Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو فراہمی تحفظات کیلئے حکومت سے سفارش کا امکان

مسلمانوں کو فراہمی تحفظات کیلئے حکومت سے سفارش کا امکان

آئندہ سال مارچ تک سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ تیار

حیدرآباد۔/25ڈسمبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے مارچ میں حکومت کو رپورٹ کی پیشکشی کی تیاری شروع کردی ہے۔ کمیشن نے ریاست کے 7 اضلاع کا دورہ مکمل کرلیا ہے اور جنوری میں باقی 3اضلاع کے دورہ کا منصوبہ ہے۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق مارچ کے اوائل یا اواخر میں حکومت کو جامع رپورٹ معہ سفارشات پیش کردی جائے گی۔ کمیشن اپنے سروے اور نمائندگیوں کی وصولی کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ مسلمان ہر شعبہ میں نظر کردیئے گئے لہذا انہیں تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ ہی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کی سفارش کمیشن کی جانب سے کی جائے گی تاہم تحفظات کے فیصد کا اختیار حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ یہ معاملہ قانون اور دستور سے متعلق ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو ہر شعبہ میں نظرانداز کردیا گیا جس کے باعث ان کی پسماندگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ تعلیم، معیشت، صنعت اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب انتہائی کم ہے اور تلنگانہ حکومت کے جاریہ تقررات میں اگر تحفظات پر عمل کیا جاتا ہے تو مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔ کمیشن کے مطابق مسلمانوں میں اپنے حقوق کو منوانے کی اہلیت کی کمی ہے جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن آئندہ ماہ اضلاع کھمم ، نلگنڈہ اور کریم نگر کا دورہ کرے گا۔ کمیشن نے اب تک شہر اور اضلاع میں جو نمائندگیاں وصول کی ہیں اور مختلف علاقوں اور اداروں کا دورہ کرتے ہوئے برسرموقع صورتحال کا جائزہ لیا ہے اس کے مطابق مسلمانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ بیوروکریسی اور حکومتوں نے بھی مسلمانوں کو ان کا جائزہ حق نہیں دیا ہے۔ کمیشن مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے نئے تعلیمی اداروں کے قیام اور مفت تعلیمی سہولت کی سفارش کے علاوہ معاشی ترقی کیلئے مختلف نئی اسکیمات اور حکومت کی جانب سے امداد کی فراہمی کی سفارش کرسکتا ہے۔ اسی دوران حکومت نے کمیشن کے قیام کے بعد سے پہلی مرتبہ اخراجات کیلئے 3کروڑ 78لاکھ روپئے جاری کئے ہیں لیکن اس کے خرچ کیلئے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی باقی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان کی تنخواہوں کی اجرائی کیلئے محکمہ فینانس سے رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے گئے جس کے باعث تینوں ارکان تنخواہ سے محروم ہیں۔ 2 ارکان  کو چار ماہ اور ایک رکن کو 8ماہ سے تنخواہ جاری نہیں کی گئی۔ کمیشن کو مزید اسٹاف اور بنیادی سہولتوں جیسے کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور اسٹیشنری کیلئے بجٹ کی ضرورت ہے۔ فی الوقت محکمہ اقلیتی بہبود کسی حد تک اخراجات کی پابجائی کررہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT