Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کو اپنے ووٹ متحدہ طور پر استعمال کرنے کا مشورہ

مسلمانوں کو اپنے ووٹ متحدہ طور پر استعمال کرنے کا مشورہ

ورنگل ۔7مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ملک و ریاست گیر انتخابی موسم شروع ہوچکا ہے۔ تیزی سے بدلتے سیاستی حالات میں مسلمان اپنے حقوق کا تحفظ اور ترقی کے لئے جدو جہد کرنا ناگزیر ہے۔ اسکے علاوہ ملک کو فرقہ پرست طاقتوں سے دور رکھنا اور جمہوریت کی حفاظت کرنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ محمد حبیب خاں سابقہ ضلع پریشد کو آپشن ممبر نے صوبیداری ہنمکنڈہ میں مسلم نوجوانوں کے اجلاس بعنوان ” انتخابات اور ہماری ذمہ داری ” میں اپنے خطاب میں کہا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی و پارلیمنانی انتخابا ت میں مسلمان اپنے ووٹ کو متحدہ طور پر استعمال کرنے لائحہ عمل بنائیں۔ نئی ریاست تلنگانہ میں مسلمان کے متحدہ ووٹ کا ذمہ دارانہ موقف حاصل ہے۔ مسلمان خود اپنے مسائل وحقوق کی آواز ریاستی اسمبلی میں سنانے کے لئے مسلمانوں کا اسمبلی میں موجود ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ کے استعمال کی اہمیت اور اسکی افادیت کی شعور بیداری لازمی ہے۔

عنقریب انعقاد ہونے والے انتخابات میں مسلمان اپنی متحدہ حکمت عملی سے کام کریں۔کوئی بھی ساستی جماعت مسلم امیداوروں کو زیادہ تعداد میںانتخابات میں ٹکٹ دیگی اسی سیاسی پارٹی کی حمایت میں مسلمان متحدہ ووٹ استعمال کریں ۔انہوںنے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کو صر ف وعدے اور تسلیا ں ہی ملے ہیں۔ کیوں اس ملک کی تعداد کا دوسر بڑا طبقہ مسلمان آج سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سرکاری روزگاری سے محروم ہے۔ اس مخصوص طبقہ کے ساتھ تعصبیت کیوں برتی جارہی ہے اس طبقہ کو ترقی کے مواقع فراہم کیوں نہیں کی جارہی ہے؟؟ اس طبقہ کی مادری زبان کو کیوں مٹایا جارہا ہے۔ ملگ گیر مسلمان طبقہ کو حراساں و پریشان کیا جارہا ہے۔اس ملک کے غیر محتاج طبقوں کو تحفظات فراہم ہیں ، لیکن حقیقی محتاج مسلمان اس ملک کے مسلمان ہیں ، جنکے پاس رنگانتھ اور سچر کمیٹی کے پسماندہ ہونے کے صداقت نامے موجود ہے۔ پھر بھی انہیں تحفظات فراہم نہیں کیا جاتا؟؟ یہ سب اس لئے کہ ہم ایک ہوکر متحدہ طاقت کا مظاہر نہیں کرتے! ہم کو سازشوں کے زریعہ آپس میں بانٹ کر رکھدیا گیا ہے، اور کئی ایک معمالات میں ہم خد بھی بٹے ہوئے ہیں جو آنے والی نسلوں کے حوصلوں کو پست کرنے کی دلیل سابت ہوگی۔

اس موقع پر حبیب خان نے تمام ذمہ داروں اور دانشوران کو یہ شعور بیداری کی اپیل کی کہ ہم صر ف ووٹ ڈالنے کے حد تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ ہماری آوازوں کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں تک سنانے کے ہم خودحکمت عملی سے راہیں فراہم کرسکتے ہیں۔ریاستی سیاسی پارٹیاں چاہے ہو کانگریس،ٹی آر ایس۔ تلگو دیشم ، سی پی آئی ہو یا بی جے پی کیوں نہ ہو۔ جو بھی سیاسی جماعت مسلمان امیداروں کو ریاست بھر میں زیادہ تعداد میں ٹکٹ دیگی مسلمان ووٹ اسی سیاسی پارٹی کے حق میں استعمال کرینگے۔اس موقع پر محمد حبیب الدین موظف لیبر آفیسر، محمد معین الدین، محمد اکبر حسین ممبر اسلامیہ ایجوکیشنل سوسائیٹی ، محمد احمد علی نائب صدر سعدیہ ویلفیر سوسائیٹی ، محمد عبدالنعیم معتمد الفیضان ایجوکیشنل سوسائیٹی،سید حاجی، محمد منصور شریف،محمد آعظم، خواجہ عمیم کے علاوہ قاضی پیٹ ،صوبیداری، رائے پورہ ، مٹھواڑہ ، ایل بی نگر،منڈی بازار کے نوجوان کثیر تعداد میں شریک تھے۔

TOPPOPULARRECENT