Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / مسجد نبویؐ کی عظمت ، درِ مصطفی کی فضیلت

مسجد نبویؐ کی عظمت ، درِ مصطفی کی فضیلت

خیر اللہ بیگ
تلنگانہ ریاست خاص کر حیدرآباد سے ہر سال عاشقان رسولؐ کے قافلہ عمرہ کے لئے سعودی عرب رواہ ہوتے ہیں۔ عزم عمرہ کرنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے تو خانگی ٹراویلس ٹور آپریٹرس کے نخرے بھی بڑھ گئے ہیں۔ ایر لائنس والوں کو خاص موقع پر عوام عمرہ کرنے والوں سے زائد کرایہ موصول کرنے کا بھی بہانہ مل جاتا ہے۔ حکومت سعودی عرب کی جانب سے اس سال زیادہ سے زیادہ ویزے جاری کرنے کے اعلان اور ماہانہ ڈھائی لاکھ ویزے جاری ہونے پر عاشقان رسولؐ کی مدینہ منورہ میں حاضری کا خواب بھی پورا ہورہا ہے۔ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں میں اس ماہ میرا بھی نام شامل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی کئی عنایتوں میں سے ایک عنایت زیارت و طواف خانہ کعبہ کے ساتھ دیدار روضہ مبارک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے۔ ہمارا قافلہ جب مدینہ منورہ کے لئے روانہ ہوا تو شہر حیدرآباد میں میلادالنبیؐ کی تیاریاں ہورہی تھیں۔22ڈسمبر کو جدہ ایر پورٹ پر پہونچنے کے بعد ایمیگریشن کے مرحلہ سے گذرنے کے لئے لاکھوں مسافروں کو تکلیف دہ تجربہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ان لاکھوں مسافروں میں کئی مسافر احرام میں ہوتے ہیں اور ان کے لئے ایمگریشن کاؤنٹر کے سامنے گھنٹوں آفیسرس کی بے اعتنائی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ میری باری آنے تک 5گھنٹے ضائع ہوگئے، جب ایمیگریشن سے نکلے تو ایرپورٹ پر مدینہ لے جانے والی بس انتظار کررہی تھی۔ جدہ سے مدینہ منورہ کا سفر زیارت روضہ مبارکؐ کے اشتیاق اور بے تابی میں گذر گیا، درمیان میں لب سڑک موجود مسجدوں میں نماز ظہر، عصر اور مغرب ادا کرنے کا موقع ملا اور عشاء کے قریب مدینہ پہونچے تو ہوٹل کا مرحلہ پورا ہونے کے بعد جب مسجد نبویؐ پہونچے تو محسوس ہوا کہ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں لبوں کو کوئی الفاظ نہیں ملتے۔ جذبے گنگ ہوجاتے ہیں اور احساسات ساکت رہ جاتے ہیں۔ مسجد نبویؐ روضہ مبارکؐ پر حاضری دینے والے لاکھوں عاشقان رسولؐ سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے بھی اُن عاشقان رسولؐ کے درمیان خود کو پاکر سجدہ شکر بجالایا۔ ریاض الجنہ میں دو رکعت نفل نماز ادا کرنے کے بعد صلوٰۃ و سلام کی سرگوشیوں میں حضور اکرمؐ کے روضہ مبارک کے سامنے پہونچے تو یہاں قدم قد عاشقان رسولؐ کی محبت اور عشق کے چشمے اُبلتے دیکھائی دیتے ہیں اور  ان عشق کے چشموں سے سیراب ہونے والے کچھ ہی دیر بعد پھر سے پیاسے ہوجاتے ہیں۔

باادب اور پوری تعظیم کے ساتھ نگاہیں نیچی کرکے درود و سلام کے وِرد کے ساتھ گذرنے والے عاشقوں کے درمیان ایسے لوگ بھی نظر آئے جو محض اپنے سیل فون میں اس لمحہ کو بند کرنے کے لئے یہاں پہونچے تھے، بے ادبی سے پرہیز کرنے کی معلم کی جانب سے بار بار ہدایت اور روضہ مبارک کی جالی کے سامنے کھڑے ہوکر عشقان رسولؐ کو آگے بڑھتے رہنے کی تلقین کرنے والے سعودی حکومت کے مقرر کردہ علماء و مترجمین باآواز بلند سلام پڑھنے والوں کو منع کرتے رہے۔ اس مقدس مقام کو پہونچنے والوں میں دنیا بھر کے مختلف عقائد اور جذبات رکھنے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس مقدس مقام کی عظمت کا خیال نہیں رکھتے بلکہ اپنے عقیدہ کے اظہار میں بے حرمتی کرجاتے ہیں لیکن معلمین اور مترجمین کے ساتھ پولیس جوان ایسے لوگوں کو قابو میں کرتے ہیں۔ مجھے اور مجھ جیسے کئی عاشقان رسولؐ کو باب السلام سے گذر کر اپنے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پرنور کی چھاؤں میں سنہری جالیوں کے سامنے اشکوں سے گذارش کرنے کا موقع مل گیا تھا اور یہ عمل بار بار کرنے کا اشتیاق پیدا ہوتا گیا۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں لبوں کو الفاظ نہیں ملتے، لیکن ایسے موقع پر اشک بھی کلام کرتے ہیں اور وہ چپکے چپکے بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں 7روزہ قیام کے دوران ہر نماز کو پابندی سے ادا کرنے اور مدینہ شہر کے باشندوں کی خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہم روزانہ نماز مغرب کے وقت مسجد نبویؐ میں اللہ کے مہمانوں اور عاشقان رسول کے لئے کھجور، قبوس اور چائے یا گھاوے سے تواضع کی جاتی ہے۔ ریاض الجنہ کی سبز قالین پر نمازوں کی ادائیگی کا شرف حاصل ہوتا ہے تو اس قالین کے نیچے پردہ نشین زمین سے یہ پوچھا جائے کہ اسے جنت کے پڑوس میں رہنا کیسا لگتا ہے تو وہ بھی بے اختیار اپنی کیفیت بیان کردیتی۔ سبز قالین پر جتنے مصلی نماز ادا کرتے ہیں ان کی کیفیت کا عالم ہر ایک کی دل کی کیفیت سے مختلف ہوتا ہے

۔ مسجد نبویؐ کی نرم و گداز قالین پر بیٹھے تسبیح کے دانوں کو آگے کرنے والے ہزاروں متقی چہروں سے نور جھلکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عشق رسولؐ میں خود کو مسجد نبویؐ کا مکین بنالیا ہے، ان کے قریب ہوکر نماز پڑھنے اور انہیں جی بھر کر دیکھنے سے مجھے محسوس ہوا کہ سچے عاشقوں کا کیا مقام و رتبہ ہوتا ہے۔ میں اپنے گستاخ قدموں کو احتیاط سے اُٹھانے کی کوشش کرتا تو ہر لمحہ یہ خوف طاری رہتا کہ میں بے ادب والوں کی فہرست میں شمار نہ ہوجاؤں، لیکن جب مسجد نبویؐ کی ماربل سے مزین ٹھنڈی فرش نرم قالین کی طرح محسوس ہوتی ہے تو اس گناہ گار دل کی دنیا بدل جاتی ہے۔ نہ جانے کہاں سے طمانیت کے وہ غیبی ہاتھ اس گناہ گار کے مایوس قدموں سے آگے بڑھتے اس جسم کو سہارا دیتے ہیں تو غمگین دل کے گوشے سے بازگشت سنائی دیتی ہے کہ ’’ اے رونے والے یہ درِ طیبہ ہے یہاں کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ یہاں سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا اور یہ مدینہ ہے یہاں مانگنے والے کو عطا کیا جاتا ہے۔‘‘ بس میں نے بھی اپنے لئے اور اس عالم اسلام کیلئے دعائیں کی۔ اہل و عیال، دوست احباب، الغرض جن جن لوگوں نے دعاء کی درخواست کی تھی سب کے لئے دعاء کرتے ہوئے اُمید کا دامن تھام کر مکہ معظمہ کی جانب روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگا۔ روانہ ہونے سے قبل حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنی خامیوں اور خرابیوں کا اظہار کیا کہ یا رسول اللہ دامن عمل تار تار ہے اور نافرمانی کے اتنے عوامل ہیں کہ اس سے ہماری زندگی گناہوں کے دلدل میں پھنستی جارہی ہے، مسلمانان عالم خاص کر مسلمانان ہند بالخصوص تلنگانہ کے مسلمانوں کے معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل کی یکسوئی میں دن بہ دن دیر ہورہی ہے، حکومت وقت نے اپنے وعدوں کے ذریعہ تلنگانہ کے مسلمانوں کے مستقبل کو معلق رکھ دیا ہے، مسلمانوں کے نوجوان ، بچے تعلیم سے محروم ہورہے ہیں  تو ملازمتوں، روزگار سے دور رکھا جارہا ہے۔ 12فیصد تحفظات کا وعدہ کرنے کے باوجود اس پر عمل آوری میں سیاسی چال سے کام لیا جارہا ہے۔ 12فیصد تحفظات کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو ان کے مقاصد میں کامیابی دلانے کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کے مسلمانوں کے مستقبل کو روشن بنادیں تو کئی عاشقان رسولؐ کو آپ کے دربار میں حاضری کی استطاعت حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT