Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / مسلمانوں کو تحفظات کی حد میں اضافہ کی تجویز ’ لالی پاپ ‘

مسلمانوں کو تحفظات کی حد میں اضافہ کی تجویز ’ لالی پاپ ‘

Mumbai: Minority Affairs Minister Mukhtar Abbas Naqvi at a meeting of Haj Committee of India at Haj House in Mumbai on Friday. PTI Photo by Shashank Parade (PTI4_14_2017_000190A)

محض ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ۔ سماجی ‘ معاشی و تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کی وکالت ‘ مختار عباس نقوی

حیدرآباد 26 نومبر ( پی ٹی آئی ) مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے حکومت تلنگانہ کی جانب سے مسلمانوں میں پسماندہ طبقات کو تحفظات کی حد میں اضافہ کی تجویز کو ’’ لالی پاپ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تحفظات دستور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دئے جانے چاہئیں۔ تلنگانہ اسمبلی میں ایک بل جاریہ سال اپریل میں منظور کیا گیا تھا جس کے تحت درج فہرست ذاتوں اور مسلمانوں میں پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات کی حد میں اضافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ حکومت سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ان طبقات کو تحفظات میں اضافہ کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی کے سوا تمام دوسری جماعتوں نے تلنگانہ پسماندہ طبقات ‘ درج فہرست ذاتوں ‘ درج فہرست قبائل ( تعلیمی اداروں اور ریاست کے تحت سرکاری ملازمتوں میں تحفظات ) کے بل 2017 کی تائید کی تھی ۔ نقوی نے یہاں پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تحفظات کی جہاں تک بات ہے کہ آپ کو دستور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دینے چاہئیں۔ اگر دستور اس کی اجازت نہیں دیتا ہے تو پھر یہ ایک طرح کا لالی پاپ ہے جو ووٹوں کیلئے دیا جا رہا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کوئی مدد نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستور میں بہت واضح ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ تحفظات ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ لالی پاپ دینے کی کوشش کر رہے ہیں تو پھر عدالتیں اس کو روک دیں گی ۔ وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ اگر عدالتیں اس کو روک دینگی تو آپ یہی کہیں گے کہ ہم تو دینا چاہتے تھے لیکن اب ہم کیا کریں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک بے سود کوشش کے ذریعہ مسئلہ پیدا کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب مسلمان بھی سمجھنے لگے ہیں کہ اس طرح کی سیاسی شعبدہ بازی کے ذریعہ کبھی یہ تلنگانہ کی جانب سے ہو یا کسی اور ریاست کی جانب سے ہو یا کسی سکیولر گروپ کی جانب سے یہ لوگ صرف ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ لوگ کیوں نہیں مسلمانوں کی سماجی اور معاشی و تعلیمی بہتری اور انہیں با اختیار بنانے کیلئے کام نہیں کرتے ۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرتے ہوئے آپ کو ان کے ووٹ نہیں ملیں گے ؟ ۔ تلنگانہ حکومت نے جو بل منظور کیا ہے اس کے تحت درج فہرست قبائل کیلئے کوٹہ موجودہ 6 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ہوجائیگا ۔ جبکہ دیگر بی سی ای زمرہ کیلئے موجودہ 4 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوجائیگا ۔ اس اضافہ کے بعد ریاست میں جملہ تحفظات کوٹہ کی حد بڑھ کر 62 فیصد ہوجائیگی جبکہ موجودہ کوٹہ 50 فیصد تک ہے اور اسی کی سپریم کورٹ نے بھی اجازت دے رکھی ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاستی اسمبلی میں کہا تھا کہ برسر اقتدار تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی جانب سے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کیلئے تحفظات کی حد میں اضافہ کے مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھائے گی اور اگر اس پر ضرورت پڑ جائے تو سپریم کورٹ سے بھی رجوع ہوا جاسکتا ہے ۔

 

اسلامی بینکنگ متعارف کروانے کا ارادہ نہیں ‘ نقوی
حیدرآباد 26 نومبر ( پی ٹی آئی ) ہندوستان میں عوام کی معاشی ضروریات کی تکمیل کیلئے مختلف بینکوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے ایسے میں حکومت کا اسلامک بینکنگ نظام رائج کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے یہ بات بتائی ۔ اسلامک یا شرعی بینکنگ ایسا نظام ہے جس میں کوئی شرح سود عائد نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں حکومت اسلامک بینکنگ کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ ہندوستان ایک سکیولر اور جمہوری ملک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی سرکاری اور شیڈولڈ بینکس موجود ہیں اور موجودہ بینکنگ نظام سب کیلئے ہے ‘ ایسے میں حکومت اسلامی بینکنگ نظام رائج کرنے پر غور نہیں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ گوشوں سے اس کی اپیل ہوئی تھی لیکن ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT