Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے طرز زندگی بدلنے پر زور

مسلمانوں کو اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے طرز زندگی بدلنے پر زور

تلنگانہ مسلم ہکولہ پوراٹا سمیتی کا افتتاح، جناب سید عزیز پاشاہ و دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 13 جنوری (سیاست نیوز) مسلمانوں کو ملک میں اپنے وجود کا احساس دلانے کیلئے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا۔ اب غوروفکر کے دائرے سے باہر آتے ہوئے جدوجہد کرنی پڑے گی اور احتجاج کے ذریعہ اپنے حقوق کو حاصل کرنا ہوگا ورنہ آئندہ نسلوں کی شناخت موہوم ہوجائے گی۔ ان خیالات کا اظہار سید عزیز پاشاہ قادری سابق رکن راجیہ سبھا و سینئر قائد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے کیا۔ انہوں نے آج یہاں تلنگانہ مسلم ہکولہ پوراٹا سمیتی (ٹی ایم ایچ پی ایس) کے افتتاحی اجلاس سے کیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے مسلمانوں کے حقوق کو حاصل کرنے اور ترقی و بہبود کو یقینی بنانے کیلئے اس تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مسلم طلبہ کی اس جدوجہد کو بہوجن، دلت، سماجی، حقوق انسانی تنظیموں کے علاوہ آواز کمیٹی، عام آدمی پارٹی، سی پی آئی اور تلنگانہ پولیٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھرپور تائید کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس سے اس بات کااعلان کردیا کہ وہ پہلے مسلم سماج کے ہر گوشہ تک اپنی رسائی کو یقینی بنائے گی۔ مسلم اکابرین، علماء، مفتیان، مدرسین، مشائخ، مسلم دانشوروں اور مسلم مذہبی تنظیموں اور مسلم سیاسی قائدین کو بھی اپنا پیغام دے گی۔ اس تنظیم میں مسلم طلباء کی کثیر تعداد موجود ہے۔ سمیتی نے کہاکہ ریاست بھر میں تنظیمی سرگرمیوں میں شدت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سمیتی مساجد کو اپنا مرکز بنائے گی اور امن و بھائی چارہ کے پیغام کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد کرے گی۔ جناب عزیز پاشاہ قادری نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے اس تنظیم کے قیام پر ذمہ داروں کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس طرح کی تنظیم کی شدید ضرورت تھی۔ انہوں نے ذمہ داروں کو مفید مشورے دیئے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کے بغیر ہمارے حقوق حاصل کرنا مشکل ہے۔ مسلمانوں کو سوچ بدلنی پڑے گی۔ انہوں نے مسلم قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم قیادت کے دعویداروں نے مسلمانوں کی ترقی کیلئے کوئی تعمیری کام نہیں کیا بلکہ صرف نعروں اور جذباتی بیانات سے صرف اپنی طاقت منوائی بلکہ غریب کو مزید غریب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ جناب عزیز پاشاہ نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کیلئے منظم انداز سے تعمیری کام نہیں کیا گیا لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو متحدہ کوشش کرنی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی حالت زار کا سرکاری کمیٹیوں نے خود اظہار کیا اور مسلمانوں کی ابتر حالت کو کھول کھول کر بیان کیا۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت 12 فیصد تحفظات کے نام پر مسلمانوں کو بیوقوف بنارہی ہے۔ انہوں نے بنگال کی مثال دی اور بتایا کہ مغربی بنگال میں بائیں بازو کی حکومت نے مسلمانوں کو 10 فیصد تحفظات دیئے تھے اور اس کے بعد ممتابنرجی کی حکومت نے 7 فیصد کا اضافہ کیا۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کو 17 فیصد تحفظات حاصل ہیں جو ریاست کی کل مسلم آبادی کا 85 فیصد حصہ اس سے مستفید ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 15 سالوں میں مسلمانوں کی شرح ترقی 1.7 فیصد رہی جبکہ 19 فیصد ترقی آدیواسیوں اور 26.5 فیصد ترقی پچھڑے طبقات میں ریکارڈ کی گئی۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کو چیرمین مسٹر پرشوتم نے کہا کہ ملک کی 60 سالہ تاریخ میں ریاست میں پہلی بار مسلمانوں نے اپنی شناخت والی کوئی کمیٹی تیار کی ہے۔ انہوں نے سمیتی کو مبارکباد پیش کی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی بھرپور تائید کا اعلان کیا اور بتایا کہ ملک میں 1980ء سے ایسی کوئی تنظیم نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے اور خوش فہمی کا شکار ہونے سے چوکس رہنا چاہئے چونکہ مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے جو اقدامات ہونے چاہئے تھے وہ تاحال نہیں ہوئے۔ آج بھی مسلمانوں کی 85 فیصدشہری آبادی کرایہ کے مکانوں میں زندگی بسر کرتی ہے۔ مسلمانوں کو الجھا کر انہیں خوفزدہ کرتے ہوئے ان کی ترقی کو موہوم کردیا گیا اور مسائل سے توجہ ہٹانے اور پسماندگی کا مزید شکار بنانے کیلئے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد بالخصوص تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کی پورے ملک میں مثال نہیں ملتی اور مسلمانوں کا اس تہذیب میں بہت بڑا رول رہا ہے۔ تاہم ترقی میں مسلمانوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ صدر سمیتی محمد فیاض نے کہا کہ اس تنظیم کا قیام مسلمانوں کو انصاف اور ان کا حق دلانے کیلئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام کے پیغام کو لیکر مسلمانوں کے ساتھ دیگر مظلوموں کی مدد کیلئے بھی جمہوری طاقتوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کی جائے گی۔ علماء، مشائخ، مسلم مذہبی اور سیاسی قائدین کے علاوہ تلنگانہ کے ہر مسلم گھر میں تنظیم کو پہنچایا جائے گا۔ اس موقع پر آواز کمیٹی کے صدر عباس، عام آدمی پارٹی کے کنوینر مسٹر سدھاکرن، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائد سلیم پاشاہ، ناگرکرنول سے محمد مقبول، آندھراپردیش مسلم ہکولہ پوراٹا سمیتی کے قائد محمد باشاہ، سی پی آئی قائد جانی میاں، نثاراحمد، جاوید، عبدالغفار و امجد علی بھونگیر دیگر شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT