Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوںکی بااثر شخصیتوں کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ

مسلمانوںکی بااثر شخصیتوں کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ

بار اسوسی ایشن وقف ٹریبونل میں سمینار، جناب محمد جلال الدین اکبر و دیگر کا خطاب

بار اسوسی ایشن وقف ٹریبونل میں سمینار، جناب محمد جلال الدین اکبر و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔/20ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر نے مسلمانوں نے کی بااثر شخصیتوں کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے صرف اجلاس منعقد کرلینا مسئلہ کا حل نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل دانش اور ملی جذبہ رکھنے والی شخصیتیں باہم مشاورت کے ذریعہ حکمت عملی تیار کریں اور حکومت سے منظوری حاصل کریں۔ جناب جلال الدین اکبر آج باراسوسی ایشن وقف ٹریبونل کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار سے خطاب کررہے تھے جس کا موضوع ’’ اوقافی جائیدادوں کی حفاظت کیسے کریں؟ ‘‘ تھا۔ جناب جلال الدین اکبر نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کی ضرورت ہے تاکہ کروڑہا روپئے مالیتی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں ہمہ رخی حکمت عملی ضروری ہے اور صرف وقف بورڈ پر تنقید سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اداروں کی طرح وقف بورڈ میں آئی اے ایس رتبہ کے عہدیدار کا تقرر کیا جانا چاہیئے۔ اس کے علاوہ وہاں باقاعدہ تقررات کی پالیسی مدون کی جائے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بورڈ میں موجود افراد اپنے قریبی لوگوں کا تقرر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ میں درکار اسٹاف کی کمی ہے۔ انہوں نے اسپیشل آفیسر اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدوں پر مستقل تقرر کی سفارش کی اور کہا کہ اسپیشل آفیسر کی وہ زائد ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ جناب جلال الدین اکبر نے وقف بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ 80فیصد اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضے ہیں اس کے لئے آخر کون ذمہ دار ہیں‘ ریاستی اور ضلع سطح پر پولیس اور ریونیو عہدیداروں پر مشتمل پروٹیکشن فورس کے قیام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کھلی اوقافی اراضیات کو ترقی کیلئے 30سال کی لیز پر دینے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس سے نہ صرف اراضی کا تحفظ ہوگا بلکہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اوقاف سے متعلق روزانہ کئی مقدمات داخل ہورہے ہیں لیکن بورڈ کی جانب سے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی رفتار انتہائی سست ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ میں لیگل ڈپارٹمنٹ کو مستحکم کرنے کیلئے بعض ماہرین قانون کی خدمات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے وکلاء سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے مقدمات میں وقف بورڈ کے خلاف پیروی سے گریزکریں تاکہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہوسکے۔ انہوں نے بعض سینئر وکلاء کی جانب سے رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ مسلمانوں کی تمام بااثر شخصیتوں کو اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔ جناب عبدالرحیم قریشی صدر تعمیر ملت نے اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے بورڈ کے ملازمین کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں بورڈ کے ملازمین نے بعض اہم فائیلوں کو فروخت کردیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں بعض جائیدادوں کی نشاندہی بھی کی۔ کئی سینئر وکلاء نے تقریب سے خطاب کیا اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔

TOPPOPULARRECENT