Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد نانا باغ وقف اراضی کے عمارتوں کو نوٹسوں کی اجرائی

مسجد نانا باغ وقف اراضی کے عمارتوں کو نوٹسوں کی اجرائی

قیمتی اراضی کے تحفظ کی کارروائی سیاسی دباؤ کے باوجود شروع
حیدرآباد۔/14اپریل، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ نے مسجد نانا باغ، بشیر باغ کی 5ایکر 10گنٹے اوقافی اراضی پر موجود 85 عمارتوں کو نوٹسوں کی اجرائی کا آغاز کیا ہے۔ اس طرح شہر کے مرکزی مقام پر قیمتی اراضی کے تحفظ کی کارروائی سیاسی دباؤ کے باوجود بالآخر شروع ہوئی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے اراضی پر موجود عمارتوں کے سروے کے بعد نوٹسوں کو تیار کیا اور انہیں جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس اراضی کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو کئی گوشوں سے دباؤ کا سامنا ہے۔ برسراقتدار پارٹی کے اہم قائدین نے بھی وقف بورڈ کو نوٹسوں کی اجرائی سے روکنے کی کوشش کی۔ مسجد سے متصل اراضی پر غیر قانونی تعمیر کو روکنے کیلئے بورڈ کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے جن 85 نوٹسوں کو منظوری دی ہے ان میں کئی اہم عمارتیں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ میں موجود 1925 کے منتخب کے اعتبار سے 7 بیگھے زمین وقف کی گئی جو 5ایکر 10گنٹے ہوتی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ وقف بورڈ کے پاس ایک اور گزٹ موجود ہے جس میں 16ایکر اراضی کی نشاندہی کی گئی۔ چونکہ 16 ایکر کے سلسلہ میں درکار منتخب اور دیگر مربوط دستاویزات کی کمی ہے لہذا بورڈ نے پہلے مرحلہ میں تمام ریکارڈ کے ساتھ موجود 5 ایکر 10گنٹے اراضی کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ لوک آیوکت، کرلوسکر ہاسپٹل اور اولڈ ایم ایل اے کوارٹرس کا کچھ حصہ وقف میں شامل ہے۔ اس بات کے بھی اشارے ملے ہیں کہ سابق میں ریکارڈ میں تحریف کرتے ہوئے 16 ایکر کو صرف 5ایکر 10گنٹے تک محدود کردیا گیا۔ وقف بورڈ نے ریونیو اور انڈومنٹ سے بھی ریکارڈ طلب کیا ہے۔ تمام دستاویزات کے ساتھ بورڈ اس قیمتی اراضی کے تحفظ کیلئے کمربستہ ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ  کو نانا باغ کے تحت اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں زبردست دباؤ کا سامنا ہے لیکن انہوں نے کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور نوٹسوں کی اجرائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ نوٹسوں کی وصولی کے بعد عمارتوں کے مالکین اور ان میں موجود فلیٹس کے مالکین کیلئے ضروری ہے کہ وہ وقف بورڈ کے کرایہ دار بننے کیلئے رجوع ہوجائیں۔ بعض افراد کی جانب سے عدالت سے رجوع ہونے کے امکانات کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ نے سینئر وکلاء کی ٹیم کو مقدمہ کی پیروی کیلئے تیار رکھا ہے۔

TOPPOPULARRECENT