Monday , December 11 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں میں اتحاد ناگزیر، بغض و حسد معاشرہ کا ناسور

مسلمانوں میں اتحاد ناگزیر، بغض و حسد معاشرہ کا ناسور

دین سے دوری کے سبب خاندان کا بکھراؤ، مدہول میں جلسہ اصلاح معاشرہ، مولانا امیر اللہ قاسمی اور دیگر علماء کا خطاب

مدہول /28 فبروری( سیاست ڈسٹر کٹ نیوز) مسلمانوں میں اتحاد کا ہو نا نا گزیر ہے مسلکوں ، جماعتوں کو بلا ئے طاق رکھ کر آپسی رنجشوں وبغض، کینہ جیسی بیماریوں کو دور کر تے ہوئے سماج میں پھیلی بیماریوں کو دور کیا جا سکتا ہے ایک ایک فرد ایک ایک خاندان کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح ہو تی ہے ان خیالات کااظہار مولانا محمد امیر اللہ خان قاسمی نا ظم جا معہ اسلا میہ سراج العلوم و سراج البنات محبوب نگر ، جناب ملک معتصم خان سکریٹری جماعت اسلامی ہند ریاست تلنگانہ ، مولانا سید احمد ومیض ندوی استاذ حدیث و فقہ دارالعلوم حیدر آباد نے مدہول جی ایم گارڈن میں تنظیم مجلس آئمہ والحفاظ و نوجوانان مدہول کی جا نب سے منعقد ہ جلسہ اصلاح معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جناب امیر اللہ خان قاسمی نے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ خواتین میں دین اسلا م کا ہو نا نا گزیر ہے ایک اچھے سماج کیلئے خواتین کا دیندار ہو نا انتہائی ضروری ہے کیو نکہ ماں کی گود بچے کیلئے درسگاہ ہو تی ہے اس لئے خواتین و لڑکیوں کی تربیت دین اسلا م پر کریں آپ ﷺ نے فا طمہ ؓ کی تر بیت جس طرح کی تھی اس طرح تربیت کریں خواتین سب سے پہلے پر دہ کا اہتمام کریں عورت کی وجہ سے گھر جنت بھی بنتا ہے وہ دوزخ بھی عورت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شوہر، خاندان و بچوں کا خیال رکھیں بچوں کی تعلیم و تربیت سب سے زیادہ ماں کی ذمہ داری ہو تی ہے لیکن اس دور مائیں اپنے بچوں کو مادری زبان اردو سے دور کر تے ہو ئے انگریزی مدرسوں میں داخلہ دلواتے ہوئے انگریزی طرز پر بچوں کی تربیت کررہی ہیں جس کے سبب خاندان بکھر رہے ہیں اردو کا دم بھر نے والے خود اردو زبان میں اپنی بچوں کی تعلیم و تربیت نہیں کر رہے ہیںاردو زبان کو زندہ رکھنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے نہ کہ حکو مت کی، انہوں نے معذرت کر تے ہوئے کہاکہ سرکاری مدرسوں کو برباد کر نے میں ہمارے اسا تذہ کا بھی اہم رول ہے جس کی وجہ سے سرکاری اردو مدارس کی حالت زار آپ کے سامنے ہے انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے شو ہروں کی خدمت کریں اور گھر کا کام کاج خود کریں اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے تجارتوں کو دینداری کے ساتھ کریں جو تاجر ایمانداری سے تجارت کرتا ہے اس کی تجارت میں خوب ترقی ہو تی ہے اور اپنے کاروبار میں سود سے قرض نہ لینے کی بات کہی مولانا سید احمد ومیض ندوی نے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ آج کا نوجوانان علماء اکرام سے رشتہ کو کمزور کر لیا ہے اور موبائیل فون سے   سے قربت حاصل کرلی جس کے نتیجے میں وہ دین حق سے دور ہو تا جارہا ہے مو بائیل پر فحاشی جیسی چیزیں دیکھ کر وہ اہل حق کی باتیں سونے کیلئے کترا رہا ہے ہماری امت جو آج پریشان ہیں اس کی اصل سبب دین سے دوری ہے ہمارے اندر دین آئے گا تو اللہ کی مدد و نصرت بھی ہمارے ساتھ ہوگی آج کے دور میں میں اہل علم بھی دلوں میںبغض کینہ جیسے بیماریوں کو جگہ دے رہے ہیں جس کے سبب معاشرہ میں برائیاں عام ہو تی جارہی ہے اور عام آدمی ان کے طرز عمل سے متا ثر نہیںہو رہا ہے ٹی وی معاشرہ میں ایک بہت بڑا بگاڑ پیدا کررہی ہے مائیں اپنے معصوم بچیوں کے ساتھ نیم برہنہ سنیما دیکھتی ہیں یہ عمل خاندان کے تمام افراد کے ساتھ ہو تا ہے تو ایسے خاندان سے اچھائی کی امید کیسے کی جا سکتی ہے دنیا میں جتنے اولیاء کرام گزرے ہیں ان کی مائیں ان کو بغیر وضو دودھ بھی نہیں پلا تی تھیں ،سماج میں طلاق کا مسئلہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے جس کے سبب خاندان بکھر رہے ہیں یہ سب دین سے دوری کے نتیجہ میں ہورہا ہے۔ جناب ملک معتصم خان سکریٹری جماعت اسلا می تلنگانہ ریاست نے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ سماج میں جہیز ایک نا سور بنتا جارہا ہے جس کے سبب سماج میں بہت افراتفری کا ماحول دیکھاجارہا ہے کئی نوجوانان لڑکیاں جہیز و رسم و رواج کے سبب بنا بیا ہ گھروں میں بیٹھی ہوئی ہیں امت میں رسم و رواج ، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی بڑی تقاریب منعقد کر نا اور مغربی تہذیب میں اپنے آپ کو ڈھالنے کے سبب بہت سے برائیوں جنم لے رہی ہیں جس کی وجہ سے خاندان بھی بکھر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس دور میں تعلیم کے ذریعہ ہی ایک اچھا سماج تشکیل پا سکتا ہے جدید تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کا ہو نا نا گزیر ہے ان تعلیمات کے بغیر انسان ادھورا ہے یہ امت پر اللہ تعالی نے بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ تمام برداران وطن کو دین اسلا م کی دعوت دیں اور ہمارے درمیان میں مسلکوں ، جماعتوں کے جھگڑوں کو ختم کر تے ہوئے اللہ اور اس کے رسول ؐسے تعلق کو مضبوط کرلیں اور اللہ سے تعلق مضبوط نہ ہو نے کی وجہ سے ہمارے اندار انتشار ، بغض ، کینہ ، حسد جیسی بیماریاں پیدا ہورہی ہے اصلا ح کا میدان بہت وسیع ہے انہوں نے کہاکہ آج شوشل میڈیا ، جدید ٹکنالوجی ہے جس سے سماج میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اس شوشل میڈیا کو ہم نہیں روک سکتے لیکن اس کواسلامی طرز ، فکر رکھنے کیلئے عام کر سکتے ہیں شوشل میڈیا پر ایسے دیندار لو گ دین اسلا م کو عام کر نے کیلئے استعمال کریں تا کہ نوجوان برائی کے بجائے اچھائی کی طرف راغب ہوں اسی طرح میڈیا کو بھی دین کیلئے استعمال کریں تاکہ جدید ٹکنالوجی کے ذریعہ ہی اسلا م کو عام کیا جا سکے مولانا عامر حنیف قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ سے اپنے رشتہ کو مضبوط کرنے پر زندگی کا میا ب گزر سکتی ہے لیکن آج لو گ دنیاداری میں اپنے آپ کو وقف کررہے ہیں جب کہ ابدی ٹھکانہ آخرت ہے انہوں نے بچوں کو دینی مدرسوں میں تعلیم دلوانے پر زور دیا اور ساتھ ہی ساتھ پڑوسیوں ، استاداور رشتہ داروں سے بہتر تعلقات قائم کر نے پر زور دیا ، مولانا محمد مصدق القاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں دن بدن حالات بدلتے جارہے ہیں ایسے نازک موقع پر مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک میں بردران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کریں اور اسلا م کے پیغام کو ان تک پہنچائیں ہماری اخلاقیات و انکساری ، محبت ، شفقت کے ساتھ بردران وطن کو اسلا م سے واقف کروائیں دین اخلاق کی بنیادپر ہی پھیلا ہے جس کے سبب ملک میں فرقہ پر ستی کا خاتمہ بھی اسی سے ممکن ہے آپ ﷺ نے غیروں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کیا تاریخ گواہ ہے مفتی شاہد غفران قاسمی ناظم مدرسہ جا معہ عربیہ بھینسہ کے علاوہ علماء اکرام نے خطاب کیا ۔ پروگرام کا آغاز حافظ سہیل کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا نظامت کے فرائض مولانا کلیم الدین قاسمی صدر تنظیم آئمہ والحفظ نے ادا کئے اس پروگرام میں مہمان اعزازی کے طور پر جناب اعجاز الدین صدر مدرسہ محمد تعلیم القر آن مدہول ، جناب وصی الدین خالد پٹیل نائب صدر مدرسہ ھذا ،جناب افروز خان سابقہ سرپنج وٹی آرایس پارٹی صدر منڈل مدہول ،جناب محمد کلیم الدین زاہد پٹیل مدہولی شریک تھے پروگرام کے اختتام پر جناب حافظ عبدالقوی نے مہمانوں اور پروگرام میں تعاون کر نے والے احباب کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر حفاظ و نوجوانان مدہول اور خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

TOPPOPULARRECENT