Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / مسعود اظہر کا مسئلہ : سلامتی کونسل کا مہینوں سے غوروخوض

مسعود اظہر کا مسئلہ : سلامتی کونسل کا مہینوں سے غوروخوض

اقوام متحدہ خود اپنے نامزد دہشت گرد تنظیموں کے لیڈروں پر پابندی سے قاصر :ہندوستان
اقوام متحدہ ۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے سلامتی کونسل پر سخت تنقید کی ہے کہ وہ خود اپنے نامزد کردہ دہشت گرد تنظیموں یا گروپوں کے لیڈروں پر پابندی عائد کرنے کے معاملے میں مہینوں غوروخوض میں صرف کررہی ہے، جو ظاہر طور پر جیش محمد سربراہ مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی جانب سے امتناع کو یقینی بنانے کیلئے ہندوستان کی سعی کا حوالہ ہے۔ یہ ادعا کرتے ہوئے کہ سلامتی کونسل خود اپنے مسائل اور سیاست میں الجھی ہوئی ہے، ہندوستان کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ سید اکبرالدین نے گذشتہ روز سلامتی کونسل کو ہدف تنقید بنایا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں پر پابندی عائد کرنے سے قاصر ہے۔ اکبرالدین یہاں سلامتی کونسل کی رکنیت میں مساویانہ نمائندگی اور اضافہ کے بارے میں منعقدہ سیشن میں مخاطب تھے۔ انہوں نے کہاکہ ہر روز دہشت گرد کسی نہ کسی خطہ میں ہماری اجتماعی سوچ پر کاری ضرب لگارہے ہیں، لیکن سلامتی کونسل نے غوروخوض کیلئے 9 ماہ لگا دیئے ہیں اور ہنوز پس وپیش میں مبتلاء ہے کہ آیا ان تنظیموں کے قائدین پر پابندی عائد کردی جائے جنہیں خود کونسل نے ہی دہشت گرد ادارے نامزد کر رکھا ہے۔ قبل ازیں رواں سال کے اوائل چین نے یو این کی جانب سے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کیلئے ہندوستانی کوششوں کو بعض تکنیکی پہلوؤں کی بناء روک دیا تھا۔ اس اعتراض کے کارکرد رہنے کی چھ ماہی مدت اواخر ستمبر میں اختتام پذیر ہوگئی اور چین نے ہندوستان کی سعی کو مزید روکنے کیلئے تین ماہی مدت کی توسیع طلب کی ہے۔ اکبرالدین نے افسوس ظاہر کیا کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے بارے میں بھی کچھوے کی رفتار سے پیشرفت ہورہی ہے اور یوں لگ رہا ہیکہ مباحث کبھی ختم نہ ہوں گے۔ ہندوستانی قاصد نے کہا کہ اب تعطل کو توڑنے کا وقت آ گیا ہے تاکہ اس عالمی ادارہ میں ہنگامی اصلاحات روبہ عمل لائی جاسکیں، جو موجودہ عالمی صورتحال سے نمٹنے کے معاملے میں عملاً بے بس ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT