Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / ’’مسلمانوں اور دلتوں کے بعد اب بچوں کو بھی یہ لوگ نشانہ بنارہے ہیں‘‘

’’مسلمانوں اور دلتوں کے بعد اب بچوں کو بھی یہ لوگ نشانہ بنارہے ہیں‘‘

انتشار پسند طاقتوںکے خلاف آواز اُٹھانا ضروری، عوام خاموشی توڑ دیں، گڑگاؤں تشدد پر اروند کجریوال کا بیان
نئی دہلی 25 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کا قتل اور دلتوں کو زندہ جلانے والی طاقتیں اب ہمارے گھروں میں گھس رہی ہیں۔ ہمارے بچوں کو نشانہ بنانے کے بعد یہ ٹولہ ہم کو پریشان کرے گا۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے گڑگاؤں میں ایک اسکول میں زعفرانی پرتشدد ٹولے کے حملے کے بعد یہ سخت بیان دیا ہے۔ فلم پدماوت کی ریلیز کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک ہجوم نے گڑگاؤں میں اسکول بس پر حملہ کرکے بچوں کو خوف زدہ کردیا تھا۔ کجریوال نے کہاکہ ان انتشار پسند طاقتوں کے خلاف آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ اب عوام کو مزید خاموش رہنے کے بجائے اپنی آواز کو بلند کرنا چاہئے۔ ایسی طاقتوں کو سبق سکھانے کے لئے ہندوستانی عوام کو ہی اُٹھ کھڑے ہونا چاہئے۔ اب تک ہم نے مسلمانوں کے قتل پر خاموشی اختیار کی، دلتوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس پر بھی چُپ رہے لیکن اب یہ لوگ ہمارے بچوں کو نشانہ بناکر ہمارے گھروں میں گھس رہے ہیں۔ ماضی میں مسلمانوں کو مارا گیا تو چُپ رہے، دلتوں کو جلایا گیا تو بھی چُپ رہے جس کے نتیجہ میں ان ٹولوں کے حوصلے بڑھ گئے۔ اب وہ ہم پر حملے شروع کئے ہیں۔ میں ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ اب ہم کو چُپ نہیں رہنا چاہئے۔ آج اُنھوں نے ہمارے بچوں کو سنگسار کردیا۔ کیا ہم ان کے اپنے گھروں میں گھسنے کا انتظار کریں گے۔ اب خاموش مت رہئے، کچھ بولئے، آواز نکالئے۔ چیف منسٹر دہلی یہاں شمالی دہلی کے چھترسل اسٹیڈیم میں منعقدہ یوم جمہوریہ تقریب کے موقع پر ریاستی سطح کے پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ اپنی 40 منٹ طویل تقریر میں کجریوال نے کہاکہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ اسکول کے بچوں کو دارالحکومت دہلی سے چند کیلو میٹر دور ہی پتھروں سے مارا گیا۔ دہلی میں یوم جمہوریہ تقریب سے قبل یہ واقعہ افسوسناک ہے۔ کجریوال نے کہاکہ جو لوگ کل کے واقعہ میں ملوث ہیں انھیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے۔ ایسی شدید سزا دی جائے جیسا کہ رام نے راون کو دی تھی۔ یہ سرزمین رام، کرشنا، گوتم بھد، مہاویر، گرونانک ، کبیر اور میرا کی سرزمین ہے۔ یہاں پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ماننے والے اور یسوع مسیح کے چاہنے والے بھی رہتے ہیں۔ ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جن لوگوں نے کل پتھر برسائے تھے، آیا وہ ہندو، مسلمان یا عیسائی تھے کونسا مذہب بچوں پر ظلم کرنے کا درس دیتا ہے۔ میں یہ مسئلہ یوم جمہوریہ سے پہلے اُٹھا رہا ہوں اور میرا دل اس واقعہ پر تڑپ اُٹھا ہے۔ اس ملک میں ایسے تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ جہاں کے عوام اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور امن و محبت سے رہنا چاہتے ہیں اور میری مرکزی حکمرانوں سے درخواست ہے کہ براہ کرم ہم کو بخش دیں۔ اس ٹولے کے خلاف عوام کی آواز کو سن لیں۔

TOPPOPULARRECENT