Tuesday , June 19 2018
Home / Mera Column / مسعود عابد 

مسعود عابد 

میرا کالم مجتبیٰ حسین
بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ احساس جب کہیں سے آپ کو یہ برُی خبر سننے کو ملتی ہے کہ آپ کا کوئی ایسا عزیز یا دوست اس دنیا سے گزر گیا ہے جو اگرچہ عمر میں آپ سے بھلے ہی چھوٹا  رہا ہو مگر جس سے محبت اور دوستی کا رشتہ اپنی جگہ بڑا مستحکم رہا ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے خود آپ کے گزر جانے کی صورت میں’’حیات بعد الموت‘‘ کا جو تھوڑا بہت متوقع عرصہ مستقبل میں آپ کو میسر آسکتا تھا وہ اچانک منقطع ہوگیا ہے ۔ مانا کہ موت کا فرشتہ سینیاریٹی لسٹ یا حروف تہجی کے اعتبار سے کوئی فہرست مرتب کر کے انسانوں کی روح قبض کرنے کیلئے نہیں نکلتا۔ مشیت ایزدی کی جانب سے اسے جو اشارہ ملتا ہے اسی کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ تاہم ہمارا مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ کسی درخت کی ٹہنی سے چپکے ہوئے خزاں رسیدہ کمزور پتے کی مانند ہمارے بیشتر بزرگ (بشمول ہمارے) جب کسی محفل میں ہوتے ہیں تو اپنے سے کم عمر لوگوں یا نوجوانوں کی محفل میں خود کو پاکر خوش ہوتے رہتے ہیں کہ خود ان کے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد وہ ان نوجوانوں یا اپنے سے کم عمر لوگوں کے ذہنوںمیں زندہ رہیں گے اور دیر تلک ان کے حافظہ کا حصہ بنے رہیں گے ۔ چنانچہ ایسی ہی خوش آئند خوش فہمی کے زیر اثر بعض بزرگ بسا اوقات اپنے سینگ کٹواکر بچھڑوں میں شامل ہونے کی سعی بھی فرماتے ہیں۔ ہم خود بھی اپنا شمار ایسے ہی بزرگوں کے زمرے میں کرتے ہیں۔
پچھلے ہفتہ جب علی ظہیر نے اچانک یہ اطلاع دی کہ کچھ دیر پہلے ظہیر آباد میں مسعود عابد کا انتقال ہوگیا تو گہرے صدمہ سے دوچار ہوجانے کے باوجود یقین ہی نہ آیا کہ ایسا ہنس مُکھ، زندہ دل ، کھلنڈرا اور والہانہ محبت کرنے والا دوست ہم سے بچھڑ گیا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ہمارے برسوں پرانے دوست ایک ایک کر کے ہمارا ساتھ چھوڑتے چلے جارہے ہیں اور ہماری شخصی دنیا یوں بھی خود بخود چھوٹی ہوتی چلی جارہی ہے ، مسعود عابد جیسے مخلص دوست کا اس دنیا سے اُٹھ جانا ایک ایسا شخصی سانحہ ہے جسے آسانی سے برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ ذرا سوچئے کہ جس شخص کے حوالہ سے ہمیں یہ طمانیت تھی کہ ہمارے بعد یہ دوست برسوں تک ہمیں اپنی یادوں میں زندہ اور تابندہ  رکھے گا ، وہ ہمیں خود اپنی یادیں سونپ کر چلا گیا ۔ میاں مسعود عابد ہم سے عمر میں آٹھ دس برس چھوٹے تھے اور ان سے لگ بھگ چالیس پینتالیس برس کے مراسم تھے ۔
ساٹھ کی دہائی  کے اوائل میں ہم نے جب مزاح نگاری شروع کی اور 1966ء  میں مزاح نگاروں کی پہلی کل ہند کانفرنس کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے تھوڑی بہت شہرت بھی حاصل کرلی تو ان ہی دنوں حیدرآباد کے ادبی افق پر اردو کے چند نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی ایک توانا نسل اُبھرنے لگی تھی۔ سلیمان اریب ’’صبا‘‘ نکالتے تھے اور ہندوستان کے ادبی حلقوں میں اس رسالہ کا بڑا نام تھا ۔ سلیمان اریب نئے لکھنے والوں کی ہمیشہ ہمت افزائی کرتے تھے ۔ اسی عرصہ میں شمس الرحمن فاروقی کا رسالہ ’’شب خون‘‘ بھی الہ آباد سے نکلنے لگا تھا ۔ مغنی تبسم ، عزیز قیسی ، وحید اختر ، شاذ تمکنت ، راشد آزر، عاتق شاہ ، عوض سعید تاج وغیرہ اگرچہ ہم سے سینئر تھے تاہم ان سب سے ہمارے دوستانہ مراسم تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے ہمارے ہم عصروں میں مضطر مجاز ، سکندر توفیق ، ظفر عالمگیر، ضیا الدین شکیب ، سعادت نذیر ، وقار لطیف ، علی باقر ، اکرام جاوید ، ابراہیم شفیق ، نقی تنویر ، خورشید خضر ، رئیس اختر اور مصحف اقبال توصیفی وغیرہ شامل تھے ۔ ساٹھ کی دہائی میں لکھنے والوںکی جو نئی نسل اُبھری ہم اس سے بہت زیادہ سینئر تو نہیں تھے لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نسل کے نمائندوں نے ہمیں ہمیشہ اپنا سینئر سمجھا ۔ اسی دہائی کے آغاز میں اعظم راہی نے ایک خوبصورت ادبی رسالہ ’’پیکر‘‘ نکالنا شروع کیا جس نے حیدرآباد کے نئے لکھنے والوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ۔ بعد میں ’’پیکر‘‘  نے ہندوستان گیر شہرت حاصل کی اور سارے ملک میں اس کے لکھنے  والوں کا ایک حلقہ پیدا ہوگیا ۔ پیکر گروپ کے اس وقت کے جن حیدرآبادی ادیبوں کے نام ہمیں یاد آرہے ہیں ، ان میں اکمل حیدرآبادی ، ساجد اعظم ، رؤف خلش ، احمد جلیس ، حسن فرخ، انور رشید، رفعت صدیقی اور غیاث متین شامل ہیں۔ اسی عرصہ میں محمود خاور نے اپنا ہفتہ وار ادبی رسالہ ’’برگ آوارہ ‘‘ شروع کیا جس نے بہت جلد ملک گیر شہرت حاصل کرلی ۔اسی زمانہ میں ناصر کرنولی نے ’’پونم‘‘ کا اجرا کیا ۔ اس رسالہ نے بھی حیدرآباد کے نئے نکلنے والوں کی بھرپور پذیرائی کی ۔ ہمارے میاں مسعود عابد ابتداء ہی سے ’’پیکر گروپ‘‘ سے وابستہ رہے اور اس کی ہر سرگرمی میں دخیل رہے۔ یوں ’’پیکر ‘‘ کے لکھنے والوں کا ایک توانا حلقہ بنتا چلا گیا ۔ ان میں سے بیشتر کی تحریریں ’’صبا‘‘ اور ’’شب خون‘‘ میں بھی شائع ہونے لگیں اور ادب میں ان کی حیثیت مستحکم ہوتی چلی گئی ۔
سلیمان اریب اس گروپ کے لکھنے والوںکو ازراہ مذاق بڑے پیار سے ’’پیکر کے پوٹے ‘‘ کہا کرتے تھے (قیاس اغلب ہے کہ اس طرزتخاطب کی اختراع سلیمان اریب کے گہرے دوست ابن احمد تابؔ نے کی تھی) ۔ ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں اسی پیکر گروپ کے چند ارکان نے مل کر حیدرآباد لٹریری فورم یعنی ’’حلف‘‘ کی بنیاد ڈالی جس سے بعد میں علی الدین نوید ، رؤف خیر ، اسلم عمادی ، مظہر الزماں خاں ، بیگ احساس ، علی ظہیر (حلف کے موجودہ صدر) محسن جلگانوی ، مظہر مہدی ، یوسف اعظمی ، یوسف کمال ، اعتماد صدیقی وغیرہ جیسے ادیب وابستہ ہوگئے ۔ سب کے سب نہایت ذہین اور فطیّن ۔ ہم نے بھی ’حلف‘‘ کے بعض جلسوں میں شرکت کی ۔ یہ الگ بات ہے کہ ابن احمد تاب کی تقلید میں ہم نے بھی ازراہ مذاق حلف کے ارکان کو ’’حلف کے ہولے‘‘ کہا کرتے تھے اور تاویل یہ پیش کرتے تھے کہ دیوانگی کے بغیر اچھے ادب کی تخلیق ناممکن ہے ۔ چالیس پچاس برس پہلے کے حیدرآباد کا ادبی منظر نامہ ہمیں اس لئے یاد آگیا کہ میاں مسعود عابد کے حوالہ سے بھی پیکر اور حلف کیلئے ہمارے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور پیدا ہوگیا تھا ۔ مسعود عابد محبت اور خلوص کا ایک ایسا انوکھا پیکر تھے جن کی ذات میں پیار اور محبت کا اتنا وافر مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ جس کسی سے ملتے اسے اپنے جذبہ محبت سے سرشار اور شرابور کردیتے تھے ۔ آج کی دنیا میں ایسے لوگوں کی نسل اب ناپید ہوتی جارہی ہے ۔ ان کا تعلق ظہیر آباد سے قریب واقع ایک قصبہ اکیلی سے تھا اور اسی نسبت سے ان کا اصلی نام سید علی مسعود اکیلوی تھا ۔ ہم اکثر مذاق میں ان سے کہا کرتے تھے کہ میاں تم کئی معاملوں میں سچ مچ اکیلے اور منفرد ہو۔ پیار اور محبت کے معاملہ میں تو تم اتنے اکیلے ہوکہ تمہارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ 1967 ء میں دہلی میں ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی ۔ مخدوم محی الدین نے پیکر گروپ سے وابستہ چند نوجوان ادیبوں اور شاعروں سے خواہش کی تھی کہ وہ اس کانفرنس میں ضرور شرکت کر یں ۔ چنانچہ حیدرآباد سے جو وفد گیا تھا اس میں رؤف خلش ، غیاث متین ، حسن فرخ اور انور رشید کے علاوہ مسعود عابد بھی شامل تھے ۔ دہلی سے واپس آنے کے بعد انہوں نے دہلی کے ادیبوں اور خاص طور پر بنیّ بھائی سے ملاقاتوںکا تفصیل سے ذکر کیا بلکہ اس کے بعد جب بھی ملتے کسی نہ کسی بہانے اس سفر کی داستان دُہرانے لگتے ۔ یہاں تک کہ ہمیں اس آموختہ پر انہیں ٹوکنا پڑتا۔ وہ بے حد جذباتی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے حد خوش ہونے والے انسان تھے ۔ شعر و ادب سے ان کا سروکار نہایت مستحکم تھا ۔ خود بھی منفرد لب و لہجہ کے شاعر تھے اور پُر گو بھی تھے مگر وہ خود کو نمایاں کرنے سے کہیں زیادہ دوسروں کو بڑھاوا دینے میں لگے رہتے تھے ۔
مسعود عابد زراعت کے پیشہ سے وابستہ تھے ۔ اگرچہ وہ ظہیر آباد میں رہتے تھے لیکن زیادہ تر حیدرآباد میں پائے جاتے تھے ۔ ظہیر آباد کے کانگریسی رہنما باگا ریڈی سے ان کے قریبی مراسم تھے جو خود بھی اردو داں تھے اور شعر و ادب کی محفلوں سے انہیں گہری دلچسپی تھی ۔ چنانچہ ظہیر آباد میں مسعود عابد نے کئی باوقار ادبی محفلیں آراستہ کیں ۔ وہ بزم سخن ظہیر آباد کے معتمد اور مستند و مقتدر شاعر حضرت نور اکیلوی یادگار سوسائٹی کے بانی تھے ۔ مسعود عابد کا شعری مجموعہ ’’سورج پگھلے لفظوں میں ‘‘ 1983 ء میں شائع ہوا تھا ۔ غرض 1972 ء میں ہم جب حیدرآباد سے دہلی منتقل ہوئے توا س وقت حیدرآباد کے ادبی اُفق پر کئی نوجوان ادیب اور شاعر سرگرم عمل تھے ۔ درمیان میں ہم جب بھی حیدرآباد آتے تو مسعود عابد کسی نہ کسی بہانے ہم سے ملنے کیلئے آجاتے یا ہمیں کسی نہ کسی ادبی محفل میں ظہیر آباد بلوالیتے ۔ ہم جب بھی گلبرگہ جاتے تو مسعود عابد راستہ میں ظہیر آباد پر ضرور روک لیتے ۔ ضیافتیں کرتے اور ادبی محفلیں منعقد کرتے ۔ ان کا حافظہ غضب کا تھا ۔ ہماری کئی باتیں اور کئی دلچسپ واقعات انہیں یاد تھے جن کا وہ اکثر حوالہ دیا کرتے تھے ۔ بات بات پر ہنسنا اور خوشدلی کا مظاہرہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا ۔ان کے افراد خاندان کو بھی شعر و ادب سے گہری دلچسپی تھی ۔ ان کی اہلیہ جو سوشل ویلفیر ڈپارٹمنٹ کی عہدیدار تھیں، نہایت باذوق خاتون تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے ان کا انتقال ہوا تو ہم نے مسعود عابد کو پرسہ دینے کیلئے کئی جگہ فون کیا۔ دوستوں سے کہلوایا مگر ربط پیدا نہ ہوسکا۔ بے حد زندہ دل ، بے تکلف اور خوش مذاق ہونے کے باوجد وہ ایک شائستہ اور مہذب انسان تھے ۔ اتنی لمبی رفاقت میں کبھی ہم نے ان کے منہ سے کسی کے خلاف کوئی بات نہیں سنی ۔ زندگی کو خوشگوار بنائے رکھنا ان کا نصب العین تھا ۔ کچھ برس پہلے مسعود عابد نے ’’ ترکِ دنیا‘‘ اختیار کرنے کے بعد داڑھی بڑھالی تھی اور شملہ بھی باندھنے لگے تھے۔ اس حلیہ میں جب انہیں دیکھا تو ہم نے مذاق میں کہا ’’میاں مسعود عابد ! تمہارے اندر شعر کہنے کے جتنے امکانات تھے کم و بیش اتنے ہی امکانات تمہارے چہرے پر اُگنے والی داڑھی میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مجھے تو اندیشہ ہے کہ کچھ عرصہ بعد تمہاری داڑھی سر سید احمد خاں کی داڑھی کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔ ہر طرف داڑھی ہی داڑھی نظر آرہی ہے ۔ ایسی گھنی ، بے ساختہ اور فی البدیہ داڑھی میں نے اپنے کسی اور دوست کے چہرے  پر نہیں دیکھی‘‘۔ مولانا مسعود عابد نے اس تبصرہ پر زوردار قہقہہ لگایا تھا ۔ اپنے عزیز ترین مخلص دوست کو یاد کرنے بیٹھے ہیں تو ذرا سوچئے کہ کتنے ہی احباب یاد آگئے ۔ وہ زمانہ بھی یاد آگیا جب حیدرآباد کی بساط ادب پر کتنے ہی ذہین فنکار جلوہ افروز تھے ۔ چالیس پچاس برس پہلے کا وہ حیدرآباد جسے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا اب ایک خواب کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
(7 ڈسمبر 2010 ء)

TOPPOPULARRECENT