Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں سے متعلق کمیشن آف انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کوشاں

مسلمانوں سے متعلق کمیشن آف انکوائری رپورٹ جلد پیش کرنے کوشاں

پسماندگی دیکھ کر صدر نشین جی سدھیر اشکبار،رنگاریڈی اور حیدرآباد کے دورہ کو قطعیت،اقلیتی بہبود کی کارکردگی مایوس کن
حیدرآباد۔/13اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حکومت نے اگرچہ مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کی میعاد میں مارچ 2016ء تک توسیع کی ہے۔ تاہم کمیشن سے خواہش کی گئی کہ وہ جلد سے جلد حکومت کو اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرے۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے مقررہ میعاد کے دوران رپورٹ کی پیشکشی کے علاوہ کمیشن سے خواہش کی ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے بعض نئی اسکیمات کی تجاویز پیش کریں جن کے ذریعہ تعلیمی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ کمیشن آف انکوائری نے اپنی کارکردگی میں شدت پیدا کردی ہے 15تا17اکٹوبر رنگاریڈی اور حیدرآباد کے دورہ کا پروگرام طئے کیا گیا۔ اس دورہ میں نہ صرف عہدیداروں کے ساتھ اسکیمات کا جائزہ لیا جائے گا بلکہ عوامی سماعت کا اہتمام ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ 15اور 16اکٹوبر کو کمیشن رنگاریڈی کا دورہ کرے گا۔ ضلع پریشد آفس میں عوامی سماعت کی جائے گی جبکہ 16اکٹوبر کو کمیشن تانڈور کا دورہ کرے گا۔17 اکٹوبر کو 11 بجے دن تا دیڑھ بجے دوپہر تک شنکر جی آڈیٹوریم ، ونیتا مہا ودیالیہ نمائش گراؤنڈ نامپلی میں عوامی سماعت کی جائے گی۔ ضلع کلکٹر حیدرآباد مسٹر راہول بوجا نے یہ بات بتائی اور مسلم اداروں ، مسلم تنظیموں سے اپنی تجاویز و مشورے اور مسائل سے کمیشن کو واقف کرنے کی خواہش کی اور تحریری یادداشتیں درخواستیں بھی کمیشن کے روبرو پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں قائم کردہ اس کمیشن نے ابھی تک اضلاع میدک، محبوب نگر، نظام آباد اور عادل آباد کا دورہ کیا ہے۔ پہلے مرحلہ کے اس دورہ میں نہ صرف مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لیا گیا بلکہ اردو میڈیم مدارس کی زبوں حالی کا معائنہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بہت جلد نلگنڈہ، کریم نگر اور کھمم اضلاع کے دورہ کے پروگرام کو قطعیت دی جائے گی۔ کمیشن کی جانب سے مختلف محکمہ جات میں مسلمانوں کی نمائندگی کے بارے میں اعداد و شمار طلب کئے جارہے ہیں اور کئی محکمہ جات نے کمیشن کو تفصیلات روانہ کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی 2فیصد سے کم ہے جبکہ اعلیٰ عہدوں پر مسلمان ایک فیصد بھی نہیں ہیں۔ تعلیمی پسماندگی کے بارے میں بھی کمیشن کو کئی چونکادینے والے اعداد و شمار حاصل ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع کے دورے کے موقع پر مسلمانوں کی پستی اور پسماندگی کی حالت زار دیکھ کر صدرنشین جی سدھیر اشکبار ہوگئے۔ کمیشن کے ارکان میں ڈاکٹر عامر اللہ خاں، پروفیسر عبدالشعبان اور ایم اے باری شامل ہیں۔ کمیشن کے ارکان کا احساس ہے کہ اقلیتوں سے متعلق حکومت کی اسکیمات پر عمل آوری کی رفتار غیر اطمینان بخش ہے اور خاص طور پر اضلاع میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ بجٹ کا صحیح استعمال نہیں ہورہا ہے اور اقلیتی بہبود کے عہدیدار امیدواروں کو اسکیمات کیلئے منتخب کرنے کے بجائے انہیں طویل عرصہ تک دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور کررہے ہیں۔ کمیشن نے عادل آباد کے دورہ کے موقع پر ایک اسکول میں یکم تا پانچویں جماعت کے طلبہ کو ایک ہی کلاس میں پایا۔ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ اسکول میں اردو میڈیم کی صرف ایک ہی ٹیچر ہے جبکہ دیگر میڈیم کے ٹیچرس کی کوئی کمی نہیں۔ عادل آباد میں اردو اسکول اسسٹنٹ کی 51 اور ایس جی ٹی کی 148جائیدادیں مخلوعہ بتائی گئی ہیں۔ اردو میڈیم طلباء کے ہاسٹل کی صورتحال انتہائی ابتر ہے جبکہ ایس سی، ایس ٹی ہاسٹلس میں تمام بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ کمیشن کے ارکان نے مسلمانوں کی اس ابتر صورتحال پر حیرت کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن مقررہ میعاد سے قبل رپورٹ پیش کرنے کے حق میں ہے جس میں مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے حکومت کو کئی تجاویز پیش کی جائیں گی تاہم تحفظات سے متعلق تجویز کے بارے میں رپورٹ کی پیشکشی کے موقع پر فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT