Wednesday , December 12 2018

مسلمانوں نے ہمیں الگ تھلگ کردیا اور ہندو بھی ہمیں قبول نہیں کرتے

ڈابلی (آگرہ) ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک بچہ کی حیثیت سے عارف علی بچوں کو دیکھتے ہی جو ٹریفک سگنلس پر رسی پر چلنے کا کرتب دکھاتے ہیں تاکہ پیسے حاصل کرسکیں، خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ وہ ڈابلی دیہات کا ساکن ہے جو آگرہ میں ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اس کا حشر بھی ان بچوں کے جیسا ہو لیکن ’’نٹ‘‘ برادری میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ

ڈابلی (آگرہ) ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک بچہ کی حیثیت سے عارف علی بچوں کو دیکھتے ہی جو ٹریفک سگنلس پر رسی پر چلنے کا کرتب دکھاتے ہیں تاکہ پیسے حاصل کرسکیں، خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ وہ ڈابلی دیہات کا ساکن ہے جو آگرہ میں ہے، وہ نہیں چاہتا کہ اس کا حشر بھی ان بچوں کے جیسا ہو لیکن ’’نٹ‘‘ برادری میں پیدا ہونے کی وجہ سے اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کرے۔ اس حشر سے بچنے کیلئے وہ حجام بن گیا لیکن غربت نے اسے نہیں چھوڑا، اس کا باپ رحمت علی جس نے اپنی پوری زندگی مغربی یو پی میں سرکس میں کرتب بتاتے ہوئے گزاری ہے۔ اسے اس پیشہ پر مجبور کر رہا ہے، اس لئے جب بھی اسے اراضی ، ملازمت اور رقم کی پیشکش ’’لو پنڈت‘‘ کی جانب سے کی جاتی ہے جو ہندوتوا تنظیم کا ایک قائد ہے، اس نے حجام کی دکان میں اس سے دوستی کرلی ہے ۔ 35 سالہ عارف ایسی پیشکش کی مزاحمت نہیں کرسکتا، اسے صرف ہندو دھرم قبول کرنا ہوگا۔ اپنی برادری کی جانب سے شدید مزاحمت کے باوجود عارف نے اپنے خاندان کو ’’یہ فراخدل پیشکش‘‘ قبول کرلینے کی ترغیب دی۔ نٹ برادری روایتی طور پر لوک سرکس اور کرتب دکھاتی ہے۔ یہ دیہی عوام کیلئے تفریح کا ایک ذریعہ ہے لیکن بڑھتے ہوئے شہریان نے تفریح کے دیگر طریقے متعارف کروائے ہیں، جس کی وجہ سے نٹ برادری سڑکوں پر آگئی ہیں اور بڑے شہروں میں ٹریفک سگنلس پر کرتب دکھاتی ہے۔ انتہائی پسماندہ ذات جیسے نٹ سے تعلق رکھنے والے عارف علی اور اس کی طرح 11000 بچے محدود مواقع کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اس لئے ایک مکان کا مالک بننا یا اراضی کے ایک قطعہ کا مالک بننا ان کے لئے جنت حاصل ہونے سے کم نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ اس کا بوسیدہ مکان اور اس کے دیہات کی پنچایت کی ملکیت اراضی جس نے نٹوں کو ان کے استعمال کی اجازت بھی ہے، تمام کے تمام ایک ہندو کی ملکیت ہے۔ اس کی بیوی اس کے دو چھوٹے بھائی اور ان کی بیویاں گزشتہ کرسمس کو اپنے ساتھی برادری کے ارکان کے زبرست ردعمل کی وجہ بنے ۔ یہ ایک بڑی خبر بن گئی۔ ان کی گھر واپسی کے ساتھ زمین ، رقم اور ملازمت کا انتظار شروع ہوگیا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ تمام چیزیں انہیں کبھی حاصل نہیں ہوئیں۔ عارف علی کہتا ہے کہ لو پنڈت نے مہلت طلب کرلی اور ان سے کہا کہ صبر کریں۔ ان کے انتظار اور ساتھ ہی ساتھ سماجی بائیکاٹ کا بھی آغاز ہوگیا۔ وہ مسلمانوں سے کٹ کر الگ تھلگ ہوگئے، ساتھ ہی ساتھ ہندوؤں نے بھی انہیں قبول نہیں کیا۔ 75 سالہ رحمت علی کہتا ہے کہ ہماری شناخت ایک نٹ کی تھی، ہم کبھی ہندو یا مسلمان نہیں رہے۔ ہم صرف نٹ برقرار رہے۔ تب بھی یہ مذہب کے بعد بھی بحیثیت مجموعی ہم حاشیہ پر رکھے جاتے رہے۔ میری بیٹی کی شادی کی گئی حالانکہ ہم نے مذہب تبدیل کرلیا تھا لیکن ہمیں ہندوؤں سے کوئی اچھا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہندو دھرم قبول کرنا فائدہ مند نہیں ہے۔ تب بھی یہ مذہب کی پوری کارروائی یا دوبارہ تبدیلی مذہب کی کارروائی سے وہ تمام دوبارہ مسلمان گئے۔ اس پورے کھیل کا اہم کھلاڑی پنڈت لاپتہ ہے، مبینہ طور پر وہ روپوش ہوگیا ہے۔ ان کے ہندو دھرم قبول کرنے کی طرح ان کا دوبارہ اسلام قبول کرنا انہیں قومی اور بین الاقوامی خبروں کی سرخیوں میں لے آیا ہے لیکن جو بات لوگ نہیں جانتے ، غربت سے بچنے کیلئے ان کی جدوجہد ہے۔

TOPPOPULARRECENT