Monday , December 11 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کو بدنام کرنے ٹی وی مباحث میں جاہلوں کو دعوت

مسلمانوں کو بدنام کرنے ٹی وی مباحث میں جاہلوں کو دعوت

 

محمد ریاض احمد
ہندوستان میں میڈیا کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ میڈیا خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا یعنی ٹی وی چیانلوں میں تعصب و جانبداری اور حکومت کی چاپلوسی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے اکثر ٹی وی چیانلس مودی حکومت کے صحیح، غلط ہر اقدام کی تائید و حمایت کرنے لگے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان چیانلوں نے خود کو حکومت اور سیاستدانوں کی صنعت کاروں کے ہاتھوں ایسے ہی فروخت کردیا ہے جس طرح ایک مجبور و بے بس لڑکی یا خاتون جسم فروشی پر مجبور کردی جاتی ہے۔ ویسے بھی ہندوستان میں ایسی ہزاروں و لاکھوں مجبور و بے بس لڑکیاں و خواتین ہیں جن کا بڑے پیمانے پر جنسی استحصال ہو رہا ہے۔ دارالحکومت دہلی سے لے کر ممبئی اور ملک کی دوسری ریاستوں میں چلائے جارہے جسم فروشی کے اڈوں پر ان کے جسموں کو بولہوس درندے نوچ رہے ہیں اور اس دھندے سے حاصل ہونے والی آمدنی پر دلال پر تعیش زندگی گذاررہے ہیں۔ پریس کونسل آف انڈیا کے سابق صدرنشین جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے پریس Press کے بارے میں طنز کرتے ہوئے ایک نئی اصطلاح کا استعمال کیا تھا جو ہندوستان میں میڈیا کی موجودہ حالت و موقف کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے پریس کو Presstitute کا نام دیا تھا۔ اس طرح انہوں نے یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ ایک مجبور و بے بس لڑکی اور خاتون اپنا جسم فروخت کرکے دوسروں کی جنسی ہوس مٹاتی ہے اسی طرح میڈیا کا ایک مخصوص گوشہ اپنی خبریں رپورٹس اور سب سے بڑھ کر ضمیر فروخت کرتے ہوئے سیاستدانوں، صنعت کاروں، بدعنوان حکام اور مجرمین کے جرائم و گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب تو ملک کے ٹی وی چینلس (چند ایک کو چھوڑکر) مودی حکومت، سنگھ پریوار اور اس کے ایجنڈے کی تکمیل میں بھرپور مدد کررہے ہیں۔ میڈیا میں یہ غیر صحتمندانہ اور صحافتی اقدار و اخلاقیات کے مخالف رجحان نے 2014ء کے بعد اس وقت زور پکڑا جب مودی کی زیر قیادت بی جے پی اقتدار پر فائز ہوئی۔ اب تو بے شمار ٹی وی چینلس مودی کے قریبی اور بااعتماد سمجھے جانے والے بی جے پی کے ہمدرد صنعت کاروں کی ملکیت ہیں جو بڑی وفاداری سے مودی حکومت اور سنگھ پریوار کی غلامی کا فرض انجام دے رہے ہیں۔

انہیں ڈر ہے کہ حکومت اور سنگھ پریوار کی خراب کارکردگی اور برائیوں کو بے نقاب کریں گے تو انہیں ملنے والے فنڈز اور مراعات نہیں مل پائیں گے۔ ہر ٹی وی چیانل ٹی آر پی اور مودی جی اور امیت شاہ کو خوش کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ بکاؤ ٹی وی چیانلس ہندوستانیوں میں ذات پات،۔ رنگ و نسل کی بنیاد پر اختلافات پیدا کرتے ہوئے ان میں انگریزوں کی طرح پھوٹ ڈال کر ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ ان ٹی وی چیانلوں کے ذریعہ خاص طور پر مسلمانوں ان کے مذہب و شریعت کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر آج تک، ٹائمز ناؤ، انڈیا ٹوڈے، سی این این، نیوز 18، ذی نیوز، سی این بی سی اور اسٹار پلس جیسے چیانلوں پر پیش کئے جانے والے پروگرامس اور مباحثوں کو دیکھ کر آپ اچھی طرح اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کس طرح ٹی آر پی بڑھانے کی خاطر اینکرس دن تمام بھونکتے رہتے ہیں ان کی زبانوں سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ حکومت کی تعریف میں یا پھر اس کی پالیسیوں کی مدافعت میں ہوتے ہیں۔ نوٹ بندی کے بعد بینکوں اور اے ٹی ایمس کے باہر قطاروں میں ٹھہرکر ضعیف لوگ مر رہے تھے بیہوش ہو کر گر رہے تھے –

ان مناظر اور واقعات کو پیش کرنے کی بجائے زرخرید غلام ٹی وی چیانلس نوٹ بندی کو مودی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ قرار دے رہے تھے۔ ملک میں کسان خودکشی کررہے تھے۔ ٹی وی چیانلوں پر طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر فرضی مباحثہ کے ذریعہ ہندوستانی عوام میں مسلمانوں کی شبیہ متاثر کی جارہی تھی۔ ہندوستانیوں کو یہ بتانے کی کوششیں ہو رہی تھیں کہ اسلام میں عورتوں کی کوئی اہمیت نہیں حالانکہ ان بدبختوں کو پتہ نہیں کہ دنیا میں عورتوں کو انصاف دلانے انہیں وراثت میں حق دلانے اور سب سے بڑھ کر ظلم و بربریت اور عیاشی کا سامان بننے سے بچانے والا دین اسلام ہی تھا۔ اسلام نے ہی دنیا کو یہ پیام دیا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ اسلام ہی نے دنیا کو بیٹی سے محبت، بیوی سے پیار اور وفاداری کا درس دیا۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پاک کا مفہوم کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق بہتر ہو اور جو اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ گورکھپور کے سرکاری اسپتال میں نومولود اور شیرخوار بچے اکسیجن کے سلنڈرس نہ ہونے کے باعث دم توڑ رہے تھے اس سانحہ پر توجہ دینے کی بجائے ٹی وی چیانلوں پر مسلمانوں اور ان کی شریعت کو نشانہ بنایا جارہا تھا، طلاق ثلاثہ پر مباحث ہو رہے تھے۔ جی ایس ٹی پر آج ہندوستان میں تاجرین اور صارفین رو رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں، اسکولوں میں بچوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔ کمسن بچیوں کی عصمتیں لوٹی جارہی ہیں۔ ان اہم ترین واقعات کو منظر عام پر لانے، حکومت کی کوتاہیوں پر روشنی ڈال کر حکمرانوں کی سرزنش کرنے کی بجائے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھایا جارہا ہے۔ آج کل ٹی وی چیانلوں کے لئے ٹی آر پی حاصل کرنے کا موثر ذریعہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی بن گیا ہے۔ انہیں اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی حکومت میں مسلمانوں کے خلاف جتنا بولیں گے ان کی ٹی آر پی اور بینک بیالنس میں اُتناہی اضافہ ہوگا۔ اس قسم کے ٹی وی چیانلس جان بوجھ کر طارق فتح جیسے نام نہاد مسلمانوں اور سبرامنین سوامی اور اس کے قبیل کے عناصر کو استعمال کرتے ہیں اور مباحثوں میں نیم حکیم خطرہ جان کے مصداق نامکمل دینی و دنیوی معلومات رکھنے والے شہرت کے بھوکے و پیاسے مولوی نما مسلمانوں کو مدعو کرتے ہوئے ان کے بھولے پن اور بے وقوفی سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی گمراہ اور نام کے مسلم مرد و خواتین کو دعوت دے کر انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ تو روشن خیال آزاد سوچ و فکر رکھنے والے دانشور ہیں۔

علم کے غرور و تکبر میں مبتلا یہ مردو خواتین بھی ٹی وی چیانلوں اور ان کے میزبانوں کی چالاکی مکاری اور دھوکہ دہی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ وہ خود کو دانشور اور علمی شخصیت ظاہر کرنے کی چکر میں قرآنی تعلیمات پر بھی سوال اٹھا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ عرصہ قبل ذی نیوز نے ’’فتح کا فتویٰ‘‘ نام سے ایک ٹی وی سیریز شروع کی تھی جس میں پاکستانی نژاد شیطان صفت طارق فتح کو میزبان کے طور پر پیش کیا گیا -اس ٹی وی سیریز میں طارق فتح بہت ہی مکاری کے ساتھ مسلم مدعوین کا مضحکہ اڑاتا رہا باتوں ہی باتوں میں اسلام اور خواتین کی ہمدردی کا ڈرامہ رچتے ہوئے وہ اسلام اور اسلامی شخصیتوں کی تضحیک کرتا رہا یہاں تک کہ ان مباحثوں میں شریک بیچارے جاہل و نام نہاد مولویوں نے جو دینی و دنیوی علم سے واقف ہی نہیں تھے ایسے عجیب و غریب باتیں کی اور بات بات پر جذبات سے بے قابو ہوگئے کہ دیکھنے والوں پر اس کا اچھا اثر نہیں ہوا۔ شائد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ناظرین پر جن کی اکثریت غیر مسلم برادران وطن کی ہوتی ہے غلط تاثر گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا خود کو بہت بڑا عالم فاضل اور دانشور سمجھ کر ٹی وی چیانلوں کے مباحث میں شریک ہونے لگا ہے۔ ایسا ہی ایک پروگرام زی نیوز نے فتح کا فتویٰ کے نام سے پیش کیا۔ اس کا میزبان طارق فتح اپنی شراب نوشی عیاشی اور آزاد خیالی کے باعث بدنام ہے۔ اسے تو دور زی ٹی وی کے دوسرے اینکروں اور ماہرین کو بھی فتویٰ کے حقیقی معنی و مطلب تک معلوم نہیں۔ طارق فتح کی اسلام بے زاری کا حال یہ ہے کہ ہندوستانی سپریم کورٹ نے جب طلاق ثلاثہ پر فیصلہ جاری کیا تب اُس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے وسیع تر بنچ کے فیصلہ پر اس قدر خوشی ہوئی کہ خوشی کے مارے رات بھر سو نہیں سکا۔ فتح کے فتویٰ سیریز مین عارف محمد خاں، ذکیہ سمن، نائش حسن شبنم خاں، امینہ شیروانی، شاذیہ علمی، شیبا اسلم فہمی، ڈاکٹر شیرین منصور شبنم صدیقی، لبنی شروت، رحمن عباس، کیپٹن سکندر رضوی، ذینت شوکت علی، ایچ عبدالرقیب، محمد حنیف خان شاستری، مولانا انصار رضا، غبرزیدی، گل ریز شیخ، مولانا محمد حمید کوثر، مولانا ساجد رشیدی جیسی شخصیتوں کو مدعو کیا گیا۔

ان شخصیتوں کی صلاحیتوں کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ پروگرامس میں دہشت گردی، اسلام میں حجاب، کافر، ہندوستان میں طلاق ثلاثہ، علماء اور ان کا دباؤ، مسلم خواتین، مسلم ووٹ بینک، برقعہ، حج سبسیڈی، اسلام میں ذات پات کے نظام نکاح حلالہ، اسلام میں گودلینا، متعہ اسلامی بینکنگ اور فینانس کے علاوہ جہاد جیسے موضوعات پر مباحث کئے گئے۔ زی نیوز والوں نے مباحثوں کے لئے جن شخصیتوں کو مدعو کیا ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا جائے تو میں اپنے علمی و دانشوری کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث ان میں اکثر نے اسلام اور مسلمانوں کو شرمندہ کیا۔ مباحث کے دوران بعض مرتبہ تو نام نہاد علماء نے لڑائی جھگڑا بھی کیا اور غیر پارلیمانی الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ ان تمام حرکتوں پر طارق فتح اس شیطان کی طرح ہنستا رہا جو پر امن محفل میں انتشار پھیلا کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے خوشی سے قہقہ لگاتا ہے۔ ہم نے صرف ایک مثال پیش کی ویسے ٹی وی چیانلوں پر اکثر کم علم اور مکمل اسلامی معلومات سے نابلد افراد کو مدعو کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ دراصل اسلام اور مسلمانوں کے مضحکہ اڑائے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ ایسا سنگین مسئلہ ہے جس پر مسلم نمائندہ تنظیموں بالخصوص مسلم پرسنل لا بورڈ کو آگے آنا چاہئے اور خاص طور پر شرعی امور سے متعلق مباحث میں جید علماء و مفتیان کو روانہ کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اس مسئلہ پر اچھی بات کہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج کل ٹی وی چیانلوں پر مباحث کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی تکلیف دہ اور باعث تشویش ہے۔ یہ ٹی وی چیانلس مسلم مسائل پر مباحث کرتے ہوئے دراصل اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے، یہ چیانلس جان بوجھ کر کم علم یا ادھورا علم رکھنے والوں کو مدعو کرتے ہیں۔ ان کی مسلم دشمنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نکاح، طلاق ثلاثہ، حلالہ، نان و نفقہ تعدد ازدواج طلاق و خلع جیسے اہم شرعی مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور اسٹوڈیو میں ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ ٹکر کا مباحثہ نہیں کر پاتے اور لاجواب ہوکر واپس ہو جاتے ہیں تاہم وہ یہ سوچ کر مطمئن اور خوش ہو جاتے ہیں کہ ایک خصوصی چیانل پر انہیں مباحث کے لے مدعو کیا گیا حالانکہ انہیں جان لینا چاہئے کہ یہ چینلز بیوقوفوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جن کے ذریعہ اسلام اور مسلمانوں پر انگلیاں اٹھاسکیں۔ بدنام اینکرس اور ٹی وی چیانلوں میں ارنب گوسوامی، سرفہرست ہے۔ اس نے حال ہی میں ری پبلک ٹی وی چیانل شروع کیا ہے جس میں بھونکنے کے سواء کچھ نہیں۔ کاش مسلمان منصوبہ بند انداز میں ان چیانلوں کے مقابلہ کے لئے ایک اپنا چیانل شروع کرتے تو کتنا بہتر ہوتا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT