Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو تحفظات کیلئے اواخر جاریہ ماہ حکومت کو سفارش

مسلمانوں کو تحفظات کیلئے اواخر جاریہ ماہ حکومت کو سفارش

ٹاملناڈو طرز پر مرکزی حکومت سے مسئلہ رجوع کرنے پر غور ، صدر نشین بی سی کمیشن بی ایس راملو
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) صدر نشین بی سی کمیشن بی ایس راملو نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے مسئلہ پر جاریہ ماہ کے اواخر تک حکومت کو سفارشات پیش کردی جائیں گی اور حکومت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے کس طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اضافی تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی حکومت سے مسئلہ کو رجوع کیا جاسکتا ہے تاکہ ٹاملناڈو کی طرز پر دستور کے 9ویں شیڈول میں تحفظات کو شامل کرتے ہوئے عمل آوری کی راہ ہموار کی جائے۔ بی ایس راملو نے گذشتہ تین دن سے جاری عوامی سماعت کو حوصلہ افزاء قرار دیا اور کہا کہ 90 فیصد نمائندگیاں تحفظات کے حق میں داخل ہوئی ہیں جبکہ 10فیصد نے یا تو مخالفت کی یا بی سی طبقات کے تحفظات کو متاثر کئے بغیر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ صدر نشین نے بتایا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے مسلم تحفظات کو کسی رکاوٹ کے بغیر برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور پارلیمنٹ کی منظوری کے ذریعہ تحفظات کو جاری رکھنے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تعلیم اور روزگار میں پسماندگی کے سبب مسلمان تحفظات کے مستحق ہیں۔ بی ایس راملو نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے انتہائی تفصیل کے ساتھ مسلمانوں کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا اور حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں تحفظات کے مسئلہ پر پیش کردہ اب تک کی 5 کمیشنوں کی رپورٹ میں بھی مسلمانوں کی پسماندگی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ سدھیر کمیشن نے نہ صرف مختلف اضلاع کا دورہ کیا بلکہ علحدہ سیمپل سروے کے ذریعہ مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا۔ مختلف سرکاری محکمہ جات سے مسلمانوں کی نمائندگی کے بارے میں تفصیلات جمع کی گئیں۔ بی سی کمیشن نے سدھیر کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر عوامی سماعت کے بعد حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرنشین کمیشن نے بتایا کہ جس طرح سدھیر کمیشن نے تحفظات کو زیادہ سے زیادہ 12 اور کم سے کم 9 فیصد فراہم کرنے کی سفارش کی ہے اسی تناظر میں بی سی کمیشن کی سفارشات ہوں گی۔ راملو کے مطابق 18اور 19 ڈسمبر کو ارکان پارلیمنٹ، اسمبلی، کونسل اور ضلع پریشد کے صدور نشین کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر رائے حاصل کی جائے گی۔20 ڈسمبر تک مختلف گوشوں سے نمائندگیوں کی وصولی کے بعد جاریہ ماہ کے اختتام تک حکومت کو رپورٹ پیش کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 81 فیصد مسلمان تعلیم اور روزگار میں پسماندہ ہیں اور وہ چھوٹے کاروبار پر منحصر ہیں۔ بی سی کمیشن کی سفارشات تعلیم اور روزگار میں مناسب نمائندگی کیلئے ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں52  فیصد پسماندہ طبقات ہیں۔ انہوں نے آبادی کے تناسب سے تحفظات کی مانگ کی ہے۔ راملو کے مطابق ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے مجموعی تحفظات 86.5 فیصد تک جاسکتے ہیں کیونکہ چیف منسٹر نے بھی کہا ہے کہ پسماندہ طبقات کی مجموعی آبادی 86 فیصد ہے اور انہیں مناسب انصاف ملنا چاہیئے۔ راملو کے مطابق ٹاملناڈو کی طرز پر 9 ویں شیڈول میں تحفظات کی شمولیت ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ عمل آوری ممکن ہے۔ تلنگانہ حکومت بی سی کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہوئے مرکز سے رجوع کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں صدرنشین نے واضح کیا کہ کمیشن مسلمانوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اضلاع کا دورہ نہیں کرے گا کیونکہ سدھیر کمیشن کی سفارشات ہی اس کے لئے کافی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT