Monday , June 25 2018
Home / اداریہ / مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند

مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند

پوچھ لیجئے خزاں کے پھولوں سے کیا ہے اَبرِ بہار کی قیمت مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند

پوچھ لیجئے خزاں کے پھولوں سے
کیا ہے اَبرِ بہار کی قیمت
مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند
مرکزی حکومت اب آئے دن مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند دینے کی ضرورت محسوس کرنے لگی ہے ۔ ماضی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کئی مرتبہ کہا کہ ہندوستان کے مسلمان حب الوطن ہیں اور انہوں نے داعش جیسی تنظیم کی جانب سے ورغلانے کے باوجود اس کا اثر قبول نہیں کیا ہے کیونکہ دہشت گردی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ماضی میں بھی راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر داعش کی جانب سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند دینے کی کوشش کی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک اچھی مثال ہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی حب الوطنی کسی کی سرند یا سرٹیفیکٹ کی محتاج یا تابع نہیں ہے ۔ اس ملک کو مسلمانوں نے اپنے خون سے سینچا ہے ۔ اس ملک کو دنیا بھر میں سونے کی چڑیا بنانے کا کارنامہ مسلمانوں نے ہی انجام دیا ہے ۔ اس ملک کو لال قلعہ کی تاریخی عمارت مسلمانوں نے دی ہے ۔ دنیا کے سات عجائبات میں شامل تاج محل کی تعمیر مسلمانوں کے دور حکومت کی نشانی ہے ۔ آج اکھنڈ بھارت کا نعرہ دینے والے یہ بھی بھول گئے ہیں کہ سب سے پہلے یہ نعرہ عملی طور پر اورنگ ذیب عالمگیر نے دیا تھا جب انہوں نے ہندوستان کی فتوحات کے پرچم لہراتے ہوئے ان علاقوں کو بھی ہندوستان میں شامل کرلیا تھا جو آج ہندوستان میں نہیں ہیں۔ حیدرآباد کا تاریخی چار مینار ہو یا فتح پور سیکری کا قلعہ ہو یہ سب کارنامے مسلمانوں اور ان کے حکمرانوں کی دین ہیں۔ شہرہ آفاق ہیرا کوہ نور ایک مسلم ریاست کی ملکیت تھا جو پنجاب کے راجا مان سنگھ سے ہوتا ہوا ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بنا ۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ ہندوستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا دیگر ابنائے وطن کا ہے ۔ مسلمانوں نے نہ صرف یہ کہ تاریخی کارنامے انجام دئے ہیں بلکہ اس ملک کی سرحدات کی حفاظت کیلئے خون بہانے میں بھی مسلمانوں نے دیگر ابنائے وطن کے برابر اپنا حصہ ادا کیا ہے ۔ جنگ آزادی میں مسلمانوں نے خود کو پیچھے نہیں رکھا بلکہ دوسروں کے شانہ بہ شانہ اپنے وطن عزیز کو انگریزی تسلط سے آزادی دلانے میں کارہائے نمایاں انجام دئے ۔
مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال کرنے والے یا آج انہیں سند دینے والے زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں بتا سکتے جس میں مسلمانوں نے کارنامے انجام نہ دئے ہوں ۔ جنگ آزادی میں انقلابی شاعری کے ذریعہ جوش و جذبہ پیدا کرنے والے مسلمان ہی تھے ۔ ہندوستان کا قومی ترانہ ڈاکٹر علامہ اقبال کا تحریر کردہ ہے ۔ آج بھی ساری دنیا میں ’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘ کی گونج ہوتی ہے تو ہر ہندوستانی بلا لحاظ مذہب و ملت سرشار ہوجاتا ہے ۔ سائینس و ٹکنالوجی کے میدان میں ہوں یا ملک کو دفاعی اعتبار سے مستحکم کرنے کے معاملہ میں مسلمانوں نے اپنا ذمہ پورا کیا ہے ۔ کیا مسلمانوں کو سرٹیفیکٹ دینے والے یا ان کی حب الوطنی پر سوال کرنے والے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی خدمات سے انکار کرسکتے ہیں ؟ ۔ کیا کھیل کود کے میدان میں محمد اظہر الدین ‘ ثانیہ مرزا اور محمد سمیع کی خدما ت سے انکار کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ کیا جنگ آزادی میں مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا محمد علی جوہر اور دوسروں کی جدوجہد سے نظریں پھیری جاسکتی ہیں۔ کیا اس تاریخی حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ سرزمین ہند پر انگریزوں کے خلاف سب سے پہلی جنگ آزادی شہید ٹیپو سلطان نے شروع کی تھی ؟ ۔ ان سب کے باوجود اگر کوئی مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کرتا ہے تو یہ متعصب ذہنیت اور فرقہ پرستی کی دلیل ہے اور اس طرح کی فرقہ پرستی ملک کیلئے نقصان دہ ہی کہی جاسکتی ہے ۔ اس سے گریز کیا جانا ضروری ہے ۔
جہاں تک حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو حب الوطنی کی سند دئے جانے کی بات ہے تو یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہندوستان ‘ مسلمانوں کا وطن ہے ۔ یہاں کئی صدیوں تک مسلمانوں نے حکومت کی ہے ۔ آج مسلمان یقینی طور پر اقلیت میں ہیں اور ان کو انصاف نہیں مل رہا ہے اس کے باوجود مسلمان ہندوستان کو اپنا وطن عزیز مانتے ہیں اور ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالکل بالاتر ہے ۔ چاہے یہ سند حکومت ہی سے کیوں نہ ملتی ہو۔ آج فرقہ پرست طاقتیں اور تنظیمیں مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ان مخالف مسلم طاقتوں پر قابو پانے کی کوشش کرے ۔ ملک کے پرسکون ہم آہنگی کے ماحول کو متاثر کرنے کی اجازت نہ دی جائے بلکہ ملک بھر میں مسلمانوں کے تاریخی کارناموں کو پیش کرتے ہوئے ان کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے انہیں بھی دور کرنے پر توجہ دی جائے ۔ ساتھ ہی اسے یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ مسلمانوں کی حب الوطنی کسی سند کی محتاج نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT