Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو اب تمنائوں میں الجھانا ممکن نہیں

مسلمانوں کو اب تمنائوں میں الجھانا ممکن نہیں

12 فیصد تحفظات کیلئے حکومت کی غیر قانونی حکمت عملی پر مسلم طبقہ خود میدان میں، اپوزیشن کے قائدین کو یادداشتیں
حیدرآباد ۔ 8 ؍ جنوری ( سیاست نیوز) مسلم تحفظات کیلئے ریاست کے مسلمانوں میں جو شعور بیدار ہوگیا ہے اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اور اس کی حلیف جماعت کی غیر سنجیدگی سے وہ خود میدان میں کود پڑے ہیںاور اپوزیشن قائدین سے ملاقات کرکے نہ صرف انہیں تحریری یادداشت پیش کر رہے ہیں بلکہ عجلت میں فیصلہ کرے بغیر اور تحفظات کو عدالتی کشاکش سے محفوظ رکھنے حکومت کی صحیح رہنمائی پر زور دے رہے ہیں ۔ مسلم ریزویشن فرنٹ ضلع سنگاریڈی کے کنوینر خلیل الرحمن جنرل سکریٹری ایم اے سمیع آرگنائیزنگ سکریٹری محمد عزیز احمد جوائنٹ سکریٹری عرفات محی الدین رکن عاملہ محمد احمد اور دوسروں نے قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی تلگوودیشم کے فلور لیڈر ریونت ریڈی اور سی پی ایم کے رکن اسمبلی ایس راجیا کے علاوہ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا سے ملاقات کرکے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے حکومت پر دباو ڈالنے کے مطالبہ تحریری یادداشتیں پیش کی ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں سے خواہش کی گئی کہ وہ مسلم تحفظات میں توسیع کیلئے اسطرح حکمت عملی تیار کریں جس سے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں فائدہ ہوسکے ۔ مسلم ریزرویشن فرنٹ ضلع سنگاریڈی کا وفد وزیر آبپاشی ہریش راؤ سے بھی نمائندگی کرچکا ہے ۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے انہیں یقین دلایا کہ وہ مسلم تحفظات کے معاملے میں حکومت سے موثر نمائندگی کرکے اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنے کے بجائے بی سی کمیشن کو ریاست کے تمام 31 اضلاع کا دورہ کراتا ہوئے عوامی سماعت کا اہتمام کرنے دباو بنائیں گے ۔ روز نامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک سے مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے۔ پہلے مقامی طور پر مسلمانوں نے تحصیلداروں ‘ کلکٹرس وزرا ارکان اسمبلی کے علاوہ  سرپنچ سے چیف منسٹر کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور بی سی کمیشن کی سفارشات سے مسلم تحفظات میں توسیع کرنے کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ کے سی آر نے حکومت کی تشکیل سے پہلے چار ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیاتھاتاہم اختیارات سے عاری سدھیر کمیشن کی تشکیل پانے سے پہلے وقت ضائع کیا گیا ۔ بی سی کمیشن تشکیل دیا گیا مگر صرف 6 دن کی سماعت کے بعد اسمبلی میں قرارداد منظور کرنے حکومت تیاری کر رہی ہے جو غیر قانونی اور غیر دستوری ہے ۔ کانگریس دور حکومت متحدہ آندھرا میں بی سی کمیشن نے صرف 16 اضلاع میں سماعت کی تھی جب مسئلہ ہائیکورٹ سے رجوع ہوا تھا تو ماباقی 7 اضلاع کا دورہ نہ کرنے کی وجہ دریافت کرکے تمام اضلاع کا دورہ کرنے ہدایت دی تھی ۔ اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد تلنگانہ کے اضلاع کی تعداد 31 ہوگئی ہے ۔ تاہم بی سی کمیشن نے صرف 6 دن حیدرآباد میں سماعت کی ہے ۔ جو عدلیہ کیلئے قابل قبول ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ بی سی کمیشن کے پاس دوسرے طبقات کے ساتھ مسلمانوں کی پسماندگی کی تقابلی رپورٹ نہیں ہے ۔ ملک کی تین بی جے پی ریاستوں گجرات ‘ ہریانہ و راجستھان میں گجر طبقات کو تحفظات فراہم کئے گئے تھے تاہم مقامی ہائیکورٹس نے ان تحفظات کو کالعدم قرار دیا ۔ گجرات کی نمائندگی کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات میں بی جے پی حکومت کیلئے چیالنج  بننے والے پٹیل برادری کو خوش کرنے دستور کی 9 ویں شیڈول میں کوئی ترمیم نہیں کی ۔ ہریانہ میں بی جے پی کے سینئر قائد وینکیا نائیڈو کی قیادت میں کمیٹی تشکیل دی  اس کے علاوہ جاٹ طبقہ نے پرتشدد احتجاج کرکے کروڑہا روپئے کے سرکاری و خانگی املاک کو نقصان ہی نہیں پہونچایا بلکہ خواتین کی عصمت ریزی کو بھی فراموش کر دیا ۔ گجر طبقہ راجستھان میں برسوں سے احتجاج کر رہا ہے انہیں مطمئن کرنے دستور ہند کی 9 ویں شیڈول میں کوئی ترمیم نہیں کی اور نہ پارٹی کے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا تو چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر خوش فہمی میںکیوں ہیں کہ ان کی جانب سے اسمبلی میں منظورکردہ قرارداد پر مرکزی حکومت دستور ہند کی 9 ویں شیڈولڈ میں ترمیم کیلئے راضی ہوجائیگی ۔ ملک اور مسلمانوں کے حالات اور تحفظات کے بارے میں معلومات رکھنے کے باوجود حکومت کی حلیف جماعت غلط فہمی کی شکار کیوں ہے ۔ یہ سارے تلنگانہ میں موضع بحث ہے ۔ متحدہ آندھرا کی اسمبلی میں خواتین کیلئے 33 فیصد تحفظات اور دلت طبقہ کیلئے  اے بی سی ڈی زمرہ بندی کیلئے کی گئی قرارداد منظور کرکے مرکزی حکومت کو روانہ کی گئی جس پر آج تک کوئی عمل آوری نہیں ہوئی تو مسلم تحفظات کی مخالف بی جے پی جو 4 فیصد مسلم تحفظات کے خلاف ہائیکورٹ و سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اس جماعت کے وزیراعظم سے مسلم تحفظات کی توسیع کیلئے  دستور ہند میں ترمیم کرنے کی امید رکھنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف یا مسلمانوں کو چاکلیٹ  یا لالی پاپ دینے کے مماثل ہے ۔ اگر تلنگانہ حکومت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے سنجیدہ ہے تو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے ۔

TOPPOPULARRECENT