Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو تحفظات فراہمی کیلئے کمیشن آف انکوائری میں مزید ارکان کی نامزدگی

مسلمانوں کو تحفظات فراہمی کیلئے کمیشن آف انکوائری میں مزید ارکان کی نامزدگی

سکریٹری کے مماثل عہدے ، اسٹاف کے تقررات پر بھی ہری جھنڈی ، محکمہ اقلیتی بہبود کے احکامات
حیدرآباد۔/31جولائی، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کیلئے ان کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لینے قائم کئے گئے کمیشن آف انکوائری میں حکومت نے دو نئے ارکان کا تقرر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے احکامات جاری کئے۔ حکومت نے ڈاکٹر عامر اللہ خان ڈیولپمنٹ اکنامسٹ اور وزیٹنگ فیکلٹی انڈین اسکول آف بزنس اور پروفیسر عبدالشعبان پروفیسر و فیکلٹی ڈائرکٹر ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشیل سائنسیس ممبئی کو کمیشن کے ارکان نامزد کیا ہے۔ ڈاکٹر عامر اللہ خان کا تعلق نوئیڈا ( اتر پردیش ) سے ہے جبکہ ڈاکٹر عبدالشعبان عثمان آباد ( مہاراشٹرا ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکومت نے 3مارچ کو ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی صدارت میں کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا تھا جس میں ریٹائرڈ لکچرر ایم اے باری کو رکن مقرر کیا گیا۔ کمیشن میں مزید ایک رکن کی نامزدگی کی گنجائش رکھی گئی تھی تاہم چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کمیشن کی بہتر کارکردگی اور اسے مستحکم کرنے کیلئے دو ماہرین کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی او کے مطابق یہ دونوں ارکان حکومت کے سکریٹری کے مماثل رتبہ اور الاؤنسیس کے حقدار رہیں گے۔ اسی طرح حکومت نے کمیشن آف انکوائری کیلئے زائد اسٹاف کا الاٹمنٹ کیا ہے۔ کمیشن میں سکریٹری، 2سپرٹنڈنٹس اور ایک اکاؤنٹس آفیسر کا عہدہ قائم کیا جائے گا اور اس پر ڈپوٹیشن کی بنیاد پر تقررات کئے جائیں گے۔ کمیشن کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ پرسونل اسسٹنٹس (3)، اسٹینو (6)، اٹینڈرس (4) اور ایک واچ مین کے عہدوں پرآؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر تقررات کریں۔ حکومت نے کمیشن آف انکوائری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اندرون چھ ماہ اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کریں۔ مارچ میں کمیشن کے قیام کے بعد سے اسٹاف کی کمی اور دفتر کی عدم موجودگی کے سبب کمیشن نے اپنی کارکردگی کا آغاز نہیں کیا تھا۔ کمیشن کے قیام کے 4ماہ بعد حکومت نے مزید 2ارکان کو نامزد کیا ہے ۔ اس کے علاوہ کمیشن کیلئے ضروری اسٹاف کی منظوری دی گئی۔ اس طرح اب کمیشن اپنی کارکردگی کے آغاز کے موقف میں آچکا ہے۔حکومت کمیشن آف انکوائری رپورٹ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے مسلمانوں کیلئے 12فیصد تحفظات کی سفارش حاصل کرنا چاہتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT