Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / مسلمانوں سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک لیجئے

مسلمانوں سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک لیجئے

راجستھان میں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں ‘ بیویوں میں سے 25فیصد نابالغ

نئی دہلی ۔ 15اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ریما بیروال کا ( نام تبدیل ) چہرہ ایک بھاری سبز نقاب میں پوشیدہ ہے ‘ اُس کی گذشتہ سال شادی ہوئی جب کہ اُس نے اپنی اسکولی تعلیم مکمل کی تھی ۔ 17سالہ لڑکی دیہات سوبیلا ضلع ٹونک راجستھان کی ساکن ہے ۔ میں چاہتی تھی کہ اپنا دن گھر کا کام کرتے ہوئے گذاروں اور مزید تعلیم حاصل کروں لیکن میں باہر نہیں جاسکتی تھی اور کسی سے بھی اجازت کے بغیر ملاقات نہیں کرسکتی تھی ‘ وہ اس کا انکشاف کرتی ہے ۔ چہارشنبہ کے دن سپریم کورٹ نے شادی شدہ بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات کو مجرمانہ قرار دیا ۔ کمسن دلہنوں جیسے ریما کے ساتھ تعلقات جرم کی دائرہ میں آگئے ۔ قانون میں گنجائش ہے کہ اس شادی کو کالعدم قرار دیا جائے اور اب یہاں تک حق موجود ہے کہ عصمت ریزی کا ایسے شوہر کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے جس نے جبری مباشرت کی ہو ‘ لیکن کارکنوں کا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکیاں جو عام طور پر غریب ہوتی ہیں اور ناخواندہ ہوتی ہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ نیہا ( نام تبدیل ) کی شادی گذشتہ سال اس وقت ہوئی تھی جب کہ اس کی عمر 16سال ہوئی تھی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ عمر بھی درج رجسٹر عمر ہے ۔ وہ کہتی ہے میرے والدین نے میری شادی علحدہ طور پر نہیں کی تھی ۔ انہوں نے میری بہن کے ساتھ میری شادی کردی تھی اور اُس وقت مجھے اس کا احساس تک نہیں تھا ۔ جب کہ اُسے اپنے شوہر کے گھر جلد ہی جانا پڑا تو اُس نے شادی کے حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُس کی شادی کسی وقت بھی ہوسکتی تھی ‘ اُس پر شادی کیلئے کوئی جبر نہیں کیا گیا تھا ۔ تاہم اس کی خالی آنکھیں اُس بے بسی کا اظہارکررہی تھیں جس کے ساتھ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سونچتی ہے ۔ 2011ء کی مردم شماری قومی کمیشن برائے افزائش نسل ‘ بچوں کے حقوق اور کمسن نوجوانوں کے حقوق کی جانب سے کروائی گئی تھی اور اس غیر سرکاری تنظیم نے واضح کردیا تھا کہ تین لاکھ لڑکوں اور چھ لاکھ لڑکیوں کی شادیاں قانونی عمر علی الترتیب 18 اور 21سال ہونے سے پہلے کردی گئی تھیں ۔ راجستھان میں بچپن کی شادیوں کا فیصد لڑکیوں میں 2.5 اور لڑکوں کا 4.89 ہے ۔ حالانکہ گذشتہ دہائی میں 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی ہندوستان میں شادی میں ڈرامائی طور پر انحطاط پیدا ہوا ہے لیکن نمایاں طور پر یہ اب بھی زیادہ ہے ۔ ایک چوتھائی سے زیادہ شادیاں لڑکیوں کی 14 تا 20سال کے درمیان کردی جاتی ہیں ۔ نابالغ لڑکیوں کی شادی عام بات ہے ۔ تازہ ترین اعداد و شمار 2015 – 16کیلئے ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کی شادی 18سال کی عمر ہونے سے پہلے کردی جاتی ہے ۔ خاندانی صحت سروے نمبر ۔3 برائے 2005 – 06ء 26.8ہے ۔ درحقیقت صرف 7.9 فیصد خواتین کی عمریں 15تا 19سال کی عمر سے پہلے ہی ماں بن چکی تھیں ۔ جس وقت 2015-16ء کے لئے سروے کیا گیا تو 2005 – 06ء میں ان کا فیصد 16فیصد تھا ۔ اعداد و شمار واضح طور پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں جو چہارشنبہ کے دن سنایا گیا بیوی کے ساتھ جنسی تعلق جس کی عمر 18سال سے کم ہو عصمت ریزی کی تعریف میں آتا ہے ‘ چنانچہ ایک جرم ہے ۔ مرکزی حکومت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کو جواز عطا کیا گیا ۔ مرکزی حکومت نے ہندوستان میں ایسی شادی کو جو بلوغت کی عمر سے پہلے کی گئی ہو تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ این ایف ایچ ایس ۔4کے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا
ہے کہ شادی شدہ خواتین پر تشدد ملک گیر سطح پر کم ہوا ہے لیکن گذشتہ 10سال کے دوران شادی کی عمر کا فیصد بھی کم ہوا ہے اور جو خواتین اپنے شریک حیات کے تشدد کا شکار بن گئی تھی ان کا فیصد 37.2 سے بڑھ کر تقریباً 10سال میں 28.8 فیصد ہوگیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ان واقعات میں کمی آئے گی ۔ بچوں کی بردہ فروشی اور بچپن کی شادی کے واقعات کم ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT