Tuesday , July 17 2018
Home / Top Stories / مسلسل 19 ویں دن بھی پارلیمنٹ کی کارروائی ہنگامہ آرائی کی نذر

مسلسل 19 ویں دن بھی پارلیمنٹ کی کارروائی ہنگامہ آرائی کی نذر

NEW DELHI, APR 3 (UNI):- TMC MPs raising slogans and displaying placards during a protest, at Parliament house , in New Delhi on Tuesday. UNI PHOTO-DK38U

اپوزیشن اراکین اپنے مطالبے پر اٹل ، ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ پر وزیر داخلہ کی وضاحت، ارون جیٹلی دوبارہ لیڈر آف ہاؤس منتخب
نئی دہلی۔ 3 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن اراکین کے ذریعہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی و شور و شرابہ کی بدولت 19 ویں دن بھی پارلیمنٹ کارروائی نہ چل سکی۔ لوک سبھا میں پورے ملک میں ایس سی ؍ ایس ٹی ایکٹ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ ترمیم کی وجہ سے پھوٹ پڑنے والے تشدد پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں حکومت کی کسی بھی قسم کی مداخلت تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے کوئی عرضی داخل کی گئی تھی نیز حقیقت تو یہ ہے کہ حکومت پہلے سے ہی عدالت عالیہ کے سامنے اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کو عرضی داخل کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ میں اور کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ واضح رہے کہ صرف ایک دن کی کارروائی جو راجیہ سبھا میں چلی، وہ 41 نئے اراکین پارلیمنٹ کی حلف برداری کی شکل میں تھی۔ اس اثناء میں وزیر خزانہ اپنے دوبارہ منتخب ہونے پر ہاؤس آف دی لیڈر بھی دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔ 5 مارچ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بجٹ اجلاس کے آغاز سے ایک دن کی بھی کارروائی نہیں ہوسکی اور پارلیمنٹ اراکین بینک فراڈ، آبی تنازعہ، آندھرا کے لئے اسپیشل درجہ اور دلت اور بیک ورڈ کمیونٹیز کے معاملے کو لے کر لگاتار ہورہا احتجاج ہے۔

راجیہ سبھا میں بھی نئے اراکین کی حلف برداری کے فوری بعد مختلف پارٹیوں کے اراکین اپنے اپنے مسئلہ کو لے کر ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرہ بازی شروع کردی۔ راجیہ سبھا چیرمین وینکیا نائیڈو کے ذریعہ ایوان کی کارروائی کیلئے وزراء کو مصروفیات کی دستاویزات کو پیش کرنے کو کہا۔ فوراً ہی کانگریس، ترنمول کانگریس، بی ایس پی، ٹی ڈی پی اور دونوں تمل پارٹیاں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے اراکین نے ہنگامہ شروع کردیا۔ کانگریس اور بی ایس پی نے حکومت پر مخالف دلت ہونے کا الزام لگایا تو وہیں ٹی ایم نے بینک فراڈ کے خلاف احتجاج بلند کیا جبکہ کانگریس کے کے وی پی رام چندر راؤ آندھرا پردیش کو خصوصی درجہ دینے کے لئے اپنے ہاتھوں میں اس کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے دیکھے گئے۔ جبکہ دونوں تمل پارٹیاں ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کاویری ندی آبی تنازعہ کی مصالحت کیلئے آواز بلند کرتے رہے۔ احتجاجی اراکین کو چیرمین نائیڈو نے خاموش کرانے اور اپنی جگہوں پر واپس جانے کی اپیل کی لیکن اپنی باتوں کا اراکین پر اثر ہوتا نہ دیکھ چیرمین نے پورے دن کیلئے کارروائی ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ آج جب راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو چیرمین نے ارون جیٹلی کے دوبارہ راجیہ سبھا منتخب ہونے پر انہیں لیڈر آف ہاؤس نامزد کرنے کا اعلان کیا۔ جیٹلی کے علاوہ دوسرے وزراء جنہوں نے راجیہ سبھا ممبر کا حلف لیا، ان میں یونین منسٹر روی شنکر پرساد، پرکاش جاؤڈیکر، جگت پرکاش نڈا اور دھرمیندر پردھان شامل ہیں۔ یاد رہے کہ مارچ کے مہینے میں منتخب ہوئے 58 اراکین راجیہ سبھا میں 41 نے راجیہ سبھا ممبر کا 15 صوبوں سے حلف لیا ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی اے آئی اے ڈی ایم کے اراکین نے کاویری آبی تنازعہ کی مصالحت کیلئے کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کو جلد از جلد قائم کرنے کیلئے ہنگامہ شروع کردیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو روکنا پڑا۔ پارلیمنٹ کو پہلے شروع ہونے کے فوراً 4 منٹ بعد ہی کچھ دیر کیلئے روکنی پڑی اور پھر 12 بجے وزیر داخلہ کے ملک میں ہوئے تشدد پر بیان کے فوری بعد پورے دن کیلئے ملتوی کردی گئی۔

TOPPOPULARRECENT