Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / مسجد ۔ مندر مذاکرات میں حکومت کے رول کی تردید

مسجد ۔ مندر مذاکرات میں حکومت کے رول کی تردید

عازمین کیلئے خانگی ٹور آپریٹرس کے کوٹہ میں اضافہ : مختار عباس نقوی
نئی دہلی۔ 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے آج اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کردیا کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ کی یکسوئی کیلئے جاری مذاکرات میں حکومت کوئی رول انجام دے رہی ہے، تاہم نقوی نے کہا کہ یہ ایک ’’مثالی صورتحال‘‘ اس تنازعہ میں شامل فریق پرامن مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرلیں۔ مرکزی وزیر کے یہ ریمارکس دراصل ’’آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن‘‘ کے سربراہ سری سری روی شنکر کے دورۂ ایودھیا کے پس منطر میں منظر عام پر آئے ہیں۔ سری سری روی شنکر نے مسئلہ ایودھیا کے بیرون عدالت تصفیہ کے لئے مذاکرات میں ثالثی کا رول ادا کرنے کی پیشکش کی ہے اور سپریم کورٹ کو بھی ایسے حل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہندو روحانی پیشوا نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس تنازعہ کے تمام فریقوں سے بات چیت کیلئے وہ 16 نومبر کو اُترپردیش کے ایودھیا ٹاؤن کا دورہ کریں گے۔ کانگریس نے سری سری کو ’’حکومت کا ایجنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ حکومت کے مفادات کی نمائندگی کررہے ہیں، تاہم مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ ’’حکومت اس (تنازعہ) میں ملوث نہیں ہے اور نہ ہی مذاکرات میں وہ کوئی رول ادا کررہی ہے۔ تنازعہ کے فریق اگر پرامن مذاکرات کے ذریعہ اس مسئلہ کو آپس میں حل کرلیتے ہیں تو اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہوسکتا‘‘۔ ایک اور سوال پر نقوی نے جواب دیا کہ حکومت نے خانگی ٹور آپریٹرس کے حج کوٹہ کو موجودہ 5% سے بڑھادینے کا فیصلہ کیا کیونکہ متعدد عازمین نے خانگی آپریٹروں کے ذریعہ سفر حج پر روانہ ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے تاہم انہوں نے اس کی صحیح تعداد نہیں بتائی۔ نقوی نے کہا کہ ’’(2012ء کے سپریم کورٹ احکام کے مطابق) حج سبسڈی میں بتدریج تخفیف کی جارہی ہے اور کئی افراد خانگی حج آپریٹرس کے ذریعہ سفر کرنا چاہتی ہے چنانچہ ہم نے ان کا کوٹہ بڑھا دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ وزیر اقلیتی اُمور نے کہا کہ ان کی وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ عازمین کا استحصال نہ کیا جائے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرس کے قواعد مستحکم بنایا جارہا ہے۔ ہندوستان کا سالانہ حج کوٹہ 1.70 لاکھ ہے۔

TOPPOPULARRECENT