Tuesday , December 18 2018

مسلمانوںکے کارناموں کو اجاگر کرنے حکومت کا منصوبہ

نئی دہلی ۔ 5 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے اپنی سیکولر ساکھ کو بچانے کی ایک کوشش کے طور پر مسلمان اور عیسائی طبقہ سے وابستہ نامور شخصیتوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ان کے کارناموں کو موثر طور پر اجاگر کیا جائے گا اور یادگار تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا ۔ حکومت کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ اقلیتوں سے متعلق اسکیمات کو ان نامور شخصیتوں سے موسوم کیا

نئی دہلی ۔ 5 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے اپنی سیکولر ساکھ کو بچانے کی ایک کوشش کے طور پر مسلمان اور عیسائی طبقہ سے وابستہ نامور شخصیتوں کی فہرست تیار کی ہے۔ ان کے کارناموں کو موثر طور پر اجاگر کیا جائے گا اور یادگار تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا ۔ حکومت کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ اقلیتوں سے متعلق اسکیمات کو ان نامور شخصیتوں سے موسوم کیا جائے۔ ایسی شخصیتیں جنہوں نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا اور مغلیہ دور سے لیکر اب تک کی تاریخ ساز شخصیتوں کا اس میں احاطہ کیا جائے گا ۔ حکومت نے جو فہرست تیار کی ہے ان میں انقلابی اشفاق اللہ خان کا نام بھی شامل ہے ۔ ان کے علاوہ نمک ستیہ گرہ کے لیڈر عباس طیب جی ، ہندوستان چھوڑدو تحریک کے رہنما وقوم عبدالقادر جن کا کیرالا سے تعلق ہے اور سیاسی کارکن و مجاہد آزادی عبید اللہ سندھی کا بھی نام اس فہرست میں ہے۔ مسلم خواتین جیسے بی اماں (عبادی بیگم) اور بیگم حضرت محل کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنہوں نے انگریز حکمرانی کے خلاف بغاوت کی تھی۔

مغلیہ دور کے پرنس دارا شیخون جنہیں ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، اس فہرست میں شامل ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال کا نام بھی شامل رکھا گیا ہے جنہوں نے تاریخی نظم ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘ تحریر کی اور آج بھی ہندوستان میں یہ بے انتہا مقبول و پسندیدہ ہے ۔ ہندوستانی نظام یونانی کے ممتاز طبیب حکیم اجمل خاں کا بھی اس فہرست میں نام شامل ہے۔ مرکزی مملکتی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بتایا کہ عنقریب مختلف اسکیمات کو ان اہم شخصیتوں سے موسوم کیا جائے گا ۔ ان کی یادگار تقاریب منائی جائے گی اور کارناموں کو اجاگر کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس پہل کا مقصد مسلمانوں میں اعتماد بحال کرنا ہے اور ان عظیم ہستیوں کے کارناموں کو اجاگر کرنا ہے جنہوں نے ہندوستانی قومیت سے اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا اور اس کے لئے جدوجہد کی۔ کانگریس دور حکومت میں ان اہم مسلم شخصیتوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا اور تمام اسکیمات صرف ایک ہی خاندان کے ارد گرد گھومتی رہی ہیں۔ انہوں نے اس بار پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس کا طرز عمل صرف ایک خاندان تک محدود تھا جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کے بارے میں یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت یہ رجحان اور منفی ذہن ختم کرنا چاہتی ہے۔

حکومت کا یہ منصوبہ ہے کہ ہر شخص کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مسلمانوں نے بھی جدوجہد آزادی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ حکومت نے اس فہرست میں ملک کی جدوجہد آزادی میں حصہ لینے والی عیسائی شخصیتوں کے نام ٹی ایم ورگھسی اور جارج جوزف کے علاوہ پارسی فرقہ کے فیروز شاہ مہتا اور بھیکا جی کیاما کے نام بھی شامل کئے ہیں۔ اس فہرست کو جاریہ ماہ کے اواخر تک قطعیت دیدی جائے گی ۔ عہدیداروں کے مطابق متعلقہ فرقہ کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد اس فہرست میں مزید نام شامل کئے جاسکتے ہیں۔ اقلیتی ممتاز شخصیتوں کو اجاگر کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ حکومت اس عام رجحان کو تبدیل کرنا چاہتی ہے جہاں اقلیتی شخصیتوں کے ساتھ ہی مخصوص قائدین جیسے ابوالکلام آزاد وغیرہ جن کا کانگریس سے قریبی تعلق رہا ہے، کے نام نمایاں طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ایسی بھی شخصیتیں ہیں جن کی زندگی جدوجہد سے بھری رہی۔ ملک کیلئے ان کی محبت اور قربانی کو یاد رکھا جانا ضروری ہے اور ہمیں ان کی زندگیوں سے کافی سبق حاصل ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT