Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو سیرت سرور عالمؐ سے جوڑنے کا مشورہ

مسلمانوں کو سیرت سرور عالمؐ سے جوڑنے کا مشورہ

شادیوں کو سادگی سے انجام دینے پر زور، کل ہند مجلس تعمیر ملت کا جلسہ، مولانا ابو طالب رحمانی، آچاریہ پرمور کرشنم جی کا خطاب
حیدرآباد 3 ڈسمبر (سیاست نیوز) محسن انسانیت نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کا ایک ایک پہلو بڑا نمایاں ہے جس کسی نے آپ کی سیرت کو اپنے گلے سے لگایا اور زندگی کے شب و روز آپ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارنے کا فیصلہ کیا تو اُن کی کایا پلٹ جائے گی۔ اس لئے مسلمان اپنے تعلق کو سیرت سرور عالم ﷺ سے جوڑیں۔ صرف اپنے اس تعلق کو ظاہری اور بیرونی نوعیت کا نہ رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار عالم دین مولانا ابو طالب رحمانی نے 68 ویں یوم رحمۃ اللعالمین ﷺ سے کیا جو کل ہند مجلس تعمیر ملت کے زیراہتمام نظام کالج گراؤنڈ پر منعقد ہوا۔ اس جلسہ کی نگرانی جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت نے کی۔ مہمان مقرر مولانا ابو طالب رحمانی نے ’’اخلاق مصطفیٰ اور اُمت رسولؐ‘‘ کے موضوع پر کہاکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ کی سرزمین پر توحید، رسالت اور آخرت کا حسین درس دیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اُس وقت جو امتیازات ایک دوسرے اقوام میں پائے جاتے تھے، اُسے مٹایا اور اُن اقوام میں جو غلط فہمیاں مبتلا تھیں اُس کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ اخلاق و کردار سے دیا اس لئے مکہ کے اطراف و اکناف جو قبائیل آباد تھے آپ کی آمد کی آوازیں اُن کے کانوں سے ٹکرائیں تو انھوں نے نہ صرف اسلام میں داخل ہوئے بلکہ آپ ﷺ کی رسالت کو قبول کیا۔ انھوں نے کہاکہ مسلمانوں میں سماجی بُرائیاں جنم لے رہی ہیں اُس کی ایک لمبی فہرست بتائی اور کہاکہ اس میں اہم مسئلہ جو گھن کی طرح کھائے جارہا ہے وہ بن بیاہی لڑکیوں کا ہے جن کے والدین کے ہاں اتنی دولت نہیں کہ وہ اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں لاکھوں روپئے صرف نام و نمود کے لئے خرچ کریں۔ اگر مسلمان شادیاں اسلامی طور پر سنت نبوی ﷺ کے عین مطابق کریں گے تو اس دور میں ایک نئے انقلاب کے امین بن سکیں گے اور یہ کام سیرت مصطفیٰ ﷺ کو اس سرزمین پر روبہ عمل لاکر ہی پورا کیا جاسکتا ہے۔ آچاریہ پرمور کرشنم جی صدر آل انڈیا سنت سمیتی سری کالکی دھام سنبھل نے مسلمانوں کو یوم رحمۃ اللعالمین کی مبارکباد اور کہاکہ نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام عالموں میں رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اُس رحمت کا حقدار میں بھی ہوں۔ آپ ﷺ نے وطن سے محبت کرنے کا حسین درس دیا اس لئے مسلمان اپنے وطن سے محبت و پیار کیا کرتے ہیں اور ہندوستان جو خوبصورت گلدستے کی طرح ہے مسلمان خوش قسمت ہیں جو یہاں رہ کر امن و بھائی چارگی اور یکجہتی کا پیام بندگان خدا تک پہنچاتے ہوئے عشق رسول ﷺ میں کوئی کسر باقی نہ رکھ رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ملک کسی ایک خاص طبقہ کے لئے نہیں جتنا حق دوسروں کو یہاں ہے اتنا ہی حق مسلمانوں کا بھی ہے ۔ آج جو ماحول مذہب کی بنیادوں پر پیش کیا جارہا ہے اس سے مسلمان نہ گھبرائیں، حکومتیں تو آتی ہیں اور جاتی ہیں، یہ ملک قومی یکجہتی کا ہے اور اُسے ہی فروغ مل کر رہے گا۔ مولانا حامد محمد خان نے کہاکہ حب رسول ﷺ کے بغیر ایمان مکمل نہیں کہلایا جاسکتا۔ انھوں نے کہاکہ رسول کریم ﷺ سے عشق و محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی پسند اور ناپسند کو تسلیم کرنا اور اُس پر قائم رہنے تیار نہیں ہے۔ جناب اقبال احمد انجینئر نے کہاکہ اسلام ایک تحریک ہے اور باطل طاقتیں اسلام اور مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام عائد کررہی ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ انھوں نے کہاکہ صرف حب رسول ﷺ سے بات نہ بنے گی بلکہ ثابت کرنا ہوگا جس طرح صحابہ کرامؓ و تابعین نے کیا تھا۔ جناب محمد ضیاء الدین نیر نائب صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت نے کہاکہ ملک میں وقت آچکا ہے کہ مسلمان آپ ﷺ کے پیام کو بندگان خدا تک پہنچاتے ہوئے ہندوستان کے کشکول میں توحید و رسالت کا ہیرا ڈال دیں۔ اس موقع پر ساوینر کی رسم اجراء جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ کے ہاتھوں انجام پائی۔ جناب محمد خلیق الرحمن صدر استقبالیہ نے خیرمقدم کیا اور خطبہ استقبالیہ پڑھا۔ جناب محمد وہاج الدین صدیقی معتمد عمومی نے تنظیم کی رپورٹ پیش کی۔ قاری محمد عظیم الدین کی قرأت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ اور دوران پروگرام جناب تشکیل انور رزاقی، جناب شاہ نواز ہاشمی اور دیگر نے سرور کائنات ﷺ کی شان میں نعت کا نذرانہ پیش کیا۔ جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت کے صدارتی خطاب کے بعد جناب ساجد عارف کے سلام بحضور خیرالانام ﷺ پر جلسہ اختتام کو پہنچا جس میں شمع محمدی کے پروانوں (مرد، خواتین، نوجوان اور چھوٹے بچوں) کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر یکساں سیول کوڈ کے منصوبہ کو مسترد کرنے اور مسلم پرسنل لاء میں بے جا مداخلت پر قراردادیں پیش کی گئیں۔

TOPPOPULARRECENT