Thursday , September 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے انتخابی ٹکٹ دینے کا مطالبہ

مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے انتخابی ٹکٹ دینے کا مطالبہ

نندیال۔ 11 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات کے پیش نظر آواز کمیٹی نندیال کی جانب سے ایک منشور کی اجرائی بدست آواز کمیٹی کے ضلع صدر محمد مرتضی نندیال ڈیویژن کے صدر حافظ امجد باشاہ صدیقی ،سکریٹری عبدالصمد ،ٹاؤن سکریٹری خواجہ حسین ملا آواز کے لیڈر محمد اسم الدین عمل میں آئی۔ منشور میں سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن 20

نندیال۔ 11 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عام انتخابات کے پیش نظر آواز کمیٹی نندیال کی جانب سے ایک منشور کی اجرائی بدست آواز کمیٹی کے ضلع صدر محمد مرتضی نندیال ڈیویژن کے صدر حافظ امجد باشاہ صدیقی ،سکریٹری عبدالصمد ،ٹاؤن سکریٹری خواجہ حسین ملا آواز کے لیڈر محمد اسم الدین عمل میں آئی۔ منشور میں سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن 2014ء میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے امیدوار بنایا جائے اور سچر کمیٹی اور رنگاناتھ مشرا کمیشن کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ اس موقع پر آواز کمیٹی کے ضلع صدر محمد مرتضی، امجد باشاہ صدیقی اور عبدالصمد نے بتایا کہ آج عدم مساوات کی صورت میں کئی مسائل پیدا ہورہے ہیں اور مساوی حقوق کی فراہمی کے ذریعہ ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ اقلیتوں کی پسماندگی کا اندازہ مشرا کمیشن اور سچر کمیٹی کی رپورٹس سے لگایا جاسکتا ہے۔ 15 نکاتی پروگرام پر عمل آوری میں حکومت کی کارکردگی قابل تعریف نہیں ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ نہ صرف مذہبی ناانصافی بلکہ تہذیبی سطح پر اور لسانی بنیاد بھی ناانصافی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیا جارہا ہے جو قابل افسوس ہے۔

حکومت نے جاریہ سال کے دوران اقلیتوں کے لئے 1,027 کروڑ روپئے بجٹ کے طور پر مختص کئے ہیں جس میں صرف 476 کروڑ روپئے جاری کئے جاچکے ہیں اور تقریباً 500 کروڑ روپیوں کی اجرائی باقی ہے جو رقم جاری کی گئی ہے، وہ پوری رقم اب تک خرچ نہیں کی گئی ہے جبکہ مالی سال ختم ہونے جارہا ہے۔ بجٹ کا معاملہ صرف اس سال کا نہیں ہے بلکہ عرصہ دراز سے لاپرواہی کی جارہی ہے۔ اقلیتوں کیلئے ایک سب پلان کی بھی ضرورت ہے جس کے لئے کئی مسلم تنظیمیں مطالبات بھی کرچکی ہیں لیکن حکومت اس مطالبہ پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بموجب مسلم اقلیت کو تعلیمی میدان میں بد سے بدتر بتایا گیا ہے۔ اس کی اہم وجہ غریبی، ہے۔ اس لئے حکومت سے مطالبہ ہے کہ منڈل کی سطح پر پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک ہاسٹلس کا انتظام کیا جائے تاکہ غریب طلباء و طالبات تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ریاستی وقف بورڈ کی جائیدادوں کی تباہی، ہزاروں ایکڑوں میں ہوتی جارہی ہے لیکن حکومت اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کو اس معاملے میں توجہ دینے کا شاید وقت ہی نہیں ملتا۔ 65 سال سے کانگریس کے ساتھ دوسری حکومتیں بھی مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہی ہیں۔ یہ کب تک ہوتا رہے گا۔ مسلمانوں کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر آواز کمیٹی اس منشور کی کاپیوں کو حکومت، سیاسی لیڈروں اور رہنماؤں کو دے کر مسلمانوں کے ساتھ انصاف کرنے کا پرزور مطالبہ کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT