Wednesday , January 17 2018
Home / ہندوستان / مسلح عسکریت پسند تین بار بین الاقوامی سرحد پر نمودار

مسلح عسکریت پسند تین بار بین الاقوامی سرحد پر نمودار

نئی دہلی۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہند۔ پاک سرحد پر جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ کے پیش نظر بی ایس ایف نے آج کہا کہ مسلح دہشت گرد بین الاقوامی سرحد کے بالکل قریب کم از کم ’تین بار‘ گزشتہ چند دن کے دوران نمودار ہوئے تھے اور شبہ ہے کہ فائرنگ انھیں ہندوستان میں دراندازی کا موقع فراہم کرنے کے لئے کی گئی تھی

نئی دہلی۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ ہند۔ پاک سرحد پر جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ کے پیش نظر بی ایس ایف نے آج کہا کہ مسلح دہشت گرد بین الاقوامی سرحد کے بالکل قریب کم از کم ’تین بار‘ گزشتہ چند دن کے دوران نمودار ہوئے تھے اور شبہ ہے کہ فائرنگ انھیں ہندوستان میں دراندازی کا موقع فراہم کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ ہمارے دستی آلات کے ذریعہ ہم نے دیکھا کہ چند افراد سیول لباس میں ہتھیاروں کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے بالکل قریب رات کی تاریکی میں نقل و حرکت کررہے تھے۔ جب فائرنگ کی گئی تو وہ پسپا ہوگئے۔ ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک نے ایک تقریب کے موقع پر علیحدہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عسکریت پسند تھے، کیونکہ رات دیر گئے کوئی بھی شہری بین الاقوامی سرحد کے قریب نقل و حرکت نہیں کیا کرتا۔

بِلااشتعال پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے واقعات میں اضافہ کی وجہ ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فائرنگ عسکریت پسندوں کو ہندوستانی علاقہ میں دراندازی کا موقع فراہم کرنے کی جاتی ہے۔ دس سال قبل ہی اسی مدت کے دوران پاکستان نے ایسا ہی کیا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ انھوں نے بار بار پاکستانی رینجرس سے فلیگ میٹنگس کے انعقاد کی خواہش کی ہے، لیکن ان کے ہم منصبوں نے ہنوز کوئی جواب نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رینجرس کو حالیہ فائرنگ کے خلاف بطور احتجاج ایک نوٹ روانہ کیا ہے۔ پاٹھک نے کہا کہ کم از کم 25 بی ایس ایف چوکیاں پاکستانی فوج کی شدید فائرنگ کا نشانہ ہیں، اس کے علاوہ بھی 16 اگسٹ سے مسلسل کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم پاکستانی فائرنگ کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں، تاحال 2 شہری ہلاک اور 19 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ واضح ہدایات دی جاچکی ہیں کہ آئندہ کارروائی کی صورت میں اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT