Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب والوں سے کم

مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب والوں سے کم

حقائق کو مجتمع کرنے آن لائن سروے کا آغاز۔ مسلمان مرد و خواتین کیلئے حصہ لینے کی سہولت
حیدرآباد۔24اپریل (سیاست نیوز) مسلمانوں میں طلاق کی شرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے کم ہے ۔ 2011مردم شماری کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ان میں طلاق کی شرح 0.56ہے اور غیر مسلموں میں یہ شرح کسی قدر زیادہ ہے اوران میں علحدگی اختیار کرنے والوں کی شرح 0.76ہے۔طلاق ثلاثہ مسئلہ پر جاری مباحث کے دوران اب تک کسی ادارہ کی جانب سے کوئی سروے نہیں کروایا گیا بلکہ مردم شماری کے اعداد کے علاوہ کوئی ایسے اعداد و شمار موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ مسلمانوں کی طلاق کی شرح زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی شرح طلاق دیگر اقوام کی بہ نسبت زیادہ ہے اور مسلمانوں میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے لیکن یہ الزامات عائد کرنے والوں کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ وہ قیاس آرئیوں پر مبنی الزام عائد کئے جا رہے ہیں جو عدالت میں قابل قبول نہیں ہوگا لیکن اس کے جواب میں مسلمانوں کی جانب سے کسی مسلمہ ادارہ کا سروے پیش کرکے یہ اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح کم ہے اور طلاق ثلاثہ جیسے مسائل پر مسلمانوں کو خود ان کی شریعت متنبہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں سپریم کورٹ میں مسئلہ پر مدلل مباحث کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مقابلہ میں طلاق ثلاثہ پر پابندی کا مطالبہ کرنے والے بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کے سروے کا حوالہ دے رہے ہیں جس میں 4710خاندانوں کا سروے کرتے ہوئے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق کی شرح 11 فیصد ہے جو کہ مردم شماری کے اعداد و شمار سے کافی زیادہ ہے۔ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر مسلمانو ںکی رائے اور مسلمانوں کے موقف سے آگہی کے لئے ضروری ہے کہ ان کا ایک اپنا سروے موجود ہو جس کے ذریعہ مسلم خواتین کے موقف کو پیش کیا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ان میں طلاق کی حقیقی شرح کیا ہے اور طلاق ثلاثہ کے کتنے واقعات ہیں ۔اس سروے کیلئے ہند۔امریکی معاشی تعلقات اور دیگر امور پر سروے کرنے والے جناب ابو صالح شریف کے ادارہ کی جانب سے آن لائن سروے کروایا جا رہا ہے اور سروے کے ذریعہ یہ اعداد وشمار اکٹھا کئے جا سکتے ہیں اور مرد و خواتین کیلئے جاری سروے میں مسلم مرد و خواتین حصہ لے کر اپنے عائلی موقف اور صورتحال کے متعلق سوالات کا جواب دے کر سروے میں مدد کر سکتے ہیں ۔ سروے میں حصہ لینے http://crddpsurvey.in پر کلک کرتے ہوئے تفصیلات درج کی جاسکتی ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT