ وفساد کی جگہ نہیں۔اور اِس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اِمام کی اقتداء صرف نماز ہی کی حد تک جائز ہے ’’فکر ہر کس بقدر ہمت اوست‘‘اللہ ہم سب کو نیک توفیق عطا کرے آمین۔

TOPPOPULARRECENT