Thursday , December 13 2018

مسجد چیونٹی شاہ اوقافی اراضی قابضین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کی زیر قیادت عہدیداروں کی ٹیم کا دورہ اور معائنہ
حیدرآباد ۔19۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے کٹل گوڑہ ، نورخاں بازار میں واقع مسجد چیونٹی شاہ کی اوقافی اراضی کے تحفظ کے لئے قابضین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تقریباً 50 برسوں سے اوقافی اراضی پر قابض افراد اسے اپنی ذاتی ملکیت قرار دے رہے ہیںاور بعض افراد کرایے میں اضافہ کیلئے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی نے عہدیداروں کی ٹیم کے ہمراہ آج مسجد چیونٹی شاہ کی اوقافی اراضی کا معائنہ کیا اور کمیٹی کے ذمہ داروں سے بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی۔ مسجد کے تحت 9244 مربع گز اوقافی اراضی ہے اور تقریباً 1960 ء سے اس پر ناجائز قبضے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں حکومت کی جانب سے غریبوں کو یہ اراضی پٹہ جات کے طور پر الاٹ کردی گئی تھی۔ حکومت نے پٹہ جات کو منسوخ کرنے کی کارروائی کی اس کے علاوہ مکانات کے رجسٹریشن کی منسوخی کی کارروائی بھی شروع کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 80 سے زائد قابضین جو چھوٹے مکانات تعمیر کرچکے ہیں، وہ ابھی بھی اسے اپنی ملکیت قرار دے رہے ہیں۔ عہدیداروں نے مکانات مشاہدہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہر قابض کے تحت کتنی اراضی ہے۔ اس کے علاوہ ان کرایہ داروں سے بھی بات چیت کی جائے گی جو برسوں سے مسجد کمیٹی کو برائے نام کرایہ ادا کر رہے ہیں ۔ وقف بورڈ نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قابضین کے خلاف وقف ایکٹ کے تحت تخلیہ کی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں انہیں نوٹس جاری کی جائے گی۔ ایسے کرایہ دار جو کرایہ میں اضافہ کیلئے تیار نہیں، انہیں بھی قابضین کے زمرہ میں شمار کرتے ہوئے تخلیہ کی نوٹس دی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد یہ کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ اس قیمتی اراضی کا تحفظ ہو اور مارکٹ ریٹ سے کرایہ کی وصولی کی صورت میں مسجد کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ سابق میں وقف بورڈ کی جانب سے اس اراضی کے سلسلہ میں لاپرواہی کے سبب قابضین کا موقف مستحکم ہوگیا اور انہوں نے حکومت سے پٹہ جات اپنے نام پر کرلئے تھے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر اور دیگر عہدیداروں نے کرایہ داروں کے معاہدات اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کی مداخلت کے بعد ہی قابضین کو دیئے گئے پٹہ جات منسوخ کئے گئے۔ اسی دوران وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ بورڈ کی جانب سے تخلیہ کی نوٹس کی اجرائی کی صورت میں معاملہ عدالت سے رجوع ہوسکتا ہے، لہذا وقف بورڈ مکمل احتیاط برتتے ہوئے عدالت کے باہر ہی اراضی کو اپنے قبضہ میں حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT