Tuesday , April 24 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے تعلیم یافتہ ہونا لازمی

مسلمانوں کو دیگر شعبوں میں ترقی کیلئے تعلیم یافتہ ہونا لازمی

کیرالا کے مسلمانوں کی خواندگی دیگر ابنائے قوم کے برابر، نیشنل کانفرنس سے ڈاکٹر کے ٹی جلیل و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 4 نومبر (سیاست نیوز) مسلمان اگر تعلیمی شعبہ میں ترقی کریں تو زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی ترقی آسان ہوجاتی ہے۔ کیرالا جو خواندگی میں سرفہرست ہے۔ اس ریاست کے مسلمان بھی خواندگی میں دیگر ابنائے قوم کے برابر ہیں۔ ایم ای ایس کے بیانر تلے ریاست کیرالا میں اسکولس ؍ کالجس کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اس کی تقلید دوسری ریاستوں کو بھی کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر کے ٹی جلیل منسٹر فار مائناریٹی اینڈ سیلف گورنمنٹ کیرالا نے یہاں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کی دسویں نیشنل کانفرنس کو حیدرآباد کے میٹرو کلاسک گارڈن آرام گھر چوراہا پر مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ کیرالاریاست اپنی قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کیلئے بھی مثالی ہے۔ سیکولرازم کی بات تو ملک بھر میں کی جاتی ہے لیکن صحیح سیکولرازم دیکھنا ہے تو کیرالا ریاست کو دیکھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے تعلیمی حالات اور موجودہ حالات کے تناظر میں تلخ حقائق بیان کئے۔ ڈاکٹر پی اے فضل غفور صدر ایم ای ایس کیرالا نے اپنی تقریر میں مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے کانفرنس کے حوالہ جات سے بتایا کہ 1969ء میں ان کے والد مرحوم نے اس کی بنیاد ڈالی اور کیرالا اور ساؤتھ انڈیا میں یہ سوسائٹی پھیل گئی۔ اب اس کو شمالی ہند میں وسعت دینے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ جناب آصف پاشاہ سابق ریاستی وزیر قانون و چیرمین کانفرنس کمیٹی نے مہمانان کا خیرمقدم کیا۔ مسٹر ٹی پی امیجمد سکریٹری جنرل آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں نیشنل کانفرنس وقفہ، وقفہ سے منعقد کی جاتی ہے۔ حیدرآباد میں 1976ء کی تاریخی کنگ کوٹھی کی کانفرنس کے بعد اس دسویں قومی کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ اس میں دو روزہ پروگرام میں چار سیشن رکھے گئے ہیں اور تعلیمی شعبہ کے مختلف شعبہ جات کا احاطہ کیا جائے گا۔ مسٹر اے کے خان مشیر اقلیتی امور حکومت تلنگانہ نے شرکت کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کا پیام سنایا، جس میں اقلیتوں کیلئے حکومت کے عملی اقدامات اور پروگرامس اسکیمات بالخصوص مائناریڈی ریزیڈنشیل اسکولس کا حوالہ جو ملک بھر میں ایک مثالی ہے، پیش کیا۔ جناب محمد علی شبیر سابق وزیر ایم ایل سی نے اپنی تقریر میں چار فیصد تحفظات مسلم کی تفصیلات پیش کی اور اس کیلئے جو قانونی رکاوٹیں ہوئی اس کا تذکرہ کیا۔ اس موقع پر محمد سلیم ایم ایل سی و صدر وقف بورڈ تلنگانہ، محمد فریدالدین ایم ایل سی، ڈاکٹر ایس اے ہدیٰ شہ نشین پر موجود تھے۔ شرکاء میں جناب ظفر جاوید، جعفر نظام، غلام یزدانی، ڈاکٹر احمداللہ خان، مولانا سعیدالحسینی، صوفی سلطان شطاری، ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد، منظور احمد، خلیل الرحمن، اکبر علی خان، عابد صدیقی، محمد ساجد علی، مولانا حسین شہید، میر اکبر علی خان، احمد مکیش ، پروفیسر مسعود علی خان، شبیر فاروقی اور دیگر موجود تھے۔ خواتین شعبہ کی کثیر تعداد تھی جس میں ڈاکٹر اسماء زہرہ، حسنیٰ پاشاہ، امنہ مرزا نے نگرانی کی۔ ایم ایس فاروق جنرل سکریٹری و کنوینر کانفرنس نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔

 

TOPPOPULARRECENT