Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں پر پابندی دہشت گردی کیخلاف لڑائی کے مفاد میں نہیں

مسلمانوں پر پابندی دہشت گردی کیخلاف لڑائی کے مفاد میں نہیں

صدر امریکہ اوباما کا روٹگرز یونیورسٹی طلباء سے خطاب، ٹرمپ کے بیانات کی مذمت

واشنگٹن ۔ 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما یوں تو صدارتی انتخابات کیلئے جاری مہمات اور امیدواروں سے متعلق زیادہ لب کشائی سے گریز کرتے ہیں کیونکہ صدر ہونے کے ناطے پروٹوکول (آداب) اس بات کی اجازت نہیں دیتا لیکن جب سے ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی کی بات کہی ہے اس وقت سے اب تک امریکہ کا ہر حقیقت پسند شخص بے چین ہے لہٰذا یہ لازمی بات ہے کہ صدر امریکہ بھی ضرور بے چین ہوں گے۔ اوباما نے کہا کہ مسلمانوں کی آمد کو روکنے کیلئے بلند و بالادیواریں تعمیر کرنے کی بات کرنے والے ٹرمپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس طرح دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ یکا و تنہا ہوجائے گا کیونکہ اس لڑائی میں امریکہ کے ساتھ ایسے کئی ممالک ہیں جن کی پالیسیاں ٹرمپ کی پالیسیوں سے میل نہیں کھائیں گی (ٹرمپ کے صدر بننے کی صورت میں) اوباما نے اپنے خطاب کے دوران حالانکہ 69 سالہ ٹرمپ کا نام لینے سے گریز کیا۔ تاہم یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی کہ رئیل اسٹیٹ کے مالدار ترین تاجر سمجھے جانے والے ٹرمپ کی انتخابی مہمات کے بارے میں وہ (اوباما) کیا سوچتے ہیں۔ صدر امریکہ نے باوقار روٹگرز یونیورسٹی میں اپنی ایک طویل تقریر کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ٹیکنالوجی کی انتہائی تیز رفتار زندگی جی رہے ہیں۔ آج دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن گئی ہے اور ہر ملک کا دوسرے ملک سے ناطہ و رشتہ بنتا جارہا ہے کیونکہ ایسا کرنا اب آسان ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں بلند و بالا دیواریں تعمیر کرنے سے کچھ بدلنے والا نہیں۔ اوباما کا اشارہ ٹرمپ کے بیان کی جانب تھا۔ اس وقت یونیورسٹی کے ہال میں تقریباً 12000 گریجویٹس موجود تھے۔ انہوں نے فلسفیانہ انداز میں کہاکہ سیاست اور عملی زندگی میں لاعلمی سے آپ کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ آج امریکہ بہتر ہے اسی لئے دنیا بھی بہتر نظر آتی ہے۔ آج دنیا اس زمانے سے بہتر نظر آتی ہے جب میں نے (اوباما) گریجویشن کیا تھا۔ آج جمہوری اقدار عروج پر ہیں۔ ہم نے ترقی کی رفتار میں آگے بڑھتے ہوئے کئی بیماریوں سے چھٹکارہ حاصل کیا جیسے پولیو۔ ہم نے غربت پر قابو پایا اور نوزائدہ بچوں میں اموات کی شرح کو قابو میں کیا۔ بحیثیت صدر میری اولین ذمہ داری امریکہ کا تحفظ اور خوشحالی ہے اور شہری ہونے کے ناطے ہم سب کی نظروں میں امریکہ کا مقام سب سے اوپر ہے لیکن گذشتہ 20 سالوں نے ہمیں جو کچھ سکھایا اس میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کے بڑے بڑے چیلنجس کا مقابلہ اکیلے نہیں کیا جاسکتا۔ اگر امریکہ کا ساتھ ہر ملک نے چھوڑ دیا تو دہشت گردوں کو اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کا مزید موقع ہاتھ آئے گا اور دہشت گردوں کے نظریات آہستہ آہستہ ہماری سرحدوں میں داخل ہوں گے۔ جب ترقی پذیر ممالک میں صحت عامہ کا کوئی مؤثر میکانزم موجود نہ ہوگا تو ذکا اور ایبولا جیسی بیماریوں کے وائرس امریکہ تک آجائیں گے اور اس وقت کوئی بلند وبالا دیوار انہیں روک نہیں سکتی۔ اوباما نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی آمد پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر ان کے ساتھ دیگر شہریوں کے مقابلے امتیازی سلوک روا رکھا جانا امریکہ کی اقدار کے خلاف ہے اور یہ دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہمارے ساتھی ممالک کو احساس اجنبیت پر مجبور کردے گی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کو ہم سے دور کردے گی۔

TOPPOPULARRECENT