Thursday , December 13 2018

مسلمانوں کو تحفظات پر سپریم کورٹ فیصلہ کے بعد ہی عمل آوری

مرکزی وزیراقلیتی بہبود محترمہ نجمہ ہپت اللہ کا محمد علی شبیرڈپٹی لیڈرتلنگانہ قانون ساز کونسل کو مکتوب

مرکزی وزیراقلیتی بہبود محترمہ نجمہ ہپت اللہ کا محمد علی شبیرڈپٹی لیڈرتلنگانہ قانون ساز کونسل کو مکتوب
حیدرآباد۔/16اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی وزیر اقلیتی اُمور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کی یکسوئی کے بعد ہی مرکزی حکومت اس پر عمل آوری کا جائزہ لے گی۔ ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کے اس موقف کا اظہار کیا۔ قومی سطح پر تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی نمائندگی پر مشتمل محمد علی شبیر کے مکتوب کے جواب میں نجمہ ہپت اللہ نے آندھرا پردیش میں مسلم تحفظات پالیسی پر کامیاب عمل آوری پر مسرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ 2004 سے آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں اور اس کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسلم تحفظات کے سبب 2000 غریب مسلمانوں کے ایم بی بی ایس میں داخلے اور انجینئرنگ میں 9023 نشستوں کی دستیابی پر خوشنودی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک قومی سطح پر تحفظات کی فراہمی کا سوال ہے یہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے اور سپریم کورٹ اس کی سماعت کررہا ہے۔ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت اس کا جائزہ لے گی۔ محمد علی شبیر نے ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کو جوابی مکتوب روانہ کرتے ہوئے آندھرا پردیش میں تحفظات کی پالیسی پر عمل آوری کی ستائش کرنے پر اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر اقلیتی بہبود سے درخواست کی کہ اٹارنی جنرل آف انڈیا کو ہدایت دی جائے کہ وہ2013ء میں مرکز کی جانب سے اقلیتوں کو فراہم کردہ 4.5فیصد تحفظات سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کی موثر انداز میں پیروی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمہ کی عاجلانہ یکسوئی کی صورت میں جاریہ تعلیمی سال معاشی طور پر کمزور اقلیتی طلبہ کو داخلوں کی فراہمی میں سہولت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تحفظات کی پالیسی کے سبب ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو تعلیمی، سماجی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں مناسب نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی سے لاکھوں مسلمانوں کو تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں میں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایاکہ 2004ء میں جو تحفظات فراہم کئے گئے وہ مذہب کی بنیاد پر نہیں تھے بلکہ بی سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر مسلمانوں کے 14 پسماندہ گروپس کو تحفظات فراہم کئے گئے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت اقلیتوں کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے تحفظات کی پالیسی پر عمل آوری کے اقدامات کرے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT