Monday , June 18 2018
Home / ہندوستان / مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی تجویز دستور کے مغائر

مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کی تجویز دستور کے مغائر

نئی دہلی۔13اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت اور بی جے پی نے آج شیو سینا کے مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے متنازعہ تبصرہ سے دوری اختیار کرلی اور کہا کہ یہ تجویزیں ’’ناقابل قبول ‘‘ اور دستور ہند کے خلاف ہیں ‘ جس کے تحت مذہب کی بنیاد پر اس مسئلہ پر فرق و امتیاز نہیں برتا جاسکتا ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہ

نئی دہلی۔13اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت اور بی جے پی نے آج شیو سینا کے مسلمانوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے متنازعہ تبصرہ سے دوری اختیار کرلی اور کہا کہ یہ تجویزیں ’’ناقابل قبول ‘‘ اور دستور ہند کے خلاف ہیں ‘ جس کے تحت مذہب کی بنیاد پر اس مسئلہ پر فرق و امتیاز نہیں برتا جاسکتا ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت دستور ہند کی پابند ہے جس کے تحت تمام کو مساوی حقوق رائے دہی حاصل ہوں گے ۔ کسی کے ساتھ بھی فرق اور امتیاز کا سلوک نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے مطابق حکومت ہر ایک کے لئے مساوی حقوق کے تحفظ کی پابند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی حق رائے دہی سے محروم کردینے کی تجویز مباحث کا موزوں بھی نہیں بنائی جاسکتی ۔ یہ کسی کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔ دستور اسے قبول نہیں کرتا اور ملک کے عوام بھی قبول نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ حق رائے دہی تمام شہریوں کو دستیاب دستوری حق ہے اور بلالحاظ سماجی اور معاشی موقف ‘ ہر ایک کوحاصل ہے ۔شیوسینا نے کل مسلمانوں کے حق رائے دہی کو سلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تنازعہ کھڑا کردیا تھا ۔ اس پر کئی سیاسی پارٹیوں نے سخت ردعمل ظاہر کرکے شیوسینا پر الزام عائدکیا کہ وہ جذبات بھڑکا کر عوام میں پھوٹ پیدا کررہی ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اقلیتیں بشمول مسلمان ملک کے ویسے ہی شہری ہیں جیسے کوئی اور ہوسکتا ہے ‘ کسی بھی بنیاد پر ان کے ساتھ فرق یا امتیاز نہیں برتا جاسکتا ۔ تنازعہ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ اچھوت پن‘ کا خاتمہ ہونا چاہیئے ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری سریکانت شرما نے کہا کہ شیوسینا قائد سنجے راوت کا یہ شخصی بیان ہے اور بی جے پی نے اس سے دوری اختیار کرلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک دستور کے تحت چلایا جاتا ہے جس میں ہر ایک کو مساوی حق حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اویسی برادران فرقہ پرست سیاست کیلئے مشہور ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری برادری کا حق رائے دہی سلب کرلیا جائے ۔ راوت کے مطالبہ پر تنقید کرتے ہوئے صدر مجلس اسد اویسی نے کہا تھا کہ برسراقتدار پارٹی اس بیان سے بے تعلقی اختیار نہیں کرسکتی کیونکہ وہ شیوسینا کا ایک قائد ہے جو بی جے پی کی حلیف ہے ۔ سی پی آئی نے شیوسینا رکن پارلیمنٹ پر’انتہائی غیردستوری اور غیر ضروری‘ نظریہ رکھنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس موقف کو پوری شدت کے ساتھ مسترد کیا جاتا ہے اور شیوسینا سے مطالبہ کیا کہ ایسے خیالات کی اشاعت سے گریز کریں ۔ پارٹی نے کہا کہ راوت کے خیال میں جیسا کہ انہوں نے اداریہ میں ظاہر کیا کہ یہ مسئلہ نہ صرف سنگین ہوجائے گا بلکہ اس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ صف بندی بھی ہوگی جب کہ سنگھ پریوار کے قائدین پہلے ہی لوگوں کے ذہن میں زہر بھر چکے ہیں ۔ سی پی آئی قومی سکریٹریٹ کے بیان میں اس تبصرہ کو غیر دستوری اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا گیا ۔ لکھنو سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایک مقامی عدالت نے شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت اور مجلس کے اکبر اویسی کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کردینے کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ لکھنو سنیل کمار نے یہ ہدایات سینئر آئی پی ایس عہدیدار امیتابھ ٹھاکر کی درخواست پر جاری کئے جو راوت اور اویسی کے خلاف قانون تعزیرات ہند دفعہ 200کے تحت داخل کی گئی ہے ۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ راوت نے مسلمانوں کا حق رائے دہی سلب کرنے کا مشورہ دیا ہے جب کہ اویسی برادران نے بھی اسی قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے جو ان کے بیانات سے ثابت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT