Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کا جلسہ صرف محمود علی صاحب کی ذمہ داری!

مسلمانوں کا جلسہ صرف محمود علی صاحب کی ذمہ داری!

حکومت کی یوم اقلیتی بہبود و یوم تعلیم تقریب سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ
چیف منسٹر اور وزراء کی عدم شرکت ، تقریب میں فلمی گانے ، اردو زبان ندارد ، دعوت نامہ میں فاش غلطیاں
حیدرآباد۔ 11 ۔ نومبر (سیاست نیوز) ملک کے پہلے وزیر تعلیم اور مجاہد آزادی مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کو یوم اقلیتی بہبود اور یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن حکومتوں کیلئے یہ دن محض سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ بن چکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے آج رویندر بھارتی میں منعقدہ یوم اقلیتی بہبود کی تقریب اقلیتوں کے ساتھ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں تھا ۔ ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی ترقی اور بھلائی کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن افسوس کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حیدرآباد میں موجودگی کے باوجود اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ کے سی آر نے گزشتہ سال بھی اسمبلی میں موجود رہنے کے باوجود متصل رویندر بھارتی میں منعقدہ یوم اقلیتی بہبود میں شرکت سے گریز کیا تھا ۔ ٹی آر ایس کے وزراء اور اقلیتی قائدین کے سی آر کو اقلیتوں کا مسیحا قرار دیتے ہیں لیکن ان کی اقلیتوں سے ہمدردی کا اندازہ یوم اقلیتی بہبود کی تقریب میں عدم شرکت سے ہوچکا ہے۔ اس بارے میں جب بعض اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر کی منظوری کے بغیر ہی محکمہ اقلیتی بہبود نے ان کا نام مہمان خصوصی کی حیثیت سے کارڈس میں شائع کردیا تھا۔ چیف منسٹر سے اس پروگرام میں شرکت کیلئے کسی نے خواہش نہیں کی اور چیف منسٹر کے سکریٹری کو پروگرام کی اطلاع دی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اجازت کے بغیر نام شامل کرنے کیلئے چیف منسٹر کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ محکمہ کی جانب سے شخصی طور پر چیف منسٹر کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ افسوسناک پہلو تو یہ تھا کہ تقریب کا آغاز مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے ہوا جبکہ طلبہ اساتذہ اور شرکاء صبح 10.30 بجے سے رویندرا بھارتی پہنچ چکے تھے۔ مولانا آزاد کی یاد میں منعقدہ اس تقریب میں شرکاء کی موجودگی کو یقینی بنانے کیلئے ایک گھنٹہ تک مختلف نغمے گائے گئے جن میں فلمی نغمے بھی شامل تھے ۔

مولانا آزاد جیسی مذہبی شخصیت اور قومی رہنما کے نام سے منعقدہ تقریب میں فلمی گانوں پر کئی افراد نے سخت اعتراض کیا۔ رویندرا بھارتی کے بیرونی حصہ میں مختلف اقلیتی اداروں کی جانب سے اسٹالس لگائے گئے تھے لیکن ان پر اردو زبان کے بجائے انگریزی میں اداروں کے نام اور اسکیمات کی تفصیلات تحریر کی گئی تھی۔ اس طرح محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو زبان کو نظر انداز کردیا ۔ چیف منسٹر اور دیگر معززین کے استقبال کیلئے بنائے گئے بیانرس اور فلیکسی بھی اردو زبان میں نہیں تھے۔ اردو سے وابستہ اساتذہ نے اردو کو نظرانداز کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا اور بعض عہدیداروں سے شکایت کی۔ دلچسپ بات تو یہ تھی کہ تقریب کے اختتام تک بھی اسٹالس برقرار رکھے نہیں گئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آمد کے بعد پہلے اسٹالس کا معائنہ کیا اور پھر تقریب کا آغاز ہوا۔ ہال میں تقریب جاری تھی تو دوسری طرف بیرونی حصہ کے اسٹالس اٹھادیئے گئے ۔ حالانکہ ان کے اہتمام کا مقصد شرکاء کو اقلیتی بہبود کی اسکیمات کی تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا ۔ ایک بزرگ شہری نے ریمارک کیا کہ چیف منسٹر اور وزراء کو یوم اقلیتی بہبود میں شرکت کیلئے وقت نہیں ہے جبکہ ورنگل میں اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے وزراء ٹوپی پہن کر مہم چلا رہے ہیں۔ تقریب کے دعوت نامہ میں ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری ، ریاستی وزراء این نرسمہا ریڈی ، ٹی سرینواس یادو اور ٹی پدما راؤ کے نام شامل تھے لیکن ان میں سے کسی نے شرکت نہیں کی۔ برخلاف اس کے اگر پسماندہ طبقات کی کوئی تقریب ہوتی تو یہ تمام وزراء لازمی طور پر شریک ہوتے۔ تقریب کے دعوت نامے میں اردو ترجمہ کی فاش غلطیاں دیکھی گئی۔ محمد محمود علی کے قلمدانوں میں ریلیف اور ری ہیبلیٹیشن (امداد و بازآبادکاری)  کا ترجمہ ’’بحالیٔ امن‘‘ لکھا گیا ۔ تقریب کی کیمپیرنگ سے کافی وقت خراب ہوا۔ کیمپریر کے طویل تبصرے اور اسکیمات کے بارے میں غلط معلومات کے سبب عہدیداروں کو بار بار مداخلت کرنی پڑی۔ کیمپریر نے اوورسیز اسکالرشپ اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی کو قرض سے تعبیر کیا۔

TOPPOPULARRECENT